عمران خان کے بعد PTIبھی پارلیمانی سیاست سے مکمل مائنس

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کے اعلان کے باوجود سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی پارٹی میں بدلنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ سنی اتحاد کونسل کے پلیٹ فارم پر قومی اسمبلی میں کوئی نشست نہیں، سنی اتحاد کونسل کو الیکشن کمیشن نے گھوڑے کا انتخابی نشان الاٹ کیا تھا لیکن سنی کونسل کے سربراہ صاحبزادہ احمد رضا نے خود اپنا این اے 140 فیصل آباد کا الیکشن آزاد امید وار کی حیثیت سے لڑا تھا اور انہیں مینار کا انتخابی نشان الاٹ ہوا تھا .
قانونی ماہرین کے مطابق سنی اتحاد کونسل سیاسی پارٹی کی تعریف پر تو پورا اترتی ہے لیکن قانونی طور پر قومی اسمبلی میں اس کی کوئی نشست نہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا ہے ،اگر سنی کونسل کی پارلیمانی حیثیت کو تسلیم کیا گیا تو پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اارکان کے ساتھ ایوان میں بڑی پارٹی بن سکتی ہے ۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی اور پنجاب و خیبرپختونخواہ اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کے حصول کیلئے سنی اتحاد کونسل سے اتحاد کا اعلان کیا ہے جو دراصل الحاق کے مترادف ہے۔ دوسری جانب سنی اتحاد کونسل کے نام پر نئی شکل اختیار کرنے والی تحریک انصاف کا موقف ہے کہ وہ وفاق کے علاوہ تین صوبوں میں اپنی حکومتیں بنائے گی اس مقصد کے لئے وزیراعظم اور دو صوبوں کے وزرائے اعلی کے چنائو میں امیدواروں کا اعلان کیا جاچکا ہے جبکہ تیسرے صوبے کے لئے امیدوار کا اعلان ہونا باقی ہے۔ خیال رہے کہ صوبوں اور وفاق میں حکومت سازی کے حوالے سے تحریک انصاف کی قیادت نے دس روز میں چوتھی مرتبہ اپنے موقف میں تبدیلی پیدا کی ہے۔
تاہم مبصرین کے مطابق وزیراعظم اور وزیر اعلی کے انتخابات سے پہلے اسمبلیاں اپنے اپنے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر منتخب کرینگی اگر اس دوران تحریک انصاف اپنا اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر منتخب کرالیتی ہے تو پھر وز یراعظم کسی تردد کے بغیر وہ اپنی صفوں میں آگے لاسکے گی۔ تاہم یہاں یہ واضح رہنا چاہئے کہ تحریک انصاف نے وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے لئے اپنے جن امیدواروں کو نامزد کیا ہے وہ سانحہ نو مئی کے مفرور ملزم یا اشتہاری مجرم ہیں ایک مملکت کے لئے یہ کیونکر ممکن ہوگا کہ ریاست کے مجرم اس کی گردن پر سوار ہو کر حکومت چلائیں جہاں تک دعوئوں کا تعلق ہے تحریک انصاف اس معاملے میں کافی خود کفیل ہے۔ ڈیڑھ سو نشستوں کی دعویدار تحریک انصاف محض پچاس آزاد ارکان کے ڈیکلریشن الیکشن کمیشن کو پیش کرسکی یہ اس تعداد کا نصف ہے جو 8فروری کے انتخابات میں آزاد حیثیت سے منتخب ہوئے تھے۔ اس طرح کے دعوؤں کا بظاہر مقصد یہ ہے کہ تحریک انصاف اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کیلئے اپنے غل غپاڑے میں نئی شدت لائے گی۔
دوسری جانب شراکت اقتدار کے نام پر پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے درمیان بند کمرے کے مذاکرات جاری ہیں جن سے کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد ہونے کی تاحال کوئی اطلاع نہیں ہے پاکستان مسلم لیگ نون کے بڑے مذاکرات کار سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو دو روز قبل اس وقت شکوہ کناں دیکھا گیا جب انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کے ٹھٹھہ میں جلسہ عام سے خطاب پر تبصرہ کیا جس میں انہوں نے عہد کیا کہ مذاکرات کی میز پر ہو نے والی گفتگو کا کوئی حصہ حتمی سمجھوتہ طے پانے تک باہر نہیں لایا جائے گا تاہم بلاول نے واشگاف طور پر کہہ دیا ہے کہ وفاقی کابینہ میں وہ شامل نہیں ہونگے اور ملک کے آئندہ صدر آصف علی زرداری ہونگے۔ تاہم ابھی تک ان دونوں نکات پر کوئی مفاہمت طے نہیں پاسکی کیونکہ پاکستان مسلم لیگ نون اگر حکومت بناتی ہےتو اس ابتدائی مرحلے میں اس کے لئے جس طرح کی مشکلات کھڑی کی جارہی ہیں وہ کیسے یقین کرے گی کہ اگر اہم ترین آئینی مناصب وہ پیپلزپارٹی کو سونپ دے تو اس کی زندگی اجیرن نہیں بنائی جائے گی جہاں تک اسپیکر کے عہدے کا تعلق ہے وہ حکمران جما عت سے ہوتا ہے یہ محض روایت نہیں ایک پارلیمانی ضرورت بھی ہے قرآئن سے یہی پتہ چل رہاہے کہ ملک کے آئندہ صدر کوئی غیر سیاسی شخصیت ہونگے۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کی سوچ میں پایا جانے و الا تفاوت شراکت اقتدار کا فارمولا طے ہونے میں رکاوٹ بن رہا ہے بلاول پاکستان مسلم لیگ نون کو حتمی طور پر اپنی پارٹی کا حریف قرار دے چکے ہیں یہ انداز فکر مفاہمت کے امکان کو ملیا میٹ کردے گا۔تجزیہ کاروں کے مطابق ملک کے سیاسی اور معاشی ماحول میں پیدا شدہ بے یقینی اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ یہ دونوں جماعتیں متحارب ہو کر سوچیں اور معاملات کو آگے بڑھانے میں ایک دوسرے کو دائو لگانے کی حکمت عملی پر کام کریں امکان یہی ہےکہ معاملات کو حتمی شکل دینے کے لئے دونوں جماعتوں کے بڑوں کو مداخلت کرنا پڑے گی جس کے بعد ہی معاملات طے پاسکیں گے۔
