عمران خان پاکستان کیلئے دوسرے مجیب الرحمٰن کیسے بن گئے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان پاکستان کے لیے دوسرے مجیب الرحمٰن بنتے جا رہے ہیں۔ آج عمران وہی غلطی کر رہے ہیں جو شیخ مجیب نے 1971 میں کی تھی۔ مجیب بھی ہر قیمت پر وزیر اعظم بننا چاہتا تھا۔ اس کی اس کوشش نے نہ صرف اسے تباہ کیا بلکہ پاکستان کو بھی تقسیم کر دیا۔ آج بدقسمتی سے ایک بار پھر ہم 1971 کے دہانے پر کھڑے ہیں اور عمران کی ہر قیمت پر اقتدار حاصل کرنے کی خواہش ملک کو ڈبوتی چلی جا رہی ہے۔
اپنے تازہ تجزیے میں جاوید چودھری کہتے ہیں کہ عمران خان کا یہ دعوی تاریخی طور پر غلط ہے کہ شیخ مجیب الرحمٰن محب وطن تھا اور یہ کہ اگر اسے 1970 کے الیکشن کے بعد حکومت بنانے دی جاتی تو پاکستان ٹوٹنے سے بچ جاتا۔ انکا کہنا یے کہ اب تو تاریخی حقائق سے بھی ثابت ہو چکا ہے کہ شیخ مجیب نے 1970 کے الیکشن سے بہت پہلے مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے الگ کرنے کے لیے عسکری جدوجہد شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور اگرتلہ سازش بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اگرتلہ بھارت کی پہاڑی ریاست تری پورہ کا دارالحکومت ہے۔ یہ شہر تین اطراف سے بنگلہ دیش میں گھرا ہوا ہے‘ بنگالی ہر طرف سے اگرتلہ پہنچ سکتے ہیں‘ 1967میں شیخ مجیب الرحمن نے بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے عوامی لیگ میں ایک سپیشل سیل بنایا تھا جس کا کام پاکستان توڑنے کے لیے بھارت کی مدد حاصل کرنا تھا‘ مجیب کی ہدایت پر 1967 میں دو سرکاری ملازم جو کہ لوگ عوامی لیگ کے ممبر بھی تھے اگرتلہ گئے اور بھارتی فوج کے اعلیٰ حکام سے مدد طلب کی۔ بھارت نے انہیں اسلحہ دینے کی پیش کش جب کہ شیخ مجیب الرحمٰن کے نمایندوں نے پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد کا منصوبہ بھارت کے ساتھ شیئر کیا‘ جنوری 1968 میں یہ سازش پکڑی گئی‘ اور پاک فوج نے 1500 لوگوں کو گرفتار کر لیا‘ جس کے بعد شیخ مجیب الرحمٰن بھی گرفتار کر لیے گئے۔
جاوید چوہدری کے مطابق شیخ مجیب کی گرفتاری کے بعد ڈھاکا کنٹونمنٹ میں اگر تلہ سازش کیس چلا جو تین ججز نے سنا جن میں ایک مغربی پاکستان جب کہ دو بنگالی جج تھے‘ ان تینوں ججز نے 35 مجرموں کو سزا سنا دی‘ اس کے بعد بنگلہ دیش میں ہنگامے شروع ہو گئے‘عوامی دباؤ میں آ کر 1969 میں ایوب خان نے شیخ مجیب کو رہا کر دیا‘ ان کے بعد جنرل یحییٰ خان آئے اور 1970 کے الیکشن ہوئے‘ عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں 162 میں سے 160 سیٹیں لے لیں اور اکثریتی جماعت بن کر ابھر آئی‘ یحییٰ خان نے شیخ مجیب کے داغدار ماضی کی وجہ سے عوامی لیگ کو حکومت نہیں بنانے دی‘ مجیب نے 26 مارچ 1971 کو پاکستان سے علیحدگی کا اعلان کر دیا جس کے بعد انھیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور مشرقی پاکستان میں ملٹری آپریشن شروع ہو گیا۔ اس موقع پر بھارت اگتلہ سازش کیس کے عین مطابق میدان میں اتر آیا اور مجیب کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ پاکستان کے 90 ہزار فوجیوں کو ہتھیار ڈالنا پڑے اور ملک ٹوٹ گیا۔ یوں شیخ مجیب الرحمن کی پاکستان توڑنے کی سازش کامیاب ہو گئی۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ عمران خان ملک توڑنے والے شیخ مجیب کو محب وطن کیوں مانتے ہیں۔
جاوید کہتے ہیں کہ عمران خان کا یہ موقف سو فیصد غلط ہے کہ اگر شیخ مجیب کو 1970 کے الیکشن کے بعد حکومت بنانے کا موقع دے دیا جاتا تو پاکستان ٹوٹنے سے بچ جاتا‘ شیخ مجیب نے وزیراعظم بننے کے باوجود بنگلہ دیش بنانا تھا تاہم اس صورت میں وہ مغربی پاکستان کو بھی اپنی ٹانگوں پر کھڑا ہونے کے قابل نہ چھوڑتا مجیب کے وزیراعظم بننے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ 1971 کی جنگ 1973 تک چلی جاتی اور اس کے بعد بنگلہ دیش بھی بن جاتا اور مغربی پاکستان پر بھی بھارت کا قبضہ ہو جاتا‘ ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ جاوید سوال کرتے ہیں کہ اگر شیخ مجیب واقعی محب وطن تھا تو پھر اس نے 1967 میں بھارتی فوج سے اسلحہ اور ٹریننگ کیوں لینا شروع کر دی تھی؟ وہ چپ چاپ جمہوری جدوجہد کرتا رہتا‘ وہ 1970 میں وزیراعظم نہیں بن سکا تو وہ 1972 یا 1973 میں بن جاتا‘ یحییٰ خان کا مارشل لاء بہرحال ختم ہونا تھا اور ملک میں جمہوریت نے بحال ہو کر رہنا تھا‘ آخر مجیب الرحمن کو کیا جلدی تھی؟ دراصل جلدی مجیب کو نہیں بلکہ اندرا گاندھی کو تھی‘ وہ 1967 میں پہلی بار وزیراعظم بنی تھی‘ 1972میں اس کی مدت ختم ہو رہی تھی‘ اس کی کارکردگی اچھی نہیں تھی۔ اس کا خیال تھا وہ شاید دوبارہ منتخب نہ ہو سکے لہٰذااس کی وزارت عظمیٰ کے لیے مشرقی پاکستان علیحدگی اور پاکستان کی شکست ضروری تھی اور اس نے یہ کارڈ کھیلا اور کام یاب بھی ہوگئی‘ بہرحال قصہ مختصر شیخ مجیب پاکستان توڑنے کے بعد بمشکل چار سال زندہ رہے اور انھیں بھارت کی آزادی کے دن یعنی 15 اگست 1975 کو ان کی اپنی فوج نے خاندان سمیت قتل کر دیا‘ ان کی صرف دو بیٹیاں شیخ حسینہ اور شیخ ریحانہ زندہ بچیں‘ یہ دونوں اس وقت یورپ میں چھٹیاں گزار رہی تھیں‘شیخ حسینہ بعدازاں حسینہ واجد کے نام سے سیاست میں آئیں اور اگست 2024 میں 15سال حکومت کے بعد خوف ناک عوامی تحریک کے نتیجے میں فارغ ہو گئیں‘ یہ آج کل بھارت میں پناہ گزین ہیں اور بنگلہ دیش میں 50 سال بعد انڈیا مردہ باد اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہم اگر آج 1971 کی جنگ اور مشرقی پاکستان اور شیخ مجیب کا تجزیہ کریں تو ہم تین نتائج اخذ کر سکتے ہیں‘ شیخ مجیب اور اندراگاندھی کا گٹھ جوڑ تھا‘ اندراگاندھی کو دوسرا الیکشن جیتنے کے لیے ایک میڈل چاہیے تھا اور پاکستان کی شکست سے بڑا میڈل کیا ہو سکتا تھا جب کہ شیخ مجیب الرحمٰن ہر صورت وزیراعظم بننا چاہتے تھے خواہ اس کے لیے انہیں پاکستان ہی کیوں نہ توڑنا پڑ جاتا‘ دوسرا نتیجہ شیخ مجیب جمہوری لیڈر نہیں تھا‘ اس کے اندر ایک منافق شخص چھپا ہوا تھا‘ وہ ایک طرف ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا رہا تھا اور دوسری طرف مکتی باہنی بنا رہا تھا۔ اس نے 1967 میں اگرتلہ میں بھارتی فوج کو دعوت دے دی تھی لہٰذا وہ محب وطن نہیں تھا۔ تیسرا نتیجہ یہنہے کہ شیخ مجیب مشرقی پاکستان میں بہت مضبوط تھا‘ لوگ اس پر اندھا اعتماد کرتے تھے‘ اس نے لوگوں کی محرومی اور خوابوں کو بڑی خوب صورتی سے اپنی سیاست کے لیے استعمال کیا لیکن وہ عملی طور پر ایک نالائق انسان تھا‘ اس کے پاس ملک چلانے کی اہلیت تھی اور نہ ٹیم‘ وہ معاشی لحاظ سے بھی زیادہ ایمان دار نہیں تھا‘ صرف تقریروں سے کام چلانا جانتا تھا لہٰذا جب وہ اقتدار میں آیا تو اس کی ساری قلعی کھل گئی‘ عوام کے حالات بدتر ہوتے چلے گئے اور غربت‘ بے روزگاری اور لاقانونیت میں اضافہ ہوگیا‘ اس نے چن چن کر عثمان بزدار‘ محمود خان اور علی امین گنڈا پور بھی تعینات کر دیے اور انہوں نے بنگلہ دیش کا رہا سہا سٹرکچر بھی تباہ کر دیا‘ ملک کھوکھلا ہو گیا‘ عوام دو تین سال مجیب الرحمٰن کی تقریروں اور پنجابی فوج کے طعنوں کے سحر میں رہے لیکن جب غربت اور کرپشن عوام کے گھٹنوں تک پہنچ گئی تو شیخ مجیب کا بت ٹوٹ گیا اور وہ اپنی ہی فوج کے ہاتھوں مارا گیا اور اس کی ہلاکت پر ایک بھی شخص باہر نہ نکلا اور یوں شیخ مجیب الرحمن تاریخ کے دھارے میں بہہ کر ختم ہو گیا۔
جاوید کہتے یین کہ میں آج جب عمران خان کے منہ سے بار بار مشرقی پاکستان‘ شیخ مجیب الرحمن اور حمود الرحمٰن رپورٹ کا ذکر سنتا ہوں اور پھر 9 مئی اور 28 ستمبر جیسے واقعات دیکھتا ہوں یا علی امین گنڈا پور کے منہ سے ’’لڑو گے‘ مرو گے اور مارو گے‘‘ کے نعرے سنتا ہوں تو میں ڈر جاتا ہوں کیوں کہ تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے مجھے محسوس ہوتا ہے عمران خان بھی وہی غلطی کر رہے ہیں جو شیخ مجیب الرحمٰن نے کی تھی‘ وہ بھی ہر قیمت پر وزیراعظم بننا چاہتا تھا اور اس کی اس سوچ نے اس کو بھی تباہ کر دیا اور ملک کو بھی۔ ہم بدقسمتی سے ایک بار پھر 1971 کے دہانے پر کھڑے ہیں اور عمران کی کرسی کی سوچ ملک کو ڈبوتی چلی جا رہی ہے‘ اللہ ملک پر رحم کرے۔
