عمران کا KPمیں معاشی طور پر مضبوط امیدوار لانے کا فیصلہ

سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے سابقہ تلخ تجربات کی بنیاد پر اگلے جنرل الیکشن میں سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط امیدواروں کے ساتھ خیبر پختونخوا کے انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے صوبہ بھر میں موزوں افراد کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین کے اس فیصلے سے خیبرپختونخوا کے بہت سارے موجودہ ایم پی ایز اور ایم این ایز کے انتخابی دوڑ سے باہر ہو جانے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ گزشتہ سات ماہ میں پی ٹی آئی چیئرمین نے ملک بھر میں 60 سے زائد جلسے کئے ہیں جن کی وجہ سے ان کے خیال میں ملک بھر میں پارٹی کے ووٹرز اور سپورٹرز میں اضافہ ہوا ہے۔
عمران کے قریبی ذرائع کے مطابق کپتان سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی الیکشن مہم پہلے ہی جاری ہے اسلئے اس سے فائدہ اٹھانے کیلئے عام لوگوں کے بجائے اس مرتبہ معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط پوزیشن رکھنے والے خاندانوں میں سے الیکشن امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا۔ عمران کے خیال میں خیبر پختون خوامیں تحریک انصاف کی مضبوط پوزیشن کے پیشن نظر دوسری جماعتوں سے بھی اچھے امیدوار ٹکٹ کے حصول کیلئے پی ٹی آئی کا رخ کر سکتے ہیں جن کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے، خصوصاً ان حلقوں میں جہاں عوام اپنے موجودہ منتخب اراکین اسمبلی سے مطمئن نہیں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکے علاوہ خان صاحب نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ پارٹی پالیسیوں سے اختلاف کرنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلیوں کو بھی اگلے الیکشن میں ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔
دوسری جانب عمران کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد سے خیبر پختونخوا کے صوبائی اراکین نے اسمبلی اجلاس میں دلچسپی لینا چھوڑ دی ہے۔ گزشتہ روز بھی اسمبلی اجلاس میں 145 کے ایوان میں صرف27 اراکین موجود تھے۔ جس پر ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا۔ خیبر پختونخواسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔ تاہم اے این پی کے رکن صوبائی اسمبلی خوشدل خان نے کورم کی نشاندہی کرائی اور اس دوران ڈپٹی اسپیکر نے دو منٹ کے لئے گھنٹیاں بھی بجانے کا حکم دیا۔ اور جب اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو صرف 26 ارکان ایوان میں موجود تھے۔ جس پر سپیکر نے ایک مرتبہ پھر دو منٹ گھنٹیاں بجانے کی ہدایت کی۔ تاہم کارروائی جاری رکھنے کے لئے اراکین کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہو سکی جس پر ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا۔
واضح رہے کہ رواں اسمبلی سیشن کے دوران حکومت اور اپوزیشن دونوں کے اراکین مسلسل غیر حاضر رہے ہیں۔ ایم پی ایز کے اس طرز عمل پر سپیکر بھی کئی بار اظہار ناراضی کر چکے ہیں۔ خیال رہے کہ عمران خان سمیت پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے اسمبلی کی تحلیل کے اعلان کے بعد زیادہ تر اراکین اگلے الیکشن کیلئے ابھی سے ذہن بنا کر بیٹھ گئے ہیں۔ وہ اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہونے کی بجائے اپنے حلقوں میں عوام کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسکے علاوہ انہوں نے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کاموں پر بھی توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس مرتبہ عمران خان خیبر پختونخوا میں الیکشن کیلئے پارٹی ٹکٹ دینے کے عمل کی خود نگرانی کریں گے۔ اس کیے اراکین اسمبلی کے پاس وقت کم اور مقابلہ سخت ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ کارکردگی دکھانے کیلئے میدان میں سرگرم عمل ہیں۔
