عمران نے پشتون عوام کو دہشتگردی کی آگ میں کیسے جھونکا؟

 

 

 

خیبر پختون خواہ میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے نتیجے میں تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو افغانستان سے واپس لا کر دوبارہ پاکستان میں آباد کرنے کا فیصلہ اس وقت متنازع ترین موضوع بنا ہوا ہے، چونکہ عمران خان کی جماعت اب اس فیصلے کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ طالبان جنگجو افغانستان سے پاکستان واپس آئے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کس نے کیا تھا، کس کے مشورے سے کیا گیا تھا، کتنے جنگجو پاکستان واپس آئے اور اس فیصلے کے سنگین نتائج کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

 

اگرچہ یہ فیصلہ تین سال قبل کیا گیا تھا، مگر آج تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ اس کا اصل ذمہ دار کون ہے، یہ فیصلہ کس بنیاد پر اور کیوں کیا گیا اور اس کے نتائج کی قیمت کون ادا کر رہا ہے۔ اس تنازع کی جڑیں ان فوجی آپریشنز میں پیوست ہیں جو 2007 سے 2018 کے دوران قبائلی علاقوں میں کیے گئے۔ ان آپریشنز کے نتیجے میں تحریک طالبان کا تنظیمی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا اور اس کے ہزاروں جنگجو اپنے کمانڈرز اور خاندانوں سمیت سرحد پار افغانستان منتقل ہو گئے۔ اگرچہ ان کارروائیوں سے پاکستان کے اندر بڑے پیمانے پر دہشت گردی میں کمی آئی، مگر ٹی ٹی پی مکمل طور پر ختم نہ ہو سکی اور افغانستان میں بیٹھ کر حملے کرتی رہی۔

 

2018 میں اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے دہشت گردی کے خلاف ریاستی حکمت عملی میں ایک واضح تبدیلی کا عندیہ دیا۔ انکا مؤقف تھا کہ طالبان کے خلاف طاقت کے استعمال کے بجائے ان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کیا جانا چاہیے۔ اسی سوچ کے تحت تب کے آئی ایس آئی سربراہ فیض حمید کے توسط سے تحریک طالبان کی قیادت کیساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا، جس میں افغان طالبان نے ثالث کا کردار ادا کیا۔ اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد ان مذاکرات کو نئی رفتار ملی اور یہی وہ مرحلہ تھا جب ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو واپس لا کر پاکستان میں بسانے کی تجویز سامنے آئی۔

فوج اور تحریک انصاف کے تصادم کا کیا نتیجہ نکلے گا؟

حکومتی اور عسکری ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ عمران خان کے دور حکومت میں اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد کیا گیا۔ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید افغان طالبان کے ساتھ رابطوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے، جبکہ فوجی قیادت میں جنرل قمر جاوید باجوہ اس پالیسی کی حمایت کرتے دکھائی دیتے تھے۔ سابق وزیر مذہبی امور اور خیبر ضلع سے تعلق رکھنے والے سینیٹر پیر نور الحق قادری کے مطابق انہوں نے اس تجویز کی مخالفت کی تھی، تاہم پی ٹی آئی کی قیادت اور تب کے آئی ایس آئی چیف فیض حمید کا یہ مؤقف تھا کہ مذاکرات کے ذریعے عسکریت پسندوں کو قومی دھارے میں لایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فیض حمید نے تو طالبان جنگجوؤں کے ماضی میں ہونے والے مالی نقصانات کا ازالہ کرنے کی تجویز بھی دی تھی جس پر جزوی طور پر عمل درآمد بھی کیا گیا تھا۔

 

یہ معاملہ تب مزید متنازع بن گیا جب حال ہی میں فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے ایک پریس کانفرنس میں واضح کہا کہ 2021 میں ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی پاکستان واپسی کا فیصلہ ایک بااختیار وزیراعظم نے کیا تھا۔ انکے مطابق ریاست میں پالیسی فیصلے حکومت کرتی ہے اور ادارے حکومت کے ماتحت ہوتے ہیں، نہ کہ اس کے برعکس۔ یہ بیان دراصل اس تاثر کی نفی تھا کہ یہ فیصلہ محض عسکری قیادت نے کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان خود مختلف مواقع پر اس فیصلے کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔ مارچ 2023 میں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ افغان طالبان نے پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ ٹی ٹی پی کے 30 سے 40 ہزار افراد کو واپس لے، کیونکہ وہ پاکستانی شہری ہیں، اور پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ جنوری 2023 میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ابتدا میں پانچ ہزار طالبان جنگجوؤں کی واپسی کی بات ہوئی تھی، جو خاندانوں سمیت تقریباً 35 ہزار افراد بنتے تھے، تاہم یہ منصوبہ مکمل طور پر اس لیے نافذ نہ ہو سکا کہ صوبوں نے اس کی مالی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کر دیا۔ اس کے برعکس تحریک انصاف کی موجودہ قیادت اب اس فیصلے سے خود کو الگ دکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی رہنما مراد سعید ایک ویڈیو بیان میں اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے عسکریت پسندوں کی واپسی کی مخالفت کی تھی، مگر انہیں خاموش رہنے کا کہا گیا۔ ان کے مطابق اگرچہ یہ افراد ان کے علاقے میں نہیں بسائے گئے، تاہم خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں انہیں آباد کیا گیا، جو پہلے ہی شدت پسندی کا شکار تھے۔ ٹی ٹی پی جنگجوؤں کی واپسی کے بعد جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، لکی مروت، بنوں، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پولیس، فوج اور سرکاری تنصیبات پر حملوں کے ساتھ ساتھ ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کے واقعات نے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

 

آج صورت حال یہ ہے کہ ایک جانب تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خلاف کسی نئے فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے طالبان سے دوبارہ مذاکرات کی بات کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے کہ 2021 میں طالبان عسکریت پسندوں کی واپسی کا فیصلہ انہی کے دور حکومت میں ہوا تھا۔ یہی تضاد اس معاملے کو ختم ہونے نہیں دے رہا۔

 

تین سال گزرنے کے باوجود نہ تو اس فیصلے پر کوئی پارلیمانی تحقیق ہوئی، نہ کوئی وائٹ پیپر جاری کیا گیا اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا کہ کتنے جنگجو واپس لائے گئے اور کتنے واقعی قومی دھارے میں شامل ہوئے۔ جب تک ریاست اس فیصلے کی مکمل سچائی عوام کے سامنے نہیں لاتی اور ذمہ داری کا تعین نہیں کرتی، تب تک یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ کیا 2021 میں کیا گیا فیصلہ عمران خان حکومت کی مجبوری تھا یا ایک سنگین پالیسی بلنڈت، جس کی سزا آج خیبر پختونخوا کے عوام نہ رکنے والی دہشت گردی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔

Back to top button