عمران خان کے ہاتھوں ٹشو پیپر بننے والوں کی داستان


زندگی کی تین دہائیاں ایک پلے بوائے کے طور پر گزار کر اچانک روحانی ہو جانے والے وزیراعظم عمران خان پر اکثر محسن کش ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے تمام عمر لوگوں کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینکتے ہوئے گزار دی ہے، چاہے وہ انکی ذاتی زندگی ہو، کیھل کا میدان ہو یا کارزار سیاست ہو۔
جب عمران خان پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شامل ہوئے تب ان کے کزن ماجد خان دنیائے کرکٹ کے سب سے بڑے سٹار ہوا کرتے تھے لیکن عمران نے سب سے پہلے جاوید میاندار کے ساتھ مل کر اپنے اسی کزن کو ٹیم سے نکال باہر کیا۔ بعد ازاں عمران نے میانداد کے خلاف سازش کی اور اس سے کپتانی چھین لی۔ اس دوران عمران نے کرکٹ ٹیم پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے کتنے ہی بڑے کرکٹ اسٹارز کا کیریئر گل کر دیا۔
کچھ ایسا ہی معاملہ عمران خان نے اپنی ذاتی زندگی میں شادیوں کے حوالے سے روا رکھا ہے۔ جمائما خان ہوں یا ریحام خان، عمران خان نے انہیں بھی استعمال کرنے کے بعد فارغ کر دیا۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ جمائمہ نے عمران کی خاطر اپنا گھر بار اور خاندان تک چھوڑ دیا لیکن خان نے اس کے ساتھ وفا نہ کی۔ یہ بات تو خود عمران بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ان دونوں کی طلاق کی وجہ وہ خود تھے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ جمائمہ خان کے ساتھ ہوا جس نے اپنے مجازی خدا کی بے وفائی کے بلیک بیری ثبوت حاصل کرنے پر وضاحت مانگی تو اسے طلاق دے دی گئی۔ عمران خان اور جمائما کی طلاق کے متعلق ریھام خان اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ ’’عمران خان نے اپنی ’پیرنی‘ کے کہنے پر جمائما کو طلاق دی۔ بعد ازاں خان صاحب نے اسی پیروی کو طلاق دلوا کر شادی کر لی۔
ریحام اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ عمران خان نے مجھے ایک بار بتایا کہ ’جمائما طلاق سے پہلے کے آخری مہینوں میں بہت زیادہ خوداعتماد ہو گئی تھی۔ ہم کچھ عرصے سے الگ رہ رہے تھے، وہ لندن میں رہتی تھی اور میں بنی گالہ میں۔ وہ طلاق سے قبل شادی کو آخری موقع دینے کے لیے بنی گالہ آئی، تاہم مجھے پیروں کی جانب سے پہلے ہی اسے طلاق دینے کا کہہ دیا گیا تھا۔ عمران کے مطابق کسی نے جمائما کو بتایا تھا کہ میرا بنی گالہ کے قریب ہی رہنے والی کسی عورت کیساتھ تعلق چل رہا ہے۔ میرے خیال میں وہ اس وجہ سے حسد میں مبتلا تھی اور شاید اسی لیے پاکستان آئی تھی لیکن جلد ہی وہ واپس لندن چلی گئی اور اپنی سماجی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ریحام کے مطابق عمران نے انہیں مذید بتایا کہ حالاں کہ مجھے پہلے ہی پیرون کی جانب سے جمائما کو طلاق دینے کا کہا جا چکا تھا لیکن میں شاید ابھی پوری طرح اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ تاہم اسی دوران جمائما اور ہف گرانٹ کی تصاویر ایک میگزین میں شائع ہوئی جن کو دیکھ کر میرے پاس طلاق دینے کا سوا کوئی چارہ باقی نہ رہا۔ خان کا کہنا تھا کہ میں یہ تصاویر میگزین میں شائع ہونے سے چند ہفتے پہلے ہی خواب میں دیکھ چکا تھا۔ لیکن جب یہ شائع ہوئیں تو میں نے اس کے متعلق جمائما کی والدہ سے بات کی۔ اس کے تین ہفتے بعد میں نے جمائما کو طلاق دے دی۔ مختصر یہ کہ جمائما نے اپنا تن من دھن صرف کہنے کو ہی نہیں بلکہ سچ میں عمران کے لیے تیاگ دیا لیکن خان نے اپنے ”عظیم مقصد“ کے لیے اسے بھی قربان کر دیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اگر سیتا وائٹ، عاشہ گلالئی، ماروی میمن، عندلیب عباس، عظمی کاردار وغیرہ کو اس فہرست میں شامل نہ بھی کریں تو خان کی زندگی ایسے افراد سے بھری پڑی ہے ، جنہیں اس نے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا اور پھر پھینک دیا۔
ہارون الرشید وہ صحافی ہیں جنہوں نے 15 برس ایک درباری کی طرح عمران خان خان کا راگ الاپا۔ ان کے کالم اٹھا کر دیکھیں، لفاظی کی ملمع کاری میں خان نے یہ کہا، خان نے وہ کہا، ہی ہوا کرتا تھا۔ بقول ہارون رشید، عمران کو عروج تک پہنچانے میں جن دس لوگوں کا کردار تھا، وہ ان میں سے پہلے تین افراد میں آتے رھے، مگر خان وزیراعظم بنے تو تقریب حلف برداری کے ہارون الرشید کو دعوت تک نہیں دی۔ مرھوم نعیم الحق ایک اور نام ہے جس نے ہر سرد و گرم میں عمران خان کا ساتھ دیا مگر جب وہ بیمار ہوئے تو ان کی رہائش گاہ پر قبضے کے لیے انہیں دھوکے سے نکال کر کراچی بھیج دیا گیا۔ یہ ایسے وقت میں ہوا جب خان خود وزیراعظم تھے۔ لیکن نعیم کے جنازے میں شریک نہ ہو کر عمران خان نے ایک دنیا کو حیران کیا۔ پی ٹی آئی کے بانی رکن جسٹس ریٹائرڈ وجہیہ الدین احمد پارٹی کا سب سے معزز چہرہ تھے مگر خان نے ان کو بھی بے آبرو کر کے نکالا، زیادہ دور کیا جانا اپنے قریبی رشتہ دار اور سگے بہنوئی نیازی کے ساتھ جو انہوں نے کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
عمران نے تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کو ضرورت سے زیادہ ایمانداری کی پاداش میں فارغ کر دیا، معروف قانون دان اور بانی رکن حامد خان کو عمران اصولی اختلاف کرنے پر فارغ کر دیا گیا۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ جہانگیر ترین ہی تھا جس نے خان کو دل کھول کر پیسہ دیا تاکہ وہ کھل کر سیاست کر سکیں۔ خان کا اے ٹی ایم کہلانے والے جہانگیر ترین نے الیکشن سے قبل ڈھونڈ ڈھانڈ کر الیکٹیبلز اور الیکشن کے بعد آزاد منتخب ارکان کو پارٹی کا حصہ بنایا۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب آسمان پہ اڑتے جہاز کو دیکھ کر انصافی نعرہ لگاتے کہ وہ ترین ایک اور ممبر اسمبلی کو بنی گالہ لے کر جا رہا ہے۔ عمران خان خود تسلیم کرتے ہیں کہ اگر ترین نہ ہوتے تو وہ 2018 کے الیکشن میں نہ تو کامیاب ہو سکتے اور نہ ہی اس کے بعد حکومت بنا سکتے۔ لیکن آج وہی ترین تحریک انصاف سے انصاف مانگنے پر مجبور ہو چکا ہے اور بغاوت پر اتر آیا یے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ خان کی ٹشو پیپر والی فہرست میں ایک اور نام کا اضافہ ہو چکا ہے اور ترین بھی جانتے ہیں کہ خان نے انہیں استعمال کرنے کے بعد ڈمپ کر دیا ہے۔ مگر وہ ایک کاروباری آدمی ہیں، وہ سیاسی نہیں کاروباری بن کر فیصلے لیں گے۔ اس کا آغاز انہوں نے اپنے گروپ کے درجنوں ممبران صوبائی و قومی اسمبلی کو اپنی رہائش گاہ پہ اکٹھا کر کے کر دیا ہے۔ اب وہ ان ممبران کا سودا کرنے کی کوشش کریں گے اور یقیناً معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک جانے سے پہلے ہی کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا۔ لیکن یہاں سوچنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ پاکستان کی مروجہ سیاست دراصل استعمال کرنے یا کیے جانے کا ہی دوسرا نام ہے اور عمران خان یہ کام بخوبی جانتے ہیں۔ عمران خان کے استعمال شدہ افراد کی ایک لمبی فہرست دیکھنے کے بعد کیا عمران کے ناقدین اب بھی اسے نو آموز سیاست دان کہیں گے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button