عمران خان کو مستقبل میں کون سے سات بڑے خطرات درپیش ہیں؟


جوں جوں مارچ کا مہینہ قریب آ رہا ہے، اپوزیشن کا لانگ مارچ اور سینیٹ کا الیکشن حکومت کے لیے ٹیسٹ کیس بنتے جا رہے ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ کون سا فریق ان ٹیسٹوں میں فیل ہوتا ہے اور دوسرے کو مات دینے میں کامیاب ہوتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سینیٹ کے الیکش میں اپنے اراکین اسمبلی کے لوٹا ہوجانے کے خدشات کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے خفیہ رائے شماری کی بجائے الیکشن اوپن بیلٹ یا شو آف ہینڈز کے ذریعے کروانے کی سر توڑ کوششیں شروع کر رکھی ہیں جن میں ابھی تک انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ ایک جانب تو وزیراعظم نے صدر کے ذریعے سپریم کورٹ میں ایک آئینی پٹیشن دائر کر رکھی ہے جس میں عدالت عظمیٰ سے رائے مانگی گئی ہے کہ کیوں نہ سینیٹ کا الیکشن شفافیت کو برقرار رکھنے کے لئے اوپن بیلٹ سسٹم کے تحت کروایا جائے تاکہ پتہ ہو کہ کونسا اسمبلی ممبر کس امیدوار کو ووٹ دے رہا ہے۔ دوسری طرف حکومت نے قومی اسمبلی میں میں 26 ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کر دیا ہے تا کہ خفیہ رائے شماری کو ختم کرکے اوپن بیلٹ کا سسٹم لایا جاسکے۔ تاہم سینیٹ میں اکثریت نہ ہونے کے باعث حکومت وقت اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔ ہاں اس بات کا امکان موجود ہے کہ سپریم کورٹ اس حوالے سے کوئی ایسا فیصلہ جاری کردے جس سے حکومت کی خواہش پوری ہوجائے۔ لیکن آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس آئینی معاملے پر آخری فیصلہ صرف پارلیمنٹ کر سکتی ہے اور وہ بھی ترمیم کا ذریعے اور یہ کہ سپریم کورٹ صرف اپنی رائے دے سکتی ہے جسکی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔
تاہم کپتان حکومت کی ان کوششوں نے جمہوریت کو شدید دوغلے پن کا شکار کر دیا ہے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ نگار عمار مسعود کے مطابق ایک وہ جمہوریت ہے جس کی مثال ہر وقت خان صاحب کی زبان پر ہوتی ہے، جس میں چھوٹے بڑے سب قانون کے سامنے برابر ہوتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف کڑوا سچ یہ یے کہ جب تک پی ٹی آئی اس خفیہ رائے شماری سے مستفید ہوتے رہی، یہ جائز رہی اور جوں ہی خان صاحب کی حکومت کو یہ خطرہ پیدا ہوا کہ یہی آزمودہ ہتھیار ان کے خلاف استعمال ہونے والا ہے انھیں وہی تصور ِجمہوریت یاد آ گیا جہاں ارکان کی خرید فروخت گناہ تصور کی جاتی ہے۔ یہ وہی سینیٹ ہے جہاں صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد 14 ووٹوں کی برتری کے باوجود ناکام ہوئی اور ایسا صرف خفیہ رائے شماری کی وجہ سے ممکن ہو سکا۔ لیکن اب اچانک خان صاحب کو ’اصلی جمہوریت‘ اور شفافیت کی یاد آگئی، سپریم کورٹ میں بھی درخواست داغ دی گئی، اسمبلی میں بھی قرار داد پیش کر دی گئی، اور شو آف ہینڈز کا قانون لانے کے لیے بہت سارے لوگ سرگرم ہو گئے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ خان صاحب اکثر ایسے معاشرے کا ذکر کرتے ہیں جہاں سب قانون کی نظر میں برابر ہوتے ہیں، جہاں انصاف کا بول بالا ہوتا ہے، جہاں غریب آدمی کو بھی وہی شہری حقوق حاصل ہوتے ہیں جو کسی امیر شخص کو حاصل ہوتے ہیں، ایسا معاشرہ جہاں حکومت اور اپوزیشن مل کر عوام کی بہتری کے لیے کام کرتے ہیں، جہاں اسمبلیاں عوام کی خواہش کی ترجمانی کرتی ہیں، جہاں عوام کے مسائل حل ہوتے ہیں، جہاں ووٹ کو عزت دی جاتی ہے۔ جہاں ایوانِ زیریں اور ایوانِ بالا عوامی مسائل کے حل کے لیے قانون سازی کرتے ہیں، جہاں قیمتوں میں ذرا سے اضافے سے حکومتیں الٹ دی جاتی ہیں، جہاں مزدوروں کی یونین ہوتی ہیں۔ جہاں طلبہ سیاست میں اہم کردار کرتے ہیں،جہاں ہارس ٹریڈنگ گناہ تصور ہوتی ہے، جہاں ارکان کی خرید و فرخت جرم سمجھی جاتی ہے، جہاں ٹیکس امیروں پر لگتا ہے اور پالیسیوں میں غریبوں کو ریلیف ملتا ہے، جہاں جھوٹ بولنا کسی سیاست دان کی سیاست کی موت تصور ہوتا ہے۔
