عمران خان کو بنی گالہ میں نظر بند کرنے کا منصوبہ تیار

حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے چیئرمین عمران خان کو بنی گالہ میں ہی نظر بند کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، اس سلسلے میں پولیس کو گرین سگنل دے دیا گیا ہے، عمران خان کو مینٹیننس آف پبلک آرڈیننس قانون کے تحت نظر بند رکھا جائے گا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کارکنوں سے کہہ چکے ہیں کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر قیادت موجودہ مخلوط حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے فیصلہ کن لانگ مارچ کے لیے تیار رہیں، حالیہ دنوں میں ملک کے کچھ اضلاع میں پی ٹی آئی حامیوں اور رہنماؤں نے حلف لیا کہ وہ ’حقیقی آزادی مارچ‘ کے لیے ہر قربانی دیں گے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے پی ٹی آئی چیئرمین کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے قبل گرفتار کرنے کے لیے ’پلان بی‘ بھی تیار کیا ہے، پلان بی کے مطابق اگر وہ خیبر پختونخوا یا پنجاب سے لانگ مارچ شروع کرتے ہیں اور عمران خان نے جنوب سے دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوشش کی تو انہیں روات ٹی کراس پر گرفتار کیا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ اگر انہوں نے شمال مغرب سے دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوشش کی تو پولیس انہیں ترنول میں گرفتار کرنے کے لیے تعینات کی جائے گی۔پولیس حکام کا کہنا تھا کہ عمران خان کی سیکیورٹی پر مامور پولیس ٹیم سابق وزیراعظم کی گرفتاری میں اہم کردار ادا کرے گی۔پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے حفاظتی انتظامات پر کم از کم 50 کروڑ روپے لاگت آنے کا امکان ہے، دارالحکومت پولیس کے مطابق یہ اخراجات مئی میں پی ٹی آئی کے جلسے کو روکنے کے لیے کیے گئے 14 کروڑ روپے سے بہت زیادہ ہیں۔
پولیس، سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے حکام کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں لانگ مارچ کے اعلان کے بعد دارالحکومت کو ایک ہفتے کے لیے مکمل طور پر سیل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، حکام نے بتایا اس ہفتے کے دوران تعلیمی ادارے بند رہیں گے اور امتحانات ملتوی کر دیے جائیں گے۔لانگ مارچ میں شریک مظاہرین کو روکنے کے سلسلے میں دارالحکومت کو بند کرنے کے لیے انتظامیہ نے کم از کم 1100 کنٹینرز کا انتظام کرلیا ہے، احتجاج کے پیش نظر متعلقہ حکام نے مختلف مقامات کی اہم شاہراہوں پر کنٹینرز لگانے کا فیصلہ کیا ہے، کنٹینرز فیض آباد، جی ٹی روڈ، اولڈ موٹروے ٹول پلازہ، نیو مارگلہ روڈ سنگجانی ، فتح جنگ روڈ پر نوگازی مزار، بھڈانہ کلاں، نوگازی فیصل ٹاؤن اور چونگی نمبر 26 پر رکھے جائیں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ آنسو گیس کی شیلنگ کے لیے پہلی بار ہیلی کاپٹر اور ڈرون استعمال کیا جائے گا اور اس سلسلے میں دارالحکومت پولیس کو کم از کم 10 ڈرون فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح لانگ مارچ کا مقابلہ کرنے کے لیے کم از کم 60 ہزار آنسو گیس شیل اور 30 ہزار ربڑ کی گولیوں کا بھی انتظام کیا جا رہا ہے، پولیس حکام نے مزید بتایا کہ امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے سندھ پولیس، رینجرز اور ایف سی کے تقریباً 25 ہزار اہلکار اور افسران تعینات کیے جائیں گے۔
حکام نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد پولیس پی ٹی آئی کے ہمدردوں کو بھی گرفتار کرے گی، وفاقی، پنجاب اور کے پی حکومتوں کے ان عہدیداروں اور حکام کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے جو پی ٹی آئی کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں یا لانگ مارچ میں سیاسی جماعت کی مدد کر سکتے ہیں، نشاندہی کے بعد وفاقی افسران کے خلاف سخت تادیبی اور محکمانہ کارروائی شروع کی جائے گی جب کہ اسی طرح کی کارروائی کی سفارشات صوبوں کو بھی بھیجی جائیں گی۔
اس معاملے پر اسلام آباد پولیس چیف ڈاکٹر اکبر ناصر خان، ہیڈ آف کیپٹل پولیس پبلک ریلیشنز برانچ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ہیڈ کوارٹر اویس احمد اور پولیس پی آر او معاملے پر رد عمل دینے کے لیے دستیاب نہیں تھے، پی آر او نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا لیکن آخری خبریں آنے تک ان کی جانب سے کوئی رد عمل نہیں ملا۔
