عمران خان کے بھانجے کا وکالت کا لائسنس کیوں منسوخ ہوا؟

پنجاب بار کونسل نے اکثر لڑائی جھگڑے کے واقعات میں ملوث رہنے والے وزیر اعظم عمران خان کے ہتھ چھٹ بھانجے حسان نیازی کا لائسنس معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کہ وجہ حسان نیازی کی جانب سے احاطہ عدالت میں سابق گورنر بلوچستان نواب اکبر بگٹی کی بیوہ شہزادی نرگس سے مار کٹائی کا ایک واقعہ بنا۔
پنجاب بار کونسل کے وائس چئیرمین امجد اقبال نے شہزادی نرگس کے وکیل محمد ایاز بٹ ایڈووکیٹ کی درخواست پر مؤقف سننے کے بعد فیصلہ کرتے ہوئےحسان نیازی کے خلاف کارروائی کی۔ پنجاب بار کونسل کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق حسان نیازی کے خلاف مسلسل بڑھتی ہوئی شکایات پر ان کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا ہے اور معاملہ مزید کارروائی کے لیے پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کو بھجوا دیا گیا ہے۔ پنجاب بار کونسل نے حسان نیازی سے 17 جولائی کو مزید جواب طلب کر لیا ہے جہاں ایگزیکٹو کمیٹی ان کا مؤقف سنے گی۔ قبل ازیں محمد ایاز بٹ ایڈووکیٹ نے حسان نیازی کے خلاف کارروائی کے لیے پنجاب بار کونسل کو درخواست دی تھی اور کہا تھا کہ حسان ایڈووکیٹ نے اہنے ساتھی وکلا کے ہمراہ مجھے اور میری مؤکلہ کو عدالتی احاطے میں تشدد کا نشانہ بنایا۔
وزیراعظم کے بھانجے حسان نیازی نے پنجاب بار کونسل کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مجھے سنے بغیر یک طرفہ مؤقف پر لائسنس معطل کردیا گیا ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں حسان نیازی نے کہا کہ ‘شاہزوار بگٹی کے خلاف توہین کے کیس سے پیچھے ہٹنے کے لیے میرے اوپر شدید دباؤ ڈالا جارہا ہے’۔ معروف تجزیہ کار حفظانِ نیازی کے بیٹے حسان نیازی نے کہا کہ ‘انشااللہ! میں پیچھے نہیں ہٹوں گا’۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے سابق گورنر بلوچستان نواب اکبر بگٹی کی بیوہ شہزادی نرگس کی مدعیت میں وزیر اعظم کے بھانجے حسان نیازی سمیت چار دیگر ملزمان کے خلاف اقدام قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت تھانہ اسلام پورہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں شہزادی نرگس نے مؤقف اپنایا کہ حسان نیازی اور ان کے ساتھیوں نے وکیل کی موجودگی میں ان سے بدتمیزی کی اور پھر جان لینے کی غرض سے ان کا گلا گھنٹنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایف آئی اے لاہور کی جانب سے درج کیے گئے جعلی مقدمے میں ضمانت کے لیے عدالت میں پیش ہوئی تھیں۔ شہزادی نرگس نے کہا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے سامنے پہلے انکا حسان نیازی کے ساتھ سخت جملوں کا تبادلہ ہوا جس کے بعد ملزم نے ان سے بدتمیزی کی۔
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ اس موقع پر وکلا نے مداخلت کی تو حسان نیازی نے اپنے دوستوں کے ہمراہ احاطہ عدالت میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے لاہور پولیس سے سیکیورٹی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خود کو غیرمحفوظ تصور کرتی ہیں کیونکہ ملزم کا ماضی اس طرح کے واقعات سے بھرا ہوا ہے اور وہ لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملے کا بھی مرکزی ملزم ہے جس میں اسے گرفتار تک نہ کیا گیا۔
نواب اکبر بگٹی کی بیوہ کی جانب سے حسان نیازی کے خلاف درج مقدمے میں اقدام قتل، خواتین سے بدتمیزی کرنے اور دھمکانے سمیت چھ دفعات شامل کی گئی ہیں۔ تاہم 10 جولائی کو وزیر اعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کی عبوری ضمانت منظور ہو گئی تھی۔ حسان نیازی نے گرفتاری سے بچنے کے لیے لاہور کی سیشن عدالت میں درخواست ضمانت جمع کروائی تھی جس پر عدالت نے ان کی عبوری ضمانت 19 جولائی تک منظور کرلی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پولیس نے حقائق کے برعکس ان پر مقدمہ درج کیا، وہ تفتیش کا حصہ بننا چاہتے ہیں لہٰذا عدالت عبوری ضمانت کی استدعا منظور کرے۔
