عمران خان کی بینائی کا معائنہ وکیل نہیں ڈاکٹرکرےگا،طلال چودھری

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آنکھ سے کتنا نظر آتا ہے اور ان کی بینائی کتنی متاثر ہوئی ہے، یہ فیصلہ کوئی وکیل نہیں بلکہ ماہر ڈاکٹر کرے گا۔

طلال چودھری نے پارلیمنٹ ہاؤس میں نجی ٹی وی سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی  عمران خان کے وکیل کو کہا گیا وہ اپنے کلائنٹ کی رپورٹ بنائیں، قانون کی حکمرانی کی اس سے بڑی مثال کیا ہوسکتی ہے؟

وفاقی وزیر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی  عمران خان کی بینائی کی کیا پوزیشن ہے یہ فیصلہ وکیل نہیں ڈاکٹرز کریں گے، وکیل فیصلہ نہیں کرسکتا کہ ان کی آنکھ کتنی ٹھیک ہے یا کتنی خراب، کوئی ماہر ڈاکٹر اس کا فیصلہ کرے گا اور ماہر ڈاکٹر کو بھیج دیا گیا ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ جو حکومت کہتی تھی آج اس کی ہر بات کی تصدیق ہوئی ہے، بانی پی ٹی آئی کو علاج کی سہولت مل رہی ہے، ان کو بروقت ہر چیز مہیا کی جاتی ہے۔

طلال چودھری نے کہا کہ پی ٹی آئی ایشو اس لیے بنا رہی ہے ان کے پاس اب اور کوئی کارڑ نہیں رہا، پی ٹی آئی اب ہمدردی کارڑ کھیل رہی ہے، 8 فروری کے احتجاج میں ناکامی کے بعد یہ بانی پی ٹی آئی عمران خان  کی صحت کے پیچھے چھپناچاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے سیاسی مخالف ہیں، ذاتی نہیں، ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اے سی نکالیں گے، کھانا نہیں لانے دیں گے،  بانی پی ٹی آئی کو ہر وہ حق ملنا چاہیے جو قانون میں دیا گیا ہے۔

طلال چودھری نے کہا کہ اس رپورٹ نے یہ ثابت کیا ہے کہ قانون کی حکمرانی ہے،  بانی پی ٹی آئی عمران خان کو وہ سہولتیں دی جارہی ہیں جو کسی اور قیدی کو نہیں دی جاتیں، آپ رپورٹ کا پیرا نمبر 9 اور 12 پڑھ لیں، آپ کو معلوم ہوجائے گا بانی پی ٹی آئی کتنے دن مرغ اور کتنے دن گوشت کھاتے ہیں۔

Back to top button