عمران فاروق کے قاتل موت سے بچ جائیں گے

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما عمران فاروق کے قاتلوں کو سزائے موت ہونے کے امکانات ختم ہوگئے، سزائے موت نہ دینے کی یقین دہانی پرہی برطانیہ نے پاکستان کو کیس کی تمام شہادتیں دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں برطانیہ تمام شواہد پاکستان کو دینے کیلئے رضا مند ہوگیا۔عمران فاروق قتل کیس میں برطانیہ کےپاکستان کو شواہد دینے پر رضامند ی بارے اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا، عدالت نےشواہد کے بعد دو ماہ میں ٹرائل کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران فاروق قتل کیس سے متعلق سماعت ہوئی، چیف جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے برطانوی سنٹرل اتھارٹی کی منظوری کا خط پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ برطانیہ پاکستان کو شواہد دینے کے لیے رضامند ہے، جس پر عدالت نے شواہد پیش کرنے کی درخواست مسترد کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے برطانیہ سے شواہد حاصل کرنے کا وقت دیتے ہوئے اس کے بعد ٹرائل دو ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا، ٹرائل کورٹ نے شواہد حاصل کرنے کا وقت دینے کی ایف آئی اے کی جانب سے دائر درخواست مسترد کی تھی جس پر ایف آئی اے نے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
50سالہ ڈاکٹر عمران فاروق 16 ستمبر 2010 کو لندن میں اپنے دفتر سے گھر جارہے تھے کہ انہیں گرین لین کے قریب واقع ان کے گھر کے باہر چاقو اور اینٹوں سے حملہ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ حملے کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے، انہوں نے سوگواران میں اہلیہ اور دو بیٹوں کو چھوڑا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان کی موت چاقو کے حملے کے نتیجے میں آنے والے زخموں کی وجہ سے ہوئی تھی۔ ایف آئی اے نے 2015 میں عمران فاروق کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شبہ میں بانی متحدہ اور ایم کیو ایم کے دیگر سینئر رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔اسی سال محسن علی سید، معظم خان اور خالد شمیم کو بھی قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک اور ملزم کاشف خان کامران کی موت ہو چکی ہے۔
