عمران نے کیا قیمت دے کر سلمان سے تعلقات بحال کیے؟


وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے مابین کئی ماہ سے کشیدہ تعلقات اب بہتری کی طرف گامزن ہیں جسکی بنیادی وجہ کپتان کی جانب سے سعودی عرب کے کہنے پر بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے حالیہ اعلانات ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات تب سخت کشیدہ ہوگئے تھے جب مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری ختم کردی تھی اور سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے بھارت کا ساتھ دیا۔ جب اس معاملے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک سخت سعودی مخالف بیان دیا تو دونوں ملکوں کے تعلقات اتنے کشیدہ ہو گئے کہ سعودی ولی عہد نے غصے میں مدت ختم ہونے سے پہلے ہی پاکستان کو دیا گیا تین ارب ڈالر کا قرضہ واپس مانگ لیا تھا چنانچہ پاکستان کو چین سے مدد لیکر ایک ارب ڈالر فوری واپس کرنا پڑے۔ لیکن اب یوٹرن خان کہلانے والے وزیراعظم عمران خان نے سعودی دباؤ پر مودی حکومت کے ساتھ یاری ڈالنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں جن میں کشمیر کے نام پر عہدے میں توسیع حاصل کرنے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں آرمی چیف جنرل باجوہ اور وزیراعظم عمران خان دونوں ہی وسیع تر قومی مفاد میں بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔ تاہم ماضی کی طرح ابھی تک کسی بھی جانب سے ان دونوں پر نہ تو غداری کا کوئی فتوی عائد کیا گیا ہے اور نہ ہی انہیں کشمیر فروش قرار دیا گیا ہے کیونکہ ان دونوں کی حب الوطنی کسی بھی شک و شبے سے بالا ہے۔خیال رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے چند روز قبل وزیرِ اعظم عمران خان کو ٹیلی فون کیا تھا جس میں دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے کے عزم کے علاوہ عمران خان کو سعودی عرب کے دورے کی بھی دعوت دی گئی تھی جسے انہوں نے قبول کر لیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق محمد بن سلمان کے رابطے کے بعد گزشتہ ایک سال سے تناؤ کا شکار دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ سرکاری حکام کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان جلد سرکاری دورے پر سعودی عرب جائیں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں بائیڈن انتظامیہ آنے کے بعد سعودی عرب کے حوالے سے امریکہ کی پالیسی میں بھی تبدیلی کا امکان ہے۔ لہذٰا بدلتی ہوئی عالمی صورتِ حال کے تناظر میں سعودی عرب اور پاکستان دوبارہ ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ ایران میں تعینات رہنے والے پاکستان کے سابق سفارت کار آصف درانی کہتے ہیں کہ جو بائیڈن کے آنے کے بعد سعودی عرب کی خارجہ پالیسی بھی تبدیل ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سعودی عرب سے یہ گلہ تھا کہ تنازع کشمیر پر اس نے پاکستانی مؤقف کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی اس معاملے پر اسلامی ممالک کا سربراہی اجلاس بلایا گیا۔ تاہم اب معاملات بدل چکے ہیں اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان اور بھارت کے مابین معاملات بہتر کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خطے میں نئی صف بندی بھی ہو رہی ہے اور چین کا خطے میں ابھرتا کردار بھی پاکستان اور سعودی عرب میں نئی قربت کی وجہ ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ تاریخی اعتبار سے پاکستان سعودی عرب تعلقات میں پختگی پائی جاتی ہے تاہم حالیہ اعلیٰ سطح کے رابطوں اور وزیرِ اعظم کے متوقع دورۂ ریاض سے شکوک و شبہات دور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے لیے پاکستان کی اہمیت دو لحاظ سے بہت زیادہ اہم ہے ایک پاکستانی تارکینِ وطن کے معیشت میں کردار اور دوسرا سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کے معاملات میں پاکستان کا کردار ہے۔
تجزیہ کار اے ایچ نیئر کہتے ہیں کہ حالیہ عرصے میں خلیجی ممالک کی خارجہ پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے جب کہ سعودی عرب اور اسرائیلی قیادت کے رابطوں کی بھی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔
اُن کے بقول اس تناظر میں خطے کی سیاست اور عالمی منظرنامے میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ لہذٰا سعودی عرب، پاکستان کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کا ازسر نو جائزہ لے رہا ہے۔
اے ایچ نیئر نے کہا کہ پاکستان نے کشمیر کے معاملے پر خلیجی ممالک سے تنازع کشمیر پر اسلام آباد کے مؤقف کی حمایت نہ کرنے پر شکایت کی جس کی وجہ سے خلیجی ممالک کے پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید پیچیدہ ہو گئے۔
خیال رہے کہ عمران خان کی حکومت نے 2018 میں اقتدار سنبھالتے ہی سعودی عرب سے تین ارب ڈالر قرض لیا تھا تاہم گزشتہ سال سعودی عرب نے ناراضی کے بعد اس رقم کی واپسی کا تقاضا کیا تھا۔ پاکستان نے چین کی مدد سے ایک ارب ڈالرز کی رقم ادا کر دی تھی جب کہ باقی ماندہ رقم بھی جلد لوٹانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اے ایچ نیئر کہتے ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے حالیہ رابطوں کے باوجود تعلقات میں پہلے جیسی گرم جوشی کی جلد توقع نہیں کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان معاشی اعتبار سے اور عالمی فورمز پر سعودی عرب پر مکمل انحصار نہیں کرسکتا اور ریاض بھی اپنی سلامتی کے لیے پاکستان کے علاؤہ انحصار کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button