عمار کہتے ہیں کہ یہ وہ تصور ہے جس کا خان صاحب اکثر اپنی تقاریر میں ذکر کرتے ہیں لیکن تصور اور طرزِ عمل میں بہت واضح فرق ہوتا ہے۔ مسٹر یو ٹرن کہلوانے والے اور یو ٹرن لینے کو عظیم لیڈروں کی نشانی قرار دینے والے خان صاحب کا تصورِ جمہوریت ان کے طرزِ حکومت سے بہت مختلف ہے۔ عسکری زورِ بازو کو استعمال کر کے الیکشن جیتنے کو وہ اس طرزِ جمہوریت میں جائز سمجھتے ہیں۔ عمار مسعود کے مطابق اقتدار کی ہوس پوری کرنے کے لیے خان صاحب کے نزدیک کسی چیز کی ممانعت نہیں ہے، کوئی کام برا نہیں ہے، کوئی حیلہ مکروہ نہیں ہے۔ اس جمہوریت میں یوٹرن کو مباح بھی تصور کیا جا سکتا ہے، اسی لیے وہ پٹرول اور اشیائے ضروریات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا بم بھی عوام پر گرانے میں کسی قسم کی عار محسوس نہیں کرتے۔
خان صاحب کے طرزِ جمہوریت اور تصورِ جمہوریت کا یہی فرق سینیٹ کے الیکشن میں خفیہ رائے شماری کے خلاف آئینی قرارداد لانے کا سبب بنا ہے۔ عمار کہتے ہیں کہ جب تک پی ٹی آئی اس خفیہ رائے شماری سے مستفید ہوتے رہی یہ جائز رہی اور جوں ہی خان صاحب کی حکومت کو یہ خطرہ پیدا ہوا کہ یہی آزمودہ ہتھیار ان کے خلاف استعمال ہونے والا ہے انھیں وہی تصور ِجمہوریت یاد آ گیا جہاں ارکان کی خرید فروخت گناہ تصور کی جاتی ہے۔ یہی سینیٹ تھا جہاں ایک مرتبہ چودھری سرور سینیٹ کے رکن بنے تھے، حالانکہ نہ ارکان اسمبلی ان کے ساتھ تھے، نہ مطلوبہ نمبرز میسر تھے، مگر جادو کی چھڑی سے نتیجہ ایسا آیا کہ لوگ سیاست کی ایسی چال پر عش عش کرنے لگے۔ درونِ خانہ ایسی کایا پہلے بھی کئی دفعہ پلٹ چکی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ خان صاحب کو خدشہ کیا ہے؟ عمار مسعود کے مطابق بات واضح ہے۔ انہیں پہلا خطرہ اپنی ہی اتحادی جماعتوں سے ہے کہ وہ ایسے میں ہوا کا رخ دیکھ کر کہیں اور سجدہ ریز نہ ہو جائیں۔
اور انہوں نے اسی خطرے کے پیش نظر پنجاب میں چودھری پرویز الہی کو ممبران پنجاب اسمبلی کے ووٹ پی ٹی آئی کے امیدواروں کے حق میں ڈلوانے کی ذمہ داری سونپی ہے حالانکہ ماضی میں وہ پرویز الہی پر عدم اعتماد کرتے آئے ہیں اور انہیں پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دیتے رہے ہیں۔
دوسرا خطرہ خان صاحب کو اپنی جماعت کے ناراض ارکان سے ہے جو عثمان بزدار کے خلاف گروپس بنا بنا کر مسلم لیگ ن کی قیادت سے چوری چھپے مل رہے ہیں۔ تیسرا خطرہ خان صاحب کو ان خفیہ قوتوں سے ہے جو انہیں دھاندلی کے زور پر اقتدار میں لائیں اور
جن کے سہارے ان کی ناکام حکومت اب تک قائم ہے۔ چوتھا خطرہ خان صاحب کو پی ڈی ایم سے ہے جس نے کہ تمام تر سازشوں کے باوجود 26 مارچ کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ پانچواں خطرہ خان صاحب کو اس عوام سے ہے جو مہنگائی کے سبب روز بہ روز بپھرتی جا رہی ہے اور اپوزیشن کی تحریک ایک میں تیزی آنے کے بعد انکے خلاف سڑکوں پر آ سکتی ہے۔ چھٹا خطرہ خان صاحب کو اپنی جماعت کی اس قیادت سے ہے جو ان کی موجودگی میں تو انکی چوہدری اور خوشامد کی حد کر دیتی ہیں مگر خان صاحب کی پیٹھ پیچھے جماعت کی قیادت کو سنبھالنے کو ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔ آخری خطرہ خان صاحب کو عدلیہ سے ہے چاہے وہ فارن فنڈنگ کیس ہو، یا براڈ شیٹ کی ادائیگی کا معاملہ ہو، چاہے وہ ابراج گروپ کے عارف نقوی پر الزامات ہوں یا آمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ ہو۔ مختصر یہ کہ سینیٹ کا الیکشن کپتان حکومت کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ دیکھیے کون اس ٹیسٹ میں فیل ہوتا ہے اور کون ترپ کی چال سے دوسرے کو مات دینے میں کامیاب ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button