عمران خان کی ہدایت پر اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں میں سہولت کاری کر رہا ہوں، بیرسٹر سیف

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے دی گئی آخری ہدایت کے مطابق وہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ وہ عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کی رہائی کے خواہاں ہیں اور اس مقصد کے لیے جو بھی ممکن کردار ہوا، وہ ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے روابط کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور وہ ان روابط کو صرف اپنے قائد اور پارٹی کی مدد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

بیرسٹر سیف نے بتایا کہ ان کی عمران خان سے آخری ملاقات گزشتہ برس 4 نومبر کو اڈیالہ جیل میں ہوئی تھی۔ اگرچہ پی ٹی آئی کے اندر سخت مؤقف رکھنے والوں اور مفاہمت کے حامیوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں، تاہم بیرسٹر سیف ان رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جو محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کو ترجیح دیتے ہیں۔

گزشتہ ماہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں بیرسٹر سیف نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اور دفاعی اداروں کے درمیان کشیدگی کسی صورت ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے دونوں فریقین پر زور دیا تھا کہ تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کریں اور مسائل کا پائیدار حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے کے خلاف مسلسل تنقید نہ صرف کشیدگی میں اضافہ کرتی ہے بلکہ حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ وسیع تر قومی مفاد میں نفرت کے خاتمے اور مفاہمت و تعاون کے راستے کو اپنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں، جب ملک شدید معاشی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، اتحاد، اتفاقِ رائے اور یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔

بیرسٹر سیف نے مزید کہا تھا کہ سڑکوں پر تصادم اور باہمی محاذ آرائی سے دشمن قوتیں مضبوط ہوں گی اور اس کا نقصان پاکستان کو ہوگا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کارکنان اور ریاستی اداروں کے اہلکاروں پر زور دیا کہ ایک دوسرے کے خلاف کردارکشی اور اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تنازعات کا واحد اور مؤثر حل بامعنی مذاکرات، صبر اور سیاسی دانشمندی میں مضمر ہے۔

Back to top button