عمران غیرملکی دوروں میں شہباز سے بھی بڑے وفد لیکر گئے

وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر اعظم بننے کے بعد عمرہ ادائیگی کے لیے سعودی عرب کے دورے کا پروگرام کیا بنایا، سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا اور پی ٹی آئی کی جانب سے رنگ برنگے الزامات عائد ہونا شروع ہوگئے۔ تاہم ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ عمران خان بطور وزیراعظم اپنے ساتھ شہباز شریف سے بڑے وفود لے کر گئے تھے۔ شہباز شریف وزیر اعظم بننے کے بعد کسی ملک کا پہلا دورہ کر رہے ہیں، وزیر اعظم اور ان کے ہمراہ جانے والے افراد عمرہ بھی ادا کریں گے۔ چنانچہ تحریک انصاف نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا کر دیا اور یہ دعویٰ کیا کہ اس دورے کے لیے پی آئی اے کا ایک جہاز بُک کیا گیا ہے، تاہم یہ خبر بعد میں غلط ثابت ہوئی اور حکومت نے اس کی پر زور تردید کر دی۔ حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ شریف فیملی کے افراد اپنے اخراجات خود برداشت کریں گے اور وزیراعظم کے ساتھ سعودی عرب جانے والے تمام اراکین اسمبلی بھی اپنی ٹکٹ کے پیسے خود ادا کریں گے۔
دوسری جانب معروف تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ کی ایک رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے وفود شہباز شریف کے وفد سے کہیں بڑے ہوتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر سابق وزیراعظم عمران خان کے سعودی عرب کے دوروں میں وفد کا حجم دیکھیں تو یہ ریکارڈ تعداد میں تھے، سابق وزیراعظم کے وفد میں زیادہ سے زیادہ 44؍ افراد جا چکے ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز کے ساتھ اتحادی جماعتوں کے 8 رہنما ہوں گے۔ اگر وزیراعظم کے ملٹری سیکریٹری، چیف سکیورٹی افسر اور پرسنل اسٹاف افسر کو بھی شامل کیا جائے تو مجموعی طور پر وفد میں 12 لوگ ہوں گے۔
دودری جانب اگر عمران خان کے دوروں کے ساتھ تقابل کیا جائے تو اپنے پہلے دورے میں عمران خان 18 افراد کو ساتھ لیکر گئے تھے۔ وزیراعظم کی حیثیت سے عمران خان نے ستمبر 2018ء سے لے کر نومبر 2021ء تک 15 ممالک کا دورہ کیا۔ وزارت خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق، تعداد کے لحاظ سے عمران کے سعودی عرب کے دورے بھی زیادہ تھے اور ان میں جانے والے لوگ بھی زیادہ تھے۔ ستمبر 2019ء سے اکتوبر 2021ء تک وزیراعظم نے 31 دورے کیے، قومی خزانے پر ان دوروں کی وجہ سے 20 کروڑ روپے کا بوجھ پڑا۔ سب سے زیادہ دورے انہوں نے 2019ء میں کیے جبکہ 2020ء میں سب سے کم دورے کیے۔
سعودی عرب کے بعد دوسرے نمبر پر زیادہ دورے چین اور متحدہ عرب امارات کے کیے۔ عمران خان نے دونوں ملکوں کا تین تین مرتبہ دورہ کیا۔ عمران خان 2018ء میں دو مرتبہ، 2019ء میں چار مرتبہ اور 2021ء میں دو مرتبہ سعودی عرب گئے۔ آخری دورے میں وہ جدہ گئے تھے جہاں ان کے ساتھ وفد میں 44 لوگ شامل تھے اور یہ سب سے بڑا وفد تھا جو ان کے ساتھ گیا تھا۔ وزارت کی جانب سے ان 44 افراد کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔ سابق وزیراعظم کے آخری دورہ سعودی عرب سے قبل کے دورے میں بھی 39 افراد ساتھ گئے تھے۔ عمران خان تین مرتبہ چین گئے، دو دورے چار روزہ تھے اور ایک تین روزہ تھا۔ انہوں نے پہلا دورہ نومبر 2019ء میں کیا، عہدہ سنبھالنے کے تین ماہ سے بھی کم وقت میں انہوں نے 2019 میں کئی دورے کیے۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کے تین دورے کیے۔ یہ تمام دورے ایک دن سے بھی کم وقت کے تھے اور 2019ء میں کیے گئے۔ ایک دن سے کم وقت کے دورے کی بات کریں تو عمران نے سعودی عرب کا ایک دورہ کیا تھا جس میں ان کے ساتھ 10 لوگ گئے تھے، جو سب سے چھوٹا وفد تھا۔ دیگر ایسے دورے جن میں عمران نے ایک دن سے بھی کم وقت لگایا، وہ ایران، قطر اور بحرین کے دورے تھے۔ امریکا، ملائیشیا، سوئٹزر لینڈ، ایران اور قطر کے دورے دو دو مرتبہ ہوئے۔ عمران کے امریکا جانے کی وجہ ایک مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات اور دوسری مرتبہ اقوام متحدہ کا دورہ تھا، وہ ملائیشیا مہاتیر محمد سے ملنے گئے جبکہ سوئٹرزلینڈ وہ عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کیلئے گئے تھے۔ انکے قطر کے دونوں دورے ایک دن سے بھی کم وقت کے تھے۔ انہوں نے ایک ایک مرتبہ ترکی، کرغزستان، ازبکستان، تاجکستان، سری لنکا اور افغانستان کا بھی دورہ کیا۔ چنانچہ ان حقائق کی روشنی میں تحریک انصاف کے حامیوں کا شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب پر تنقید کرنا منطقی نظر نہیں آتا۔
