عمران نااہل ہو گئے تو نیا پی ٹی آئی چیئرمین کون ہو گا؟

تحریک انصاف نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عمران خان کو توشہ خانہ کیس کے فیصلے کی بنیاد پر نواز شریف کی طرح پارٹی صدارت سے نا اہل کیا تو اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا نہ ہی کوئی نیا سربراہ نامزد کیا جائے گا۔ پارٹی قیادت کا موقف ہے کہ نواز شریف کو پارٹی سربراہی سے تاحیات نااہلی کی بنیاد پر ہٹایا گیا تھا کیونکہ وہ اقامہ چھپانے پر مجرم قرار دیے گئے تھے، مگر عمران خان کے خلاف ایسے کسی بھی کیس میں نہ تو جرم ثابت ہوا ہے اور نہ ہی سزا سنائی گئی ہے۔ لہذا پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ دونوں کے خلاف ایک طرح کی کارروائی کرنا ممکن نہیں جسکا اشارہ دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں سپریم کورٹ کے ذریعے نواز شریف کو نون لیگ کی صدارت سے ہٹوانے والے عمران اب خود مکافات عمل کا شکار ہونے جا رہے ہیں کیونکہ الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ کیس میں انہیں آرٹیکل 63 ون پی کے تحت جھوٹے بیانات اور غلط ڈیکلیرشن جمع کرانے پر نااہل قرار دیے جانے کے بعد تحریک انصاف کی سربراہی سے ہٹانے کے لیے کارروائی کا اغاز کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے سابق وزیر اعظم کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور کیس کی سماعت 13 دسمبر کو مقرر کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ اقامہ رکھنے پر نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے نااہلی کے بعد عمران خان نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ جو شخص صادق اور امین نہیں رہتا وہ پارٹی صدارت کا بھی اہل نہیں رہتا۔ چنانچہ فروری 2018 میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو پارٹی صدارت کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا جس کے بعد شہباز شریف کو نون لیگ کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ اب الیکشن کمیشن اسی فارمولے کے تحت عمران کے مستقبل کا فیصلہ کرنے جا رہا ہے۔
جب پارٹی کے ترجمان فواد چوہدری سے پوچھا گیا کہ عمران خان کی نااہلی کی صورت میں نیا سربراہ کون ہوگا تو انہوں نے کہا کہ خان صاحب کی پارٹی صدارت سے نا اہلی ممکن ہی نہیں کیونکہ نواز شریف کی طرح عمران خان کو کسی عدالت نے سزا نہیں سنائی جس کی بنیاد پر ایسا ہو۔ تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ عمران خان کی نااہلی کی صورت میں پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نئے سربراہ بنیں گے۔ لیکن کچھ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران کسی بھی صورت شاہ محمود کو پارٹی قیادت نہیں سونپیں گے اور ہو سکتا ہے کہ اپنی نااہلی کی صورت میں وہ پرویز خٹک یا اسد عمر کو نیا صدر بنا دیں۔
خیال رہے کہ عمران خان نے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت سپریم کورٹ میں درخواست ڈال کر پہلے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے نااہل کروایا تھا اور پھر پارٹی صدارت سے محروم کروایا تھا۔ قانونی اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے نا اہلی کے فیصلے کے بعد عمران خان صادق اور امین نہ رہنے کی وجہ سے پارٹی کی صدارت سے بھی محروم ہونے جا رہے ہیں۔ وفاقی کابینہ کے رکن عرفان قادر کا کہنا ہے کہ عمران آئین کی شق 63 ون ایف کی رو سے صادق و امین نہیں رہے۔ ایسے میں موصوف پارٹی کی سربراہی سے بھی فارغ ہو جائیں گے جیسا کہ نواز شریف کے ساتھ ہوا تھا۔
عمران کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کے لیے الیکشن کمیشن نے انہیں 13 دسمبر کو طلب کیا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی قیادت کے مطابق اس طرح کی کارروائی عمران کو سیاسی عمل سے باہر کر کے ان کی شہرت کم کرنے کی کوشش تو ضرور ہو سکتی ہے مگر یہ معاملہ اتنا آسان نہیں۔سیاسی منظر نامے پر نظر رکھنے والوں کے خیال میں اگر عمران خان ہٹایا گیا تو معاملہ عدالتوں میں جائے گا اور سیاسی ماحول مزید تلخ ہوگا مگر کیا ایسا کچھ بھی ہونے کی صورت میں تحریک انصاف متبادل قیادت کے لیے تیار ہے؟ تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعجاز چوہدری کہتے ہیں کہ ان کی جماعت کسی صورت الیکشن کمیشن کا فیصلہ ماننے کو تیار نہیں اور اسے مسترد کر دیا جائے گا۔ اپنے دوستوں میں اعجاز مگا کہلانے والے پی ٹی آئی رہنما نے یہ لطیفہ نما الزام بھی لگایا کہ الیکشن کمیشن کو ہدایات جاتی امرہ سے مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی کارروائی کرنے کی کوشش ہوئی تو عدالتوں سے بھی رجوع کریں گے اور سڑکوں پر بھی نکلیں گے۔‘
اعجاز مگا کہتے ہیں کہ ’نئے پارٹی چئیرمین کے نام پر نہ تو غور ہوا ہے اور نہ ہی ہوگا۔ اس بارے میں پارٹی کے اندر کوئی دو رائے نہیں، اسی لیے کسی متبادل قیادت پر غور کیا گیا نہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر معاملے میں جانبداری سے پی ٹی آئی کے خلاف ہی کارروائی کی جا رہی ہے۔ اب نااہل قرار دیے جانے کی بنیاد پر عمران خان کو پارٹی سربراہی سے ہٹانے کی کارروائی شروع کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے تو الیکشن کمیشن کو جواب دینا چاہیے کہ ایک پارٹی کے خلاف جانبدارانہ کارروائی کیوں کی جارہی ہے؟ پھر یہ بتایا جائے کہ عارضی نااہلی کی بنیاد پر انہیں پارٹی سربراہی سے کیسے ہٹایا جاسکتا ہے؟‘
انہوں نے عمران کی ’نااہلی‘ کا موازانہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی سے کرتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف کو پارٹی سربراہی سے قانون کے مطابق تاحیات نااہلی کی بنیاد پر ہٹایا گیا تھا اور وہ کرپشن کیسوں میں مجرم قرار دیے گئے تھے، مگر عمران کے خلاف ایسے کسی بھی کیس میں جرم ثابت یا سزا نہیں سنائی گئی۔ پھر دونوں کے خلاف ایک طرح کی کارروائی کیوں؟ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب داری ثابت ہو چکی ہے۔ اس لیے ہم عمران کو پارٹی سربراہی سے ہٹانے کا فیصلہ تسلیم نہیں کریں گے۔ پارٹی ترجمان فواد چوہدری کے مطابق الیکشن کمیشن کو اس بارے میں خط لکھا جا رہا ہے جس کے بعد اس کے خلاف عدالت بھی جائیں گے کیونکہ الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی سربراہ کے خلاف ایسی کسی کارروائی کا کوئی اختیار نہیں۔
