عمران کا امریکی سازش پر چیف جسٹس سے رابطے کا اعلان


اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد ‘میں نہ مانوں’ کا بیانیہ لیکر چلنے والے سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے نام نہاد غیر ملکی سازش کے الزام کی تحقیقات کیلئے اب سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن بنوایا جا سکے۔
یاد رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی عمران دور حکومت میں اور پھر شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بعد بھی امریکی سازش کے بیانیے کو سختی سے رد کر چکی ہے۔ فوجی ترجمان میجر جنرل بابر افتخار بھی وضاحت سے کہہ چکے ہیں کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کسی سازش کا ذکر نہیں ہوا تھا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ بھی عمران کے امریکی سازش کے بیانیے کو رد کرتے ہوئے توڑی گئی قومی اسمبلی کو بحال کر چکا ہے۔ لیکن دوسری جانب عمران خان بضد ہیں کہ ان کی حکومت کا خاتمہ امریکی سازش کے نتیجے میں ہوا۔ اب اپنے اسی سازشی بیانیے کو آگے بڑھاتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ انھوں نے امریکا میں سابق پاکستانی سفیر کی جانب سے شیئر کی گئی کیبل کے بارے میں چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال اور صدر پاکستان عارف علوی سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم موصوف نے یہ نہیں بتایا کہ وہ چیف جسٹس اور صدر سے کس حیثیت میں مشاورت کریں گے؟ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ وہ کس قانون کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان سے مشورہ کر سکتے ہیں؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد عمران خان اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں اور اب بھی خود کو وزیراعظم سمجھتے ہیں لہٰذا اسی لیے انہوں نے چیف جسٹس سے مشاورت کا بیان داغ دیا ہے۔
تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے برطرفی کے بعد عمران خان نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ امریکا میں سابق پاکستانی سفیر اسد مجید خان کو بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار دونلڈ لو نے کہا تھا کہ اگر عدم اعتماد کی قرارداد کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان کو معاف کر دیا جائے گا ورنہ ملک کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عمران خان کی جانب سے کہا گیا کہ ایک رسمی ملاقات میں پاکستانی سفیر کو دی گئی ‘دھمکی’ شرمناک اور سفارتی اصولوں کے خلاف ہے، ایک مہذب دنیا میں اس طرح کے متکبرانہ رویے اور غیر سفارتی رویے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کا۔کہنا ہے کہ قوم کی عزت نفس اور آزادی، اقتدار کو برقرار رکھنے سے بڑھ کر ہے اور ملک کے اندرونی اور سیاسی معاملات میں بیرونی مداخلت پر قوم بے حد رنجیدہ اور ناراض ہے۔ تاہم عمران خان شاہد بھول چکے ہیں کہ امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر اسد مجید خان نے قومی سلامتی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں واضح کیا تھا کہ انہوں نے جو خط وزارت خارجہ تک پہنچایا اس میں کوئی دھمکی نہیں تھی اور نہ ہی کسی سازش کا ذکر تھا۔
دوسری جانب عمران خان نے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ کہا کہ پاکستان میں امریکی ‘مداخلت’ پر شدید عوامی ردعمل کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے لانگ مارچ میں مزید تاخیر کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ چوروں اور غداروں کو حکمران بنتے دیکھ کر کافی غصے میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان سے ان کے کرتوتوں کا حساب لیا جائے۔ تاہم خان صاحب نے یہ وضاحت نہیں کی کہ لوگوں نے یہ بات کہاں پر کی ہے؟

Back to top button