عمران نے ملک ریاض کو 50 ارب بخش کر 458 کنال زمین حاصل کی

نیب نے عمران خان کے دور حکومت میں بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کو برطانیہ سے ضبطگی کے بعد پاکستان کو منتقل ہونے والے 50 ارب روپے واپس کرنے کے سکینڈل کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے عمران اور ان کی سابقہ کابینہ کے اراکین کو نوٹس جاری کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ نیب اس الزام کی تحقیقات کر رہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے ملک ریاض کے ضبط کردہ 50 ارب روپے سٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں جمع کروانے کی بجائے سپریم کورٹ کے نیشنل بینک اکاؤنٹ میں جمع کرا دیئے تاکہ ملک ریاض پر ایک کیس میں عائد کردہ جرمانہ ادا کیا جا سکے تاہم اسی دوران میسرز بحریہ ٹاؤن پرائیویٹ لمیٹڈ نے اسلام آباد میں عمران خان اور انکی اہلیہ بشری بی بی کے نام پر اربوں روپے مالیت کی 458؍ کنال قیمتی زمین بھی الاٹ کی جسے رشوت گردانا جا رہا ہے۔
نیب کے مطابق اختیارات کے غلط استعمال، اور مالی فوائد اور کرپشن سے کمائی جانے والی دولت برطانیہ سے پاکستان منتقل ہونے کے بعد ملک ریاض کو واپس لوٹا کر قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کے الزام کی انکوائری کیلئے نیب راولپنڈی پی ٹی آئی کی پوری کابینہ کو نوٹس جاری کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس کے مرکزی ملزمان میں عمران خان اور ان کے کالے منہ والے مشکوک مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر شامل ہیں۔ بحریہ ٹاؤن کے چیف ایگزیکٹو ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض ملک کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنی کمپنی کا موقف پیش کر سکیں۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی کا کہنا ہے کہ دفتر خارجہ کے ذریعے باہمی قانونی معاون کو سامنے لانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ کیس کی تحقیقات کے دوران برطانوی محکمہ داخلہ سے بھی معاونت حاصل کی جا سکے۔ سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کو جاری کیے گئے نوٹس کی نقل کے مطابق، ’’اختیارات کے غلط استعمال، مالی فوائد اور مجرمانہ نیت سے بھروسہ توڑنے کی وجہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بحیثیت کابینہ رکن آپ نے 3؍ دسمبر 2019ء کو وزیراعظم آفس میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں شرکت کی تھی، جس میں بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹ منجمد کرنے کے احکامات اور ضبط ہونے والے فنڈز کی پاکستان منتقلی کے حوالے سے آئیٹم نمبر دو پر بحث و فیصلے ہوئے تھے۔ یہ معاملہ علی ریاض ملک حسین، ان کے اہل خانہ اور بحریہ ٹاؤن کے متعلق تھا جس پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب اور داخلہ نے بریفنگ دی تھی اور کابینہ سیکریٹری کو ہدایت دی گئی کہ ریکارڈ کو سیل کیا جائے، لہٰذا، اس معاملے پر آپکے پاس جو بھی معلومات یا شواہد موجود ہیں وہ اس جرم کے ارتکاب سے متعلق ہیں۔ اس تناظر میں آپ 12؍ اکتوبر 2022ء کو دوپہر دو بجے نیب راولپنڈی آفس میں انکوائری ٹیم کے روبرو پیش ہوں اور اپنے ساتھ دستاویزی شواہد بھی ساتھ لائیں تاکہ آپ کا بیان ریکارڈ کیا جا سکے۔
نیب کی جانب سے عمران خان کی سابقہ کابینہ کے اراکین کو جاری ہونے والے نوٹسز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقرر کردہ تاریخ پر پیش ہونے میں ناکامی کی صورت میں آپ کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے بحریہ ٹاؤن کے ضبط شدہ پچاس ارب روپے پاکستان منتقل کیے تھے، لیکن عمران حکومت نے یہ رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کی بجائے بحریہ ٹاؤن کی طرف سے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیں تاکہ ایک اور کیس میں ملک ریاض پر عائد کردہ جرمانے کی رقم ادا کی جا سکے۔ نیب کے مطابق 3 دسمبر 2019 کو ہونے والی کابینہ میٹنگ میں وزیراعظم کے اثاثہ ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر کی جانب سے کابینہ کے روبرو ایک سر بمہر نوٹ پیش کیا گیا تھا۔ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق یہ سربمہر نوٹ خفیہ یے اور دکھایا نہیں جا سکتا لیکن اسکی منظوری لینا ضروری یے۔ یہ پاکستانی تاریخ کا پہلا اور آخری واقعہ تھا جب وفاقی کابینہ کے اراکین نے اندھے، گونگے اور بہرے بن کر کر ایک ایسے فیصلے کی منظوری دے دی جس کے بارے میں انہیں پتہ ہی نہیں تھا۔
اس کابینہ اجلاس کے منٹس میں لکھا گیا کہ فیصلے کی رازداری کو یقینی بنانے کیلئے کابینہ نے کابینہ سیکریٹری کو ہدایت کی ہے کہ ضرورت پڑنے پر سربمہر نوٹ کھول کر عدالت میں پیش کر سکتے ہیں۔ کابینہ میں یہ نوٹ بند کمرے کے اجلاس میں پیش کیا گیا تھا اور نہ تو وزراء کو دکھایا گیا تھا اور نہ کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا گیا۔ اس خط کو کابینہ اجلاس کے باقاعدہ ایجنڈے کا حصہ بھی نہیں بنایا گیا تھا۔ اسکے لیے یہ بے تکی دلیل یہ دی گئی کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی وجہ سے حکومت اس کی تفصیل سامنے نہیں لا سکتی۔
کابینہ اجلاس کے بعد عمران حکومت کی جانب سے جاری کردہ مبہم ترین پریس ریلیز میں ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کا نام لیے بغیر کہا گیا کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ایک پاکستانی فیملی کیخلاف زیر التواء تحقیقات کے معاملے میں عدالت سے باہر معاملات طے کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اس فیملی کے پاکستان اور دیگر مقامات پر بڑی پراپرٹی ڈویلپمنٹ ہے۔ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے اس بات پر بھی اتفاق کیا تھا کہ فنڈز فوری طور پر ریاست پاکستان کو منتقل کیے جائیں گے۔
پریس ریلیز کے مطابق، یہ سیٹلمنٹ ایک دیوانی معاملہ ہے اور اس میں کسی جرم کا اشارہ نہیں ملتا۔ یہ سیٹلمینٹ این سی اے کی ایک پاکستانی شہری کیخلاف انکوائری کا نتیجہ ہے جو پاکستان میں ایک بڑے نجی شعبے کے بڑے آجر ہیں۔ لیکن پی ڈی ایم حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد یہ سکینڈل سامنے آیا تھا کہ ملک ریاض حسین نے اسلام آباد میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو القادر یونیورسٹی بنانے کے لئے 458 کنال قیمتی اراضی بطور تحفہ دی تھی جس کی مالیت کئی ارب روپے بنتی ہے۔ یعنی عمران خان نے بطور وزیراعظم ملک ریاض کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا جسکے عوض بحریہ ٹاؤن کے مالک نے خان صاحب کو اربوں روپے کی زمین بطور تحفہ دی۔ یعنی دونوں نے مل کر قومی خزانے کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگا دیا۔ لہٰذا اب نیب اس کیس کی تحقیقات شروع کر چکی ہے۔
یاد رہے کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے 190؍ ملین پاؤنڈز پاکستان منتقل کیے تھے لیکن عمران خان کے حکم پر یہ رقم اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں ڈالنے کی بجائے سپریم کورٹ کے نیشنل بینک کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دی گئی تاکہ ملک ریاض پر ایک اور کیس میں عدالت کی جانب سے عائد کردہ جرمانہ ادا کیا جا سکے۔ عدسکتی فیصلے کے مطابق میسرز بحریہ ٹاؤن پرائیوٹ لمیٹڈ کے ملک ریاض نے سپریم کورٹ میں 460؍ ارب روپے جمع کرانا تھے۔ نیب نے عمران حکومت کے اس فیصلے کو 3؍ دسمبر 2019ء سے قبل القادر ٹرسٹ کے قیام کے ساتھ جوڑا ہے جسے ملک ریاض نے اربوں روپے مالیت کی 458؍ کنال قیمتی زمین الاٹ کی تھی۔
