عمران خان کے فون ہیکنگ کا معاملہ متعلقہ فورمز پر اٹھائیں گے

اسلام آباد: پاکستان نے فیصلہ کیا ہے بھارت کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کی ٹیلی فون کالز کی ہیکنگ کا معاملہ متعلقہ فورمز پر اٹھایا جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بتایا کہ ہم ہیکنگ کی تفصیلات کا انتظار کر رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات سے جب سوال کیا گیا کہ کیا یہ معاملہ بھارت کے ساتھ اٹھایا جائے گا جس پر انہوں نے جواب دیا کہ جب تفصیلات موصو ہوجائیں گی تو معاملہ متعلقہ فورمز پر اٹھایا جائے گا۔قبل ازیں ایک ٹوئٹ میں وفاقی وزیر نے ان رپورٹس پر خدشات کا اظہار کیا تھا کہ بھارتی حکومت نے صحافیوں اور سیاسی مخالفین کی جاسوسی کے لیے اسرائیلی سافٹ ویئر کا استعمال کیا۔فواد چوہدری نے کہا تھا کہ اس رپورٹ پر انتہائی تشویش ہے، مودی حکومت کی غیر اخلاقی پالیسیوں سے بھارت اور پورا خطہ خطرناک حد تک پولرائز ہوگیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ بھارت ان ممالک میں شامل ہے جو اسرائیل کی کمپنی کے جاسوسی کے سافٹ ویئر کا استعمال کر رہا تھا، جس کے ذریعے دنیا بھر میں صحافیوں، حکومتی عہدیداران اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے اسمارٹ فونز کی کامیاب نگرانی کی جاتی رہی۔17 میڈیا اداروں کی شائع کردہ تحقیقات میں انکشاف سامنے آیا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کا ایک نمبر بھارت کی فہرست میں شامل تھا۔
واشنگٹن پوسٹ، دی گارجین، لی مونڈے اور دیگر نیوز آؤٹ لیٹس نے ڈیٹا لیک پر تحقیقات میں اشتراک کیا اور اسپائی ویئر ‘پیگاسس’ کے استعمال کے حوالے سے رپورٹ شائع کی۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بھارت میں زیر نگرانی رہنے والے نمبروں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان سمیت سیکڑوں نمبر پاکستان سے تھے۔اخبار کی رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا وزیر اعظم عمران خان کے نمبر کی نگرانی کی کوشش کامیاب رہی یا نہیں۔
بھارتی تفتیشی نیوز ویب سائٹ ‘وائر’ کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں 300 موبائل نمبر استعمال کیے گئے اور اس فہرست میں حکومتی وزرا، حزب اختلاف کے سیاست دانوں، صحافیوں، سائنس دانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے نمبر شامل ہیں۔دوسری جانب وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے اس پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ‘دوسرے حصے میں مودی حکومت کی جانب سے اپنے وزرا کی نگرانی کا انکشاف ہوا ہے، این ایس او فروخت کے لیے بظاہر اسرائیلی حکومت سے منظوری لیتی ہے اور رابطے واضح ہیں۔
قبل ازیں بھارتی حکومت نے 2019 میں اپنے شہریوں کی جاسوسی کے حوالے سے رپورٹس کو مسترد کردیا تھا جبکہ واٹس ایپ نے امریکا میں اسرائیلی کمپنی ‘این ایس او’ کے خلاف جاسوسی کے الزامات پر مقدمہ کردیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ کمپنی سائبر جاسوسی کے لیے واٹس ایپ کا استعمال کر رہی ہے۔
اسرائیل کی کمپنی این ایس او اور اس کا جاسوسی کا نیٹ ورک پیگاسس 2016 سے خبروں میں ہے جب محقیقین نے انکشاف کیا تھا کہ کمپنی، متحدہ عرب امارات میں شہریوں کی جاسوسی میں مدد کر رہی ہے۔اس انکشاف سے پرائیویسی اور حقوق سے متعلق خدشات پیدا ہوگئے تھے اور یہ بات سامنے آئی کہ نجی اسرائیلی کمپنی کے حد سے زیادہ رسائی رکھنے والے سافٹ ویئر کو شاید بین الاقوامی کلائنٹس نے غلط استعمال کیا۔میڈیا کی رپورٹ کے مطابق لیک اسمارٹ فون نمبرز کی تعداد 50 ہزار سے زائد ہے اور خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ 2016 سے این ایس او کے کلائنٹ کے لیے رسائی دی گئی۔
