عمران کا ساتھ چھوڑنے والے MNAs موسمی پرندے کیوں ہیں؟


وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل ہونے کے بعد ان کا ساتھ چھوڑ جانے والے زیادہ تک ممبران قومی اسمبلی موسمی پرندے ہیں جو 2018 کے الیکشن سے پہلے اپنے آشیانے چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے اور اب اگلے الیکشن سے پہلے نئے گھونسلوں کی تلاش میں ہیں۔ 2018 میں بھی جنرل الیکشن سے پہلے ان سیاسی پرندوں کا ضمیر جاگا تھا اور یہ پارٹیاں بدل گئے تھے اور اب عمران خان کا اقتدار خطرے میں دیکھ کر ایک مرتبہ پھر یہ لوگ اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہوئے پارٹی بدلنے جا رہے ہیں۔
عمران خان کے خلاف بغاوت کر کے سندھ ہاؤس میں پناہ لینے والے اراکین اسمبلی کے سیاسی کیرئیر پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ لوگ ماضی میں بھی سیاسی وفاداریاں بدلتے رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ایسے ارکان اسمبلی ہیں جو اگلے انتخابات میں اپنی جیت یقینی بنانے کیلئے ہرالیکشن میں پارٹی بدل لیتے ہیں۔ یہ لوگ کسی صورت پارلیمنٹ سے باہر نہیں رہنا چاہتے اور انہیں یقین ہے کہ کپتان حکومت کی نکمی ترین پرفارمنس کی وجہ سے وہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر اگلا الیکشن نہیں جیت سکیں گے۔ پی ٹی آئی کے باغی اراکین اسمبلی کی ناراضی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں کابینہ میں بھی ایڈجسٹ نہیں کیا گیا تھا جب کہ ان سے بھی بعد میں پارٹی میں شامل ہونے والوں کو اہم وزارتیں سونپ دی گئیں۔
سینئر صحافی خالد قیوم پی ٹی آئی کے منحرف اراکین قومی اسمبلی کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ جہانگیر ترین گروپ کے پارلیمانی لیڈر راجہ ریاض احمد کابینہ میں نظر انداز کئے جانے پر نارض تھے۔ وہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے سینئر وزیر رہے اور پھر پیپلزپارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں چلے گئے۔ نواب شیر وسیر بھی 1993 میں پہلے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے لیکن 1997 میں نون لیگ میں شامل ہوگئے۔ اسکے بعد وہ دوبارہ پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے اور الیکشن 2008 میں رکن قومی اسمبلی بنے۔ انہیں پیپلز پارٹی حکومت نے وزیراعظم معائینہ کمیشن کا سربراہ بنایا تھا۔ نواب شیر وسیر 2018 میں پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے اور ن لیگ کے طلال چوہدری کو شکست دے کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ شیر وسیر جڑانوالہ کو ضلع کا درجہ دینے کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر وزئر اعظم سے ناراض تھے کیونکہ ان کے ساتھ وعدے کے باوجود یہ مطالبہ پورا نہیں کیا گیا۔
عمران خان کے ایک اور باغی فیصل آباد سے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی رضا نصراللہ گھمن وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کی اپنے حلقے میں مداخلت پر ناراض ہیں۔ وہ بار بار وزیراعظم کو اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کر چکے تھے لیکن انکی ناراضی کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا جس پر انہوں نے بغاوت کا فیصلہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے ابھی ن لیگ کے ساتھ معاملات طے نہیں ہوئے لیکن انہوں نے پھر بھی پینٹی آئی سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہیں بغاوت کرنے کے باوجود مسلم لیگ نون کا ٹکٹ ملنا اس لئے مشکل ہے کہ کہ ان کے حلقے سے لیگی رہنما میاں فاروق کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
بتایا جاتا ہے کہ فیصل آباد ڈویژن سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے زیادہ تر اراکین قومی اسمبلی کو بغاوت پر آمادہ کرنے میں لیگ رہنما رانا ثنا اللہ خان نے مرکزی کردار ادا کیا۔ بہاولنگر سے پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑنے والے رکن قومی اسمبلی غفار وٹو آزاد حثیت میں الیکشن جیتے تھے اور وہ کپتان کے سابقہ ساتھیوں جہانگیر ترین اور نعیم الحق کے ذریعے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے۔انہیں وزیر مملکت بنانے اور ان کے چیچا فدا حسین کو صوبے میں اکاموڈیٹ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن عمران خان نے ان کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے۔ 2018 کے انتخابات میں اس حلقے میں ن لیگ نے امیدوار نہیں دیا تھا اس لئے پی ٹی آئی سے بغاوت کرنے کے عوض وہ اگلے الیکشن میں آسانی سے نوا، لیگ میں اکاموڈیٹ ہوجائیں گے ۔اسی طرح خواجہ شیراز تونسہ شریف سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور وزیراعلیِ عثمان بزدار سے سخت ناراض تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عثمان بزدار اگلے الیکشن میں خواجہ شیراز کے حلقے سے قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں اور انہوں نے یہاں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے بھی دیے ہیں۔ ان منصوبوں کے اعلان اور افتتاح میں خواجہ شیراز کو مسلسل نظر انداز کیا گیا۔ ماضی میں خواجہ شیراز پیپلز پارٹی اور ق لیگ میں بھی رہ چکے ہیں اور ایک معروف موسمی پرندے ہیں۔
عمران خان سے بغاوت کرنے والے ایک اور رکن قومی اسمبلی قاسم نون سب سے زیادہ پارٹیاں بدلنے والے ایم این اے ہیں۔ وہ 2002 میں قاف لیگ کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوئے اور صوبائی وزیر بنے۔ 2008 میں انہوں نے آزاد الیکشن لڑا اور ہار گئے۔2013 میں قاسم نون پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ بعد ازاں وہ پیپلزپارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے۔2016 میں وہ پی ٹی آئی چھوڑ کر ن لیگ میں شامل ہوئے اور ضمنی الیکشن میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوگئے۔ لیکن 2018 میں وہ پھر سے نون لیگ چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے اور رکن قومی اسمبلی بن گے۔ اب 2022 میں قاسم نون ایک بار ہر پی ٹی آئی چھوڑ گئے ہیں اور اگلا الیکشن نواز لیگ کے ٹکٹ پر لڑیں گے۔
کپتان سے بغاوت کرنے والے ایک اور رکن قومی اسمبلی ملتان سے تعلق رکھنے والے احمد حسن ڈیہڑ ماضی میں پیپلزپارٹی کے رکن پنجاب اسمبلی رہے ہیں۔ وہ 2018 میں جہانگیر ترین کے ذریعے پی ٹی آئی کا ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی انہیں پی ٹی آئی کا ٹکٹ دینے کے سخت مخالف تھے۔ پی ٹی آئی کے ایک اور باغی ریاض مزاری سابق وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کے بیٹے اور ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کے چیچا ہیں۔ اسی طرح کپتان سے بغاوت کرنے والی خاتون رکن قومی اسمبلی وجیہہ قمر کا تعلق نارروال سے ہے جو کہ خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب ہوئی تھیں۔ وہ اپنے حلقے کے لیے ترقیاتی فنڈز نہ دیئے جانے پر حکومت سے ناراض تھیں۔ ایک اور باغی رکن قومی اسمبلی باسط سلطان بخاری الیکشن 2019 میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر این اے 185 اور پی پی 272 پر دونوں نشتوں سے کامیاب ہوئے تھے۔ لیکن بعد میں انہوں نے پی پی 272 کی صوبائی سیٹ چھوڑ کر اپنی والدہ زہرا بتول کو اپنے بھائی ھارون سلطان بخاری کے مقابلے میں کھڑا کیا اور بطور رکن صوبائی اسمبلی کامیاب کروایا۔ ان کے والد عبداللہ شاہ بخاری 1977 اور 1988 میں پیپلزپارٹی کے رکن پنجاب اسمبلی رہے ہیں۔ ان کے بھائی 2002 میں ق لیگ کے صوبائی وزیر لاہیو سٹاک رہے۔ باسط سلطان 1997 میں نون لیگ کے ایم پی اے رہے ہیں۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن کے دعوؤں کے مطابق پی ٹی آئی کے اور کتنے اراکین قومی اسمبلی تحریک عدم اعتماد سے پہلے اپنے نشیمن چھوڑ کر دوسری جماعتوں کی طرف پرواز کرتے ہیں؟

Back to top button