عمران کو لکھا خط تحریک انصاف میں اختلافات کا پیش خیمہ

10 اپریل کو اپنی عدالتی پیشی کے دوران دو درجن سے زائد ممبران صوبائی اور قومی اسمبلی کا ساتھ دکھانے والے جہانگیر ترین کے حق میں اب پنجاب سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں نے وزیر اعظم عمران خان کو ایک خط لکھ کر انکے خلاف انتقامی کاروائی کا نوٹس لینے کی استدعا کی ہے۔ حکومتی اراکین اسمبلی نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کا وقت مانگا ہے تاکہ ترین اپنی پوزیشن واضح کر سکیں، کیونکہ ان کے خیال میں انہیں ایک سازش کے تحت ’انتقامی کارروائی‘ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ضلع رحیم یار خان سے رکن قومی اسمبلی مبین عالم انور نے تصدیق کی کہ وزیر اعظم عمران خان کو ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی کی جانب سے خط لکھا گیا ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ وہ ہمارے ساتھ اور اپنے پرانے ساتھی جہانگیر خان ترین کے ساتھ ملاقات کر کے ہمیں سنیں۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کی طرف سے اراکین پارلیمنٹ کے اعزاز میں 8 اپریل کی رات کھانے کے دوران ہی ہی اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی نے وزیر اعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کر لیا تھا جس پر وہاں موجود پنجاب سے تعلق رکھنے والے کم از کم تیس ایم این ایز اور ایم پی ایز نے دستخط کیے۔ مبین عالم کا کہنا تھا کہ انہوں نے عمران خان سے ملاقات کا وقت مانگا ہے تاکہ ترین اپنی پوزیشن واضح کر سکیں اور ان جھوٹے الزامات کی وضاحت کر سکیں جس سے کہ خان صاحب ناراض نظر آتے ہیں۔

یاد رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے یا ایف آئی اے نے تحریک