عمران خان کے بعد جاوید میانداد نے بھی یو ٹرن لے لیا


جاوید میاںداد کا شمار پاکستان کرکٹ کے اس دور کے کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جس میں پاکستان کرکٹ ٹیم اپنی صلاحیتوں ، وجاہت اور اسمارٹنس کے سبب دنیا بھر میں پہچانے جاتے تھے- جب ہماری ٹیم سرفراز نواز ، عمران خان ، جاوید میاںداد اور محسن حسن خان کے ساتھ سفید یونیفارم میں گرؤانڈ میں اترتی تھی تو دیکھنے والوں کے دلوں کی دھڑکنیں رکنے لگتی تھیں ۔ ان تمام کھلاڑیوں میں جاوید میاںداد اس لیے مختلف ثابت ہوئے کہ انہوں نے کیرئير کے عروج میں ہی معروف صنعتکار سہگل خاندان کی بیٹی طاہرہ سہگل سے 1980 میں شادی کر لی جو آج دن تک بڑی کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے۔
تاہم اب واقفان حال کا کہنا ہے کہ جاوید میاںداد نے بھی عمران خان کی طرح روحانی یو ٹرن لیتے ہوئے دنیا سے دوری اور دین سے قربت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ سے ان کے گھر والے والے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔کرکٹ کے میدان کے اس شیر نے روحانیت کی دنیا ميں قدم رکھنے کے بعد دنیاوی معاملات سے دوری اختیار کر لی ہے اور دین کی طرف توجہ مرکوز کر لی ہی۔ یاد رہے کہ جاوید میاںداد اس حوالے سے اپنی ساتھی کرکٹر سے مختلف ثابت ہوئے کہ ان پر دولت کی دیوی ہمیشہ سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مہربان رہی- اور اس میں سب سے اہم کردار ان کی محنت کا رہا۔ وہ کرکٹ گراؤنڈ میں ایک جنگجو کی طرح اترتے تھے اور ہر میچ کو جنگ کی طرح کھیلنے کی بجائے لڑتے تھے- یہی وجہ ہے کہ وہ 1973 سے لے کر 1992 تک پاکستان ٹیم کا حصہ رہے اور ٹنڈولکر کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زيادہ ورلڈ کپ میں شرکت کی-
18 اپریل 1986 کا دن کرکٹ شائقین اور خصوصاً بھارت اور پاکستان کے کرکٹ کے شائقین کے لیے اس حوالے سے ناقابل فراموش تھا کہ اس دن صرف ایک انسان نے پاکستان کو ایک ہاری ہوئی جنگ کا تن تنہا فاتح بنا دیا- شارجہ میں ہونے والے اس ون ڈے میچ میں بھارت سے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 245 رنز کا پہاڑ کھڑا کر کے اپنے طور پر یہ میچ جیت لیا تھا- مگر بھارت کی فتح کی راہ میں صرف ایک فرد حائل ہو گیا جس کا نام جاوید میاں داد تھا جس کے آخری بال پر چھکے نے نہ صرف پاکستان ٹیم کو میچ جتا دیا بلکہ اس کے بدلے ان پر ہر جانب سے مہنگے ترین تحائف کی بارش ہو گئی-
جاوید میاںداد کا عمران خان کا تعلق دھوپ چھاؤں جیسا تھا یہ دونوں اگر کبھی آپس میں بہترین دوست نظر آتے ہیں تو کبھی ان دونوں کے درمیاں فاصلے حد سے زيادہ ہو جاتے- ایک زمانے میں جب آصف اقبال کے کپتانی سے ہٹانے کے بعد صرف 23 سال کی عمر میں جاوید میاں داد نے کپتانی سنبھالی تو اس وقت ٹیم کے دیگر سینئیر کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر عمران خان نے جاوید میاںداد کی قیادت میں کھیلنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ کسی جونئیر کی سربراہی میں نہیں کھیل سکتے- مگر عمران خان کی کپتانی میں جاوید میاں داد نے نہ صرف ہمیشہ اپنا بہترین کھیل پیش کیا بلکہ 1992 کے ورلڈ کپ میں ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے-
پچھلے دنوں میں معروف صحافی سہیل وڑائچ نے اپنی ایک تحریر میں انکشاف کیا ہے کہ جاوید میاںداد بھی اپنے دوست عمران خان کی طرح روحانی ہوگئے ہیں۔ سہیل وڑائچ کے مطابق جاوید میاںداد کو داتا دربار میں ایک فقیر ملا اور اس نے جاوید میاںداد کا دامن تھام کر ان سے کہا کہ میرے مرنے کے بعد میری قبر پر مزار تم بنواؤ گے- جاوید میاں داد کو جب اس فقیر کے مرنے کی خبر ملی تو انہوں نے اپنا وعدہ پورا کرنے میں ایک پل نہ لگایا اور اس فقیر کا۔مزار بنوا ڈالا ۔ اسی طرح کا ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے سہیل وڑائچ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک جگہ سے گزرتے ہوئے لاہور کی ایک فیملی نے جاوید میاں داد کے ساتھ تصویر کھنچوانے کی درخواست کی- ان کے ساتھ ایک ذہنی معذور بچہ بھی تھا جس کے ساتھ جاوید میاں داد کسی عجیب زبان میں پندرہ بیس منٹ تک بات کرتے رہے- میرے دریافت کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ دنیا درحقیقت ایسے ہی مجزوبوں کی وجہ سے چل رہی ہے ۔ اس حوالے سے سہیل وڑائچ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان واقعات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کرکٹ کے میدان کے اس شیر نے روحانیت کی دنیا ميں قدم رکھ دیا ہے اور ان کی زںدگی میں بھی عمران خان کی طرح ایک روحانی یو ٹرن آگیا ہے جسکے بعد وہ دنیاوی معاملات سے دوری اختیار کر کے دین کی طرف اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button