عمران نے کوئی حرکت کی تو ردعمل 30 منٹ میں آجائے گا


معروف تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کوئی ہینکی پھینکی کرنے کی کوشش کی گئی تو فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ری ایکشن ٹائم پندرہ سے 30 منٹ ہو گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں نواز شریف دور میں یہی ری ایکشن ٹائم تین گھنٹے تھا، انہوں نے کہا کہ عمران خان کو باور کروا دیا گیا ہے کہ وہ کوئی ہینکی پھینکی کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے، عمران خان کو بھی اس بات کا ادراک ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم کے اس حالیہ بیان کے بعد کہ وہ اپنا ترپ کا پتہ 27 مارچ کو شو کریں گے اور ایک بڑا سرپرائز دیں گے، ملک بھر میں یہ افواہ پھیل گئی تھی کہ وہ شاید آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے مستقبل کے حوالے سے کوئی بڑا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔ لیکن ان افواہوں کے بعد اداروں نے جوابی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے وزیراعظم کو خبردار کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی مس ایڈونچر کا خمیازہ بھگتیں گے لہذا گریس کا مظاہرہ کریں اور فضول گفتگو سے باز آجائیں۔ وزیراعظم کو یہ بھی یاد دلایا گیا ہے کہ جب 1999 میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو بر طرف کیا تھا تو ردعمل میں ان کی حکومت ختم کرکے انہیں اٹک قلعے میں بند کر دیا گیا تھا۔
نیا دور کے پروگرام ”خبر سے آگے” میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال پر اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ مکمل طور پر نیوٹرل رہنا چاہتی ہے اور وزیراعظم کی جانب سے اس پر جانبدار ہونے کے لیے ڈالے جانے والے دباؤ کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ اسی وجہ سے عمران خان اور ان کے ساتھی اب سخت پریشانی کا شکار ہو چکے ہیں۔ سیٹھی نے کہا کہ حکومتی اتحادی آخری وقت تک کوئی اعلان نہیں کرینگے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ان پر کسی قسم کا کوئی دبائو آئے۔ مگر اتحادیوں نے فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کا ساتھ دیں گے۔
نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ عمران خان کیلئے گھڑی کی ٹک ٹک شروع ہو چکی ہے۔ وزیراعظم کو احساس تھا کہ یہ کھیل انکی فراغت پر جا کر ختم ہوگا۔ اسی لئے انہوں نے ایک بیانیہ بنانا شروع کر دیا تھا جس میں پہلا امریکا کی مخالفت، دوسرا مذہب کارڈ کا استعمال اور تیسرا اچھائی اور بدی کی جنگ میں نیوٹرل ہونے کی مذمت کرنا ہے۔
سیٹھی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے آج تک نہ تو سیاست سیکھی ہے اور نہ ہی سیکھنے کی کوشش کی ہے۔ وہ 2018 سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سر پر حکومت چلا رہے تھے۔اسٹیبلشمنٹ نے ہی ان کے جلسے کروائے اور الیکشن کے بعد حکومت بنانے کے لیے ان کو بندے بھی دیئے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ بہت کچھ ہونے والا ہے، صرف 48 گھنٹے انتظار کر لیں، بڑی بڑی خبریں آنے والی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے پاس کوئی سرپرائز نہیں، نہ ہی ان کے پاس کوئی ٹرمپ کارڈ موجود ہے، ان کے دعوے ٹوپی ڈرامہ ہیں۔ وہ سرپرائز دینے کا اعلان صرف اس لئے کر رہے ہیں تاکہ لوگ 27 مارچ کے جلسے میں اسلام آباد پہنچیں اور وہ اسٹیبلشمنٹ کو دکھا سکیں کہ عوام اب بھی ان کے ساتھ ہیں لہذا نیوٹرل رہنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔ سیٹھی کے بقول کہا جا رہا تھا کہ شاید عمران خان 27 مارچ کو کسی نوٹی فیکیشن یا ڈی نوٹی فیکیشن کی بات کریں گے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہو سکتا۔ حالات بدل چکے ہیں، عمران خان کسی مس ایڈنچر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ حزب اختلاف کو پتا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کا معاملہ 28 مارچ تک ملتوی کر دیا جائے گا۔ اپوزیشن سمجھتی ہے کہ سپیکر اسد قیصر کی جانب سے اس معاملے پر اور کوئی گڑبڑ نہیں ہو سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی اس وقت نان نیوٹرل ہیں اور عمران کے احکامات پر آنکھیں بند کر کے چل رہے ہیں۔ اس وقت وزیراعظم، صدر اور سپیکر ایک صفحے پر ہیں اور مل کر اقدامات کر رہے ہیں۔ لیکن دوسری جانب اپوزیشن پرامید ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جائے گی، اب اس میں زیادہ تاخیر نہیں ہوگی۔ البتہ سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بھر پور کوشش کی جائے گی کہ اس سے پہلے ایسے فیصلے کئے جائیں جن سے اپوزیشن کو تکلیف ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسد قیصر آئین کے مطابق نہیں چلتے اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ میں مزید تاخیر کرتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ یہ معاملہ بھی سپریم کورٹ میں چلا جائے۔

Back to top button