عمران خان کسی انجانے خوف اور خدشے کا شکار ہیں؟


عمران خان کی حکومت نے سینیٹ کے الیکشن میں اوپن بیلٹ کے لئے صدارتی آرڈیننس جاری کرکے نہ صرف اپنی بوکھلاہٹ کا اظہار کیا ہے بلکہ اپنی اندرونی کمزوریوں کو بھی بےنقاب کر دیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا یے کہ وزیر اعظم عمران خان اس وقت خان شدید عدم تحفظ اور ایک انجانے خوف کا شکار ہیں۔  سینیئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر اپنے تازہ تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سینیٹ اوپن بیلٹ پر کروانے کے لیے صدر نے دفعہ 186 کے تحت سپریم کورٹ میں دائر کردہ ریفرنس کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر ہی آرڈیننس جاری کر دیا جسے اب آئین کی روح کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ حکومت نے یہ تاثر دیا کہ عدلیہ آزاد اور خود مختار نہیں ہے بلکہ حکومت کی مرضی و منشاء کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔ یہ الزام اس وجہ سے لگایا جا رہا یے کہ جو فیصلہ ابھی سپریم کورٹ کی جانب سے آنا ہے اُسکو پہلے سے ہی ایک صدارتی آرڈیننس کا حصہ بنا دیا گیا ہے جس سے عدلیہ کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ھامد میر نے یاد دلایا کہ تازہ ترین صدارتی آرڈی نینس کے تحت کسی بھی سیاسی جماعت کا صدر یا نمائندہ سینیٹ کے الیکشن میں ڈالے جانے والے ووٹ کو دیکھنے کی درخواست دے سکے گا۔
آرڈیننس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس قانون کا اطلاق اُس صورت میں ہو گا کہ اگر سپریم کورٹ یہ رائے دے دیتی ہے کہ سینیٹ کا الیکشن آئین کی دفعہ 226کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ دوسرے الفاظ میں حکومت چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں تو سیکرٹ بیلٹ چاہتی ہے لیکن ارکانِ سینیٹ کے الیکشن میں اوپن بیلٹ کی خواہاں ہے۔
دوسری طرف اوپن بیلٹ کے لیے جاری کردہ متنازع صدارتی آرڈیننس کو مسترد کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں الگ الگ قراردادیں پیش کردی گئی ہیں اور اسے عدالت میں بھی چیلنج کر دیا گیا ہے۔
سینیٹ سیکرٹریٹ اور قومی اسمبلی سیکریٹیریٹ میں اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے آرڈیننس کا ایک ایسے وقت میں اعلان کیا جبکہ معاملہ عدالت میں ہے اور عدالت عظمیٰ کے روبرو زیر التوا ہے۔ مزید یہ کہ حکومت نے اسی معاملے پر قومی اسمبلی میں 26ویں آئینی ترمیم کا بل بھی پیش کر رکھا ہے۔ پی ڈی ایم میں کی اتحادی اپوزیشن جماعتوں نے اس آرڈیننس کو جاری کرنے کے حکومت کے اقدام کو پہلے ہی مسترد کردیا تھا اور اسے ‘غیر قانونی اور غیر آئینی’ قرار دیتے ہوئے عدالت کو ‘دباؤ میں لانے اور اسے ڈکٹیٹ’ کرنے کی کوشش کو قرار دیا ہے۔ اپنی پیش کردہ قراردادوں میں اپوزیشن جماعتوں نے آرڈیننس کی زبان اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ اسے مشروط بنانے کے حکومت کے اقدام پر بھی اعتراض کیا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ سینیٹ انتخابات میں کھلی رائے شماری سے متعلق صدر۔کا جاری کردہ آرڈیننس سپریم کورٹ کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس اقدام سے یہ اندازہ ہوگا کہ عدلیہ اپنے فیصلوں میں آزاد نہیں ہے، یوں پی ٹی آئی کی حکومت نے ہر ادارے کو متنازع بنا دیا ہے۔ اپوزیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت سپریم کورٹ کو استعمال کرکے حکمران جماعت کے اندر ہونے والے بغاوت کو دبانا چاہتی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ قانونی ماہرین نے بھی صدارتی آرڈیننس کے نفاذ کو ایک ‘مفروضہ قانون’ قرار دیا ہے کیوں کہ سپریم کورٹ نے ابھی تک اس صدارتی ریفرنس کا فیصلہ ہی نہیں کیا ہے جو کہ حکومت نے آئین کے آرٹیکل 226 کی تشریح حاصل کرنے اور سینیٹ انتخابات کے لیے کھلی رائے شماری کے امکان کو تلاش کرنے کے لیے دائر کر رکھا ہے۔ یاد ریے کہ گزشتہ سال نومبر میں وزیر اعظم عمران خان نے شفافیت کو یقینی بنانے، ‘ووٹوں کی تجارت’ اور پیسے کے استعمال کے خاتمے کے لیے خفیہ رائے شماری کے بجائے ‘شو آف ہیںڈز’ کے ذریعہ سینیٹ کے انتخابات کرانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ اپوزیشن نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت یہ سب کچھ اس لیے کر رہی ہے کیونکہ اس کا اپنے قانون سازوں پر کوئی کنٹرول اور اعتماد نہیں ہے اور اسے خدشہ ہے کہ وہ حکمران اتحاد کے حمایت یافتہ امیدواروں کو ووٹ نہیں دیں گے۔ اس وقت سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہے اور حکومت پریشانی کا شکار ہے کیونکہ سینیٹ کی جانب سے متعدد بار قومی اسمبلی کے پاس کردہ قوانین کو مسترد کیا جاچکا ہے۔
آئندہ سینیٹ انتخابات میں اوپن ووٹ کے لیے الیکشنز (ترمیمی) آرڈیننس 2021 جاری کرنے پر اپوزیشن جماعتوں کی سخت تنقید کے دوران وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے واضح کیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس کی حمایت نہیں کرتی تو آرڈیننس فوری طور پر ختم ہوجائے گا۔ وزیراعظم کے مشیر نے بتایا کہ حکومت نے صدارتی آرڈیننس سن سیٹ کلاز کے ساتھ متعارف کروایا ہے جو تب خود ختم ہوجائے گا جب صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اوپن بیلٹ کے خلاف اور سینیٹ انتخابات سے قبل آتا ہے۔ جب پوچھا گیا کہ آرڈیننس ’جلد بازی‘ میں کیوں جاری کیا گیا تو بابر اعوان کا کہنا تھا کہ حکومت اسے 11 فروری سے قبل متعارف کروانا چاہتی تھی جب الیکشن کمیشن پاکستان کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے شیڈول کا اعلان متوقع ہے، اور ایک مرتبہ شیڈول کا اعلان ہوجائے تو پھر الیکشن ایکٹ 2017 میں کوئی بھی ترمیم نہیں کی جاسکتی۔ بابر اعوان نے کہا کہ حکومت نے سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ اور پیسے کے استعمال کے رجحان کو ختم کرنے کے واضح مقصد کے ساتھ آئینی ترمیمی بل پیش کیا تھا لیکن اپوزیشن نے اجلاس کو غنڈہ گردی کرکے خراب کردیا، انہوں نے کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس 3 ہفتوں تک جاری رہا لیکن اپوزیشن نے سینیٹ میں اوپن ووٹ کے خلاف اپنے مؤقف پر جواز پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں ‘۔
دوسری جانب اس پیش رفت سے جڑے ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کا قیمتی مشورہ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی جانب سے پیش کیا گیا تھا اور وزیراعظم عمران خان نے اس کی توثیق کی تھی، یہی نہیں بلکہ وزیر قانون فروغ نسیم نے بھی اس خیال کی حمایت کی تھی۔ ذرائع نے مزید بتایا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں میں سے کسی نے اس خیال کی مخالفت نہیں کی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ کی رائے لینے کی تجویز بھی اٹارنی جنرل کی جانب سے دی گئی تھی۔ علاوہ ازیں اب تک الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے حکومتی قدم پر الیکشن کمیشن مکمل خاموش ہے۔ پارلیمنٹ کے ایوان بالا کی 52 نشستوں پر انتخابات منعقد ہوں گی چونکہ 104 سینیٹ اراکین میں سے نصف 11 مارچ کو ریٹائر ہورہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button