عمران ضمنی الیکشن سے بچنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے اسمبلیوں میں واپس جانے کا شوشہ اس لئے کھڑا کیا جا رہا ہے کہ عمران خان اس وقت آٹھ حلقوں سے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کی بجائے اپنے لانگ مارچ پر فوکس کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران کسی بھی صورت شہباز شریف کی وزارت عظمی میں قومی اسمبلی واپس نہیں جانا چاہیں گے، کیونکہ ایسا کرنے سے ان کا امپورٹڈ حکومت کا بیانیہ اڑ جاتا ہے۔ دوسری جانب انکے پاس وقت کم ہے اور مقابلہ سخت اور وہ اپنا لانگ مارچ مذید التوا میں نہیں ڈال سکتے۔ لیکن ضمنی الیکشن بھی اکتوبر میں ہونے جا رہے ہیں، ایسے میں عمران یا تو الیکشن میں حصہ لیں اور یا پھر لانگ مارچ کریں۔ لہذا یہ منصوبہ بنایا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر کے ان 10 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے واپس دلوائے جائیں جنکی منظوری کے بعد ضمنی الیکشن کا اعلان ہو چکا ہے۔ اگر 10 مستعفی اراکین کو قومی اسمبلی واپس جانے کی اجازت مل جاتی ہے تو ضمنی الیکشن بھی منسوخ ہو جائیں گے اور عمران کی مشکل آسان ہو جائے گی۔ جیو ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے حامد میر کا کہنا تھا کہ اگر 10 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے واپس نہیں ہوتے اور عمران ضمنی الیکشن میں کچھ سیٹوں پر ہار جاتے ہیں تو اس سے ان کی حکومت مخالف تحریک اور مقبولیت کا بیانیہ بری طرح متاثر ہوگا۔
لہذا اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن ڈالکر ضمنی الیکشن سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور ہونے اور ضمنی الیکشن کے اعلان کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بھی کیس کی سماعت کے دورن تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر پر واضح کیا تھا کہ اس معاملے میں عدالت سپیکر کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتی کیونکہ یہ اس کا دائرہ اختیار نہیں۔ چیف جسٹس نے علی ظفر کو پانچ دن دیتے ہوئے کہا کہ آپ سوچ کر بتائیں کہ کیا تحریک انصاف کے اراکین واقعی واپس آنا چاہتے ہیں یا صرف سیاسی کھیل کھیلنے کی کوشش رہے ہیں۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کی جانب سے جمع کرائے گئے استعفوں میں سے دس اراکین کے استعفے منظور کر لیے تھے جن پر ضمنی الیکشن ہونے جا رہا ہے۔ ایسے میں ان 10 اراکین نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر کے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے استعفے ایک سیاسی چال تھے اور وہ اپنی سیٹیں نہیں چھوڑنا چاہتے، لہذا یا تو تحریک انصاف کے تمام اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے جائیں اور یا پھر ان کے استعفے بھی واپس لے جائیں۔
سیاسی تجزیہ کار اس عجیب و غریب موقف کو عمران کے ایک اور بڑے یوٹرن سے تعبیر کر رہے ہیں کیونکہ استعفے دیتے وقت کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی اراکین ایک امپورٹڈ وزیراعظم کی موجودگی میں اسمبلی کا حصہ نہیں بنے گی۔ تاہم تب عمران کو یقین تھا کہ ان کی تحریک کے نتیجے میں فوری الیکشن کا انعقاد ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہو پایا اور اب عمران خان دوہری مشکل کا شکار ہو چکے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں استعفوں کی منظوری کے خلاف پٹیشن اور بیرسٹر علی ظفر کے دلائل کو دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں واپس جانے کا آپشن کھلا رکھا ہوا ہے۔ تاہم اس دوران چونکہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کر کے حکومت کو مستعفی ہونے پر مجبور کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، اس لئے عمران خان یا پارٹی کے نمائندے اسمبلی واپس جانے کے بارے میں کھل کر اظہار خیال نہیں کرنا چاہتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کے جن ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور ہو گئے ہیں اور انہیں رکنیت سے محروم کر دیا گیا ہے، وہ بھی کسی بھی صورت اب رکنیت بحال کروانا چاہتے ہیں تاکہ اگر پارٹی اسمبلی میں واپس جانے کا تہیہ کر لے تو اس کے تمام ارکان ایک بڑے پارلیمانی گروہ کی صورت میں اسمبلی میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرسکیں۔
لگتا ہے تحریک انصاف بھی موجودہ سیاسی منظر نامہ کی اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہے کہ قومی اسمبلی میں واپس جائے بغیر موجودہ سیاسی تعطل کا کوئی قابل قبول حل تلاش کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ عمران خان دعویٰ بھی کرتے ہیں اور شاید وہ اس گمان میں بھی مبتلا ہیں کہ وہ اس بار اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کر کے سیاسی منظر نامہ تہ و بالا کر سکتے ہیں۔ تاہم عمران لانگ مارچ کے ذریعے نئے انتخابات کا جو مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، کسی مضبوط اور قابل قبول سیاسی معاہدہ کے بغیر اسے حاصل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔
آئینی اور قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ بالفرض شدید عوامی دباؤ کی وجہ سے اگر شہباز شریف استعفی ٰ دے بھی دیں تب بھی تحریک انصاف کی عدم موجودگی میں عبوری حکومت اور وزیر اعظم اور کابینہ کے قیام کا فیصلہ موجودہ وزیر اعظم تحریک انصاف کے ایک منحرف رکن راجا ریاض کے ’مشورے‘ سے ہی کریں گے کیوں کہ اسپیکر قومی اسمبلی انہیں اپوزیشن لیڈر تسلیم کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کو اتحادی حکومت کے ترمیم شدہ انتخابی قانون کے تحت موجودہ الیکشن کمیشن کے زیر انتظام ہی انتخابات میں حصہ لینا پڑے گا جس کے چیف الیکشن کمشنر کو عمران کسی بھی صورت قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
عمران خان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا، نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے ایجنٹ ہیں۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو لانگ مارچ کا جو واحد مقصد یعنی الیکشن بتایا جاتا ہے، اسکے منظور ہونے کے باوجود عمران کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا اور انہیں سکندر سلطان راجہ کی موجودگی میں ہی نے الیکشن میں حصہ لینا ہو گا۔ عمران کو یہ صورت حال کسی طرح قبول نہیں ہوگی۔ تاہم حکومت سے محروم ہونے کے بعد اس صورت حال کو تبدیل کروانے کا راستہ پھر بھی قومی اسمبلی سے ہی ہو کر ہی گزرتا ہے۔ لہٰذا یہ امکان موجود ہے کہ عمران کسی مرحلے پر عدلیہ کے مشورے کو عذر بنا کر قومی اسمبلی میں واپس جانے اور اپنا تھوکا ہوا چاٹنے کا فیصلہ کر لیں۔ ویسے بھی بقول عمران خان، یوٹرن لینا تو عظیم لیڈر کی نشانی ہوتی ہے۔
