عمران خان کپڑوں کی طرح اپنے بیانیے کیوں بدلتے ہیں؟

سابق وزیراعظم عمران خان یوٹرن کو عظیم لیڈروں کی نشانی قرار دیتے ہیں اور اسی لیے کپڑوں کی طرح بار بار اپنے بیانیہ بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے فالوورز آنکھیں بند کر کے اندھا دھند ان پر یقین کرتے ہیں اور ان کے ہر بدلتے بیانیے کی حمایت کرتے ہیں۔ خان صاحب کے فالورز کی ایک خاص کوالٹی یہ ہے کہ اگر وہ دن کو رات اور رات کو دن بھی کہیں گے تو ان کی یہ بات تسلیم کر لی جائے گی، شاید اسی لیے عمران خان کے بیانیے پر سر دھننے والوں کو عمرانڈوز کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے عمران کے سپورٹرز کو چوتیا کے وزن پر یوتھیا اور قوم لوط کے وزن پر قوم یوتھ بھی کہا جاتا تھا۔

کرکٹ کے میدان میں خود کو بحیثیت آل راؤنڈر منوانے کے بعد جب عمران خان نے بطور وزیر اعظم اقتدار سنبھالا تو لوگوں کو ان سے ڈھیروں امیدیں وابستہ تھیں لیکن افسوس کہ وہ ان امیدوں پر پورا نہ اتر پائے۔ انکے دور حکومت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مہنگائی میں اضافہ ہوتا گیا لیکن خان صاحب عوام کو ‘گھبرانا نہیں ہے’ کا مفت مشورہ دیتے رہے جو پاکستان میں ایک محاورہ بن چکا ہے۔ اس محاورے نے اس حد تک مقبولیت حاصل کر لی ہے کہ اب تو اپوزیشن لیڈر بھی طنزاً اپنے جلسوں اور پریس کانفرنس میں اس کا استعمال کرتے ہیں۔ لالی وُوڈ میں تو ‘گھبرانا نہیں ہے’ نامی ایک فلم بھی بن رہی ہے، جہاں ایک طرف عمران کے خلاف توشہ خانہ کیس زیر سماعت ہے، وہیں دوسری جانب ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر بزنس ٹائیکون ملک ریاض سے ہیروں کا ہار لینے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم جب اس الزام کے حوالے سے عمران خان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اسکا بھی برجستگی سے جواب دیا جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ ایک صحافی نے سوال کیا تھا کہ بشریٰ بی بی پر ملک ریاض سے ہیروں کا ہار لینے کا الزام ہے، آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟ جواب میں عمران نے روایتی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا تھا کہ ‘ہیرے تو بڑے سستے ہوتے ہیں، کسی مہنگی چیز کی بات کرو۔

اس سے پہلے عمران حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے پاکستان سے ائیر بیسز اور اڈے دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن میں نے امریکی مطالبے کو رد کرتے ہوئے ‘ایبسولوٹلی ناٹ’ کہہ دیا تھا۔ عمران خان کا یہ بیانیہ بھی بے انتہا مقبول ہوا اور ضرب المثل بن گیا انہوں نے جلسوں اور تقریبات میں اپنے اس موقف کو دہرانے کے ساتھ حکومت سے برطرفی کے بعد یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کی حکومت ‘ایبسولوٹلی ناٹ’ کا موقف اپنانے پر سازش کر کے ختم کی گئی۔

عمران خان کے چند مشہور نعروں کی بات کی جائے تو ان میں سب سے پرانا نعرہ ‘تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ آچکی ہے’ شامل ہے۔ اسکے بعد جب ان کی حکومت جانے والی تھی تو انہوں نے دھمکی دی تھی کہ میں خطرناک ہوتا جا رہا ہوں’۔ تاہم عمران خس نے خطرناک ہونے کی دھمکیاں تو ضرور دیں لیکن زبانی کلامی گالی گلوچ سے آگے بڑھتے ہوئے عملی طور پر کوئی خطرناک کام نہیں کیا۔

Back to top button