عمران محسن کش نکلا اور اس کو بھی گالیاں دیں

وزیر دفاع خواجہ آصف نے تحریک انصا کے چیئرمین عمران خان  کو تنقید کا نشانہ ہوئے کہا ہے کہ اس شخص (عمران خان) نے دنیا میں اپنی کسی محسن کو نہیں چھوڑا اور جنرل باجوہ اس کا محسن تھا مگر یہ محسن کش نکلا اور اس کو بھی گالیاں دیں۔

سیالکوٹ میں ورکزز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے کہا منصوبہ سازوں نے طے کرلیا تھا کہ عمران خان کو ریاستِ پاکستان پر مسلط کرنا ہے،عمران خان پاکستان پر نازل نہیں ہوا مگر 2011 اور 2018 کے درمیان منصوبے کے تحت اس شخص کو لانچ کیا گیا، اس شخص کو لانچ کرنے کے بعد تباہی کو روکنے کے لیے ہماری گزشتہ حکومت نے کوشش کی اور ریاست، سیاست اور معاشرے کی تعمیر نو کی بنیاد رکھی لیکن منصوبہ سازوں نے طےکرلیا تھا کہ اس شخص کو ریاست پر مسلط کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے آٹھ ماہ سے ہم اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح معیشت کو سنبھال لیا جائے اور مہنگائی سے جان چھڑائی جائے اور شہباز شریف سمیت تمام اتحادی قیادت بھی اس کے لیے دن رات محنت کر رہی ہے،برطانیہ میں شہباز شریف کو انصاف ملا مگر یہاں عمران خان نے انہیں کال کوٹھری میں بند رکھا اور دو بار قید کرنے کے بعد تیسری بار قید کرنے جا رہا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس سے اقتدار چھین لیا، عمران خان نے انصاف کے راستے بند کرکے اپنے مخالفین کی زمین تنگ کردی تھی اور ہم پر الزام عائد کرتا تھا کہ یہ ڈاکو اور چور ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے کرم سے دنیا کی عدالتوں سے سرخرو ہو رہے ہیں۔

انکا کہناتھا اس وقت عمران خان پر جو الزامات لگ رہے ہیں وہ آنے والے دنوں میں اپنے ’مرشد‘ کے ذمہ ڈال دے گا کیونکہ اس نے اپنے محسن جنرل باجوہ کو بھی گالیاں دیں،یہ ایک تجربہ تھا جس کو لانچ کیا گیا اور کامیاب کرنے کے لیے پوری کوشش کی گئی لیکن وقت و حالات اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ تباہی کا تجربہ تھا، یوتھیے کہتے ہیں کہ عمران خان خود ایماندار ہے مگر سب سے بڑا چور تو وہ خود ہے بلکہ وہ تو جیب کترا ہے جس نے اپنی جیب میں کبھی پرانے روپے کا نوٹ تک نہیں رکھا۔

وزیر دفاع  نے کہا کہ جس رات مجھے کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا تو درجہ حرارت 6 سینٹی گریڈ تھا جس میں صرف دو کمبل دیے گئے تھے اور رات کو 12 بجے شہباز شریف نے گرم پانی کی بوتل دی اور کہا کہ پاؤں کے قریب رکھ لیں اس سے سردی سے کچھ بچت ہو جائے گی اسی طرح عمران خان نے ہمیں ذاتی طور پر نشانہ بنایا مگر کوئی ایک الزام مجھ پر ثابت نہیں ہوا حالانکہ سیالکوٹ کی اینٹی کرپشن عدالت میں پورا پورا دن میری اہلیہ انتظار کرتی تھی، تحریک انصاف کا کوئی رہنما ہے جو زلفی بخاری اور مرشد کے درمیان ہونے والی گفتگو کا کوائی جواب دے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ہماری 8 ماہ کی حکومت میں ہم نے تحریک انصاف کے کسی شخص کو انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا کیونکہ ہم سیاسی کارکن ہیں ان چیزوں پر یقین نہیں رکھتے مگر یہ لوگ دو دن اندر بیٹھنے کے بعد خاموش بیٹھ جاتے ہیں اور سافٹ ویئر اپڈیٹ ہوجاتا ہے۔

دریں اثنامسلم لیگ (ن) کے صدر اور وزیراعظم شہبازشریف نے پارٹی ورکرز کو متحرک کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ملک گیر ورکرز کنونشن کا سلسلہ شروع کر دیا۔اس سلسلہ میں صدر مسلم لیگ ن نے 11 سے 17 دسمبر تک ورکرزکنونشن کے انعقاد کا شیڈول جاری کرتے ہوئے صوبائی عہدیداروں کو ہدایات جاری کر دیں۔

آج راولپنڈی، سیالکوٹ، شیرگڑھ ،مردان میں مسلم لیگ (ن) کے ورکرز کنونشن ہوں گے، 13 دسمبر کو اسلام آباد، 14 دسمبر کو لاہور میں ورکرز کنونشن ہوگا، شیڈول کے مطابق 15 دسمبر کو شیخوپورہ، 16 دسمبر کو قصور میں ورکرز کنونشن ہوگا ، 17 دسمبر کو فیصل آباد میں ورکرز کنونشن کا انعقاد کیا جائے گا۔

Back to top button