عمران کا غرور خاک میں ملنے تک فوج کامعافی نہ دینے کا فیصلہ

سابق پاکستانی سفیر اور تجزیہ کار حسین حقانی کا کہنا ہے کہ فی الحال فوج اور عمران خان کی صلح ہوتی نظر نہیں آتی۔ عمران خان چاہتے ہیں صلح ان کی شرائط پر ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں صلح ہمیشہ فوج کی شرائط پر ہوتی ہے۔ عمران خان جیسے غیر ذمہ دار شخص کو فوج کھلا چھوڑنے پہ ہرگز تیار نہیں ہو گی۔
نیا دور کیلئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں جب تک پاپولزم کے سائے موجود ہیں، اداروں کے اندر ناراضگیوں اور استعفوں کا سلسلہ جاری رہے گا مگر یہ استعفے کوئی بہت بڑی تبدیلی نہیں لا سکتے۔ حسین حقانی کے مطابق عمران خان کو اس بات کا زعم ہے کہ ان کے پاس بہت بڑی تعداد میں عوامی طاقت موجود ہے۔ مگر جب عوام کے ووٹ ہی نہیں گنے جائیں گے تو یہ طاقت تو ختم ہو گئی۔ اس لڑائی کا دوسرا فریق یعنی فوج جب تک عمران خان کے اس زعم کو خاک میں نہیں ملا لیتی، پیچھے نہیں ہٹے گی۔
حسین حقانی کے بقول 9 مئی سے متعلق پی ٹی آئی کا بیانیہ یہ تھا کہ عمران خان ہماری ریڈلائن ہے، اگر انہیں گرفتار کیا گیا تو پوری قوم سڑکوں پر آ جائے گی۔ مگر جو تھوڑے سے لوگ سڑکوں پر آئے انہوں نے بھی توڑ پھوڑ کر دی۔ ان کا خیال تھا کہ عمران خان کی مقبولیت کی وجہ سے فوج گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گی۔ یہ نہیں ہوا تو انہوں نے فالس فلیگ آپریشن کا بیانیہ بنا لیا۔ فوجی تنصیبات پر حملے کرنا پی ٹی آئی کا مقصد نہیں تھا، ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہم فوجی قیادت کو سبق سکھائیں گے۔
حسین حقانی کے مطابق فی الحال فوج اور عمران خان کی صلح کا کوئی امکان نہیں کیونکہ عمران خان چاہتے ہیں صلح ان کی شرائط پر ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں صلح ہمیشہ مقتدر حلقوں یعنی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی شرائط پر ہوتی ہے۔ عمران خان کو چاہے جتنی بھی عوامی حمایت حاصل ہے، ان جیسے غیر ذمہ دار شخص کو فوج کھلا نہیں چھوڑ سکتی۔ حسین حقانی کے بقول پی ٹی آئی قیادت کو دوسری سیاسی قوتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کی راہ ہموار کرنی چاہیے، تاکہ وہ خود بھی بند گلی سے نکلیں اور ملک کو بھی نکالیں۔ ان کے لیے ریلیف کا کوئی بھی راستہ صرف بات چیت ہی سے نکلے گا۔
تاہم دوسری جانب بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان بھی یہ سمجھتے ہیں کہ قبولیت کے بغیر معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے، تاہم وہ فوجی قیادت کیخلاف الزام تراشی پر مبنی بیانات دے کر ان پر مذاکرات کیلئے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے بقول عمران خان کے علاوہ تحریک انصاف میں سب غیر متعلقہ ہیں۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ عمران خان کو سیاسی طور پر ہٹا نہیں سکتے،پی ٹی آئی کے پاس بھی اس حوالے سے کوئی آپشن نہیں، حقیقت یہ ہے کہ اگر عمران خان آزاد ہوتے ہیں تو ساری سیاسی بساط خطرے میں پڑ جاتی ہے، اس بات سے انکار نہیں ہے کہ عمران خان ایک سیاسی قوت ہیں ان کی مقبولیت بھی ہے ان کا ووٹ بینک بھی ہے ۔ان کی مقبولیت ہے مگر قبولیت نہیں ہے
سینئراینکرپرسن و تجزیہ کار ، محمد مالک کے مطابق اسٹیبلشمنٹ پر عمران خان سے بات کرنے کے حوالے سے کوئی پریشر نہیں ہے ۔ عمران خان اندر ہیں ان کی پارٹی تتر بتر ہوئی ہے کوئی غائب ہے کوئی تائب ہے ۔عمران خان کی مقبولیت میں بہت اضافہ ہوا مگر الیکشن تو ہو نہیں رہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ان کے خلاف الیکشن لڑنا ہو۔پی ٹی آئی کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے اگر پی ٹی آئی اپنا بیانیہ نرم کرتی ہے تو اس کی مقبولیت کم ہوگی اور اگر اسی بیانیے پر قائم رہتی ہے تو مستقبل قریب میں اسٹیبلشمنٹ یا مقتدر قوتوں کے تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے امکانات معدوم ہیں۔ اس لئے لگتا یہی ہے کہ ابھی پہ ٹی آئی کیلئے سختی کا دور ختم نہیں ہوا۔
