عمران خان نے25 مئی کو لانگ مارچ کی کال دے دی

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے میں پوری قوم کو لانگ مارچ کی دعوت دیتے ہوئے 25 تاریخ کو لانگ مارچ کی کال دے دی۔
کور کمیٹی کے اجلاس کے بعدپی ٹی آئی رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفر نس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا صرف تحریک انصاف کے کارکن کو نہیں ساری قوم کو ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو دعوت دے رہا ہے کہ لانگ مارچ میں شرکت کریں، سرینگر ہائی وے پر 25 مئی کو اکٹھا ہوں گے،25 مئی کو 3 بجے ملوں گا، ہم کسی صورت ان چوروں کو تسلیم نہیں کریں گے،ہمارا مطالبہ ہے کہ اسمبلی تحلیل کریں اور الیکشن کا اعلان کریں، صاف شفاف الیکشن کے اعلان سے پہلے اسلام آباد سے واپس نہیں آئیں گے، بار بار کہا جاتا ہے جان کو خطرہ ہے، کوئی خطرہ نہیں،غلام بننے سے بہتر موت قبول ہے۔
انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ تیاری کر لیں، خوف ہے یہ لوگ پٹرول، ڈیزل اور انٹرنیٹ بند کر دیں گےبیورو کریسی نے کوئی غیر قانونی کارروائی کی تو ایکشن لیں گے، پولیس، بیورو کریسی اور فوج سے کہتا ہوں ہم توڑ پھوڑ نہیں کرینگے، 26 سالہ سیاست میں ہم ہمیشہ پرامن رہے ہیں، فوج کو کہتا ہوں نیوٹرل ہیں تو نیوٹرل رہیں۔
عمران خان نے کہا ہمارے خلاف سازش کا آغاز گذشتہ سال جون میں ہوا، یہ سازش میرے خلاف نہیں پاکستان کے خلاف کی گئی، کرپٹ لوگوں کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بنانا توہین ہے،پاکستان کےخلاف سازش امریکانےکی،رجیم چینج کےلیےامریکانےکرپٹ لوگوں کوساتھ ملایا، ہمارے ایم این ایز کو 20،20 کروڑروپےکی آفرکی گئی ،امریکی انڈرسیکرٹری نےہمارے سفیرکو دھمکی دی، دھمکی دی گئی عدم اعتمادمیں عمران خان کونہیں ہٹاؤگےتوآپ کیلئےمشکل ہوگی، کہا گیاعمران خان کو ہٹادیاتوپاکستان کو معاف کردیاجائےگا،یہ سازش میرے نہیں ،پاکستان کےخلاف ہوئی، یہ میری نہیں ، ملک کی توہین کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا ہماری حکومت کوتب ہٹایاگیاجب جی ڈی پی میں اضافہ 6 فیصدتھا، پاکستان بہتری کی طرف جا رہا تھا، کرپشن کاکوئی کیس نہیں تھا،منی لانڈرنگ نہیں ہو رہی تھی،مارےدورمیں کسانوں کےپاس ریکارڈ پیسہ گیا، آئی ٹی ایکسپورٹس میں 70 فیصد اضافہ ہوا، کرپشن نہیں ہورہی تھی، ریکارڈٹیکس جمع کیاجس کی وجہ سےپٹرولیم مصنوعات پرسبسڈی دی ، کوئی محلات نہیں بنارہاتھا، ملک ہر طرح سے آگے بڑھ رہا تھا۔
انکا کہنا تھا ہمیں 20 ارب روپے کا خسارہ ملاتھا، اس بحران سے نکلےتو کورونا آگیا، کورونا کےخلاف ہماری پالیسیوں کو سراہاگیا، کورونا کےدوران لوگوں کوغربت اورملکی معیشت کوبچایا۔ اب روپیہ گرا ہے، اس کا اثر بجلی اور پیٹرول کی قیمت پر پڑے گا، باہر سے منگوانے والی چیزوں پر اثر پڑے گا، بتایا گیا تھا کہ تجربہ کار لوگ ہیں لیکن ان کے پاس نہ منصوبہ ہے اور نہ کچھ کرنےکی ہمت، کوئی روڈ میپ ہے اور نہ پلان، ان کا تجربہ صرف کرپشن کرنے اور کرپشن کیسز ختم کرنے میں ہے۔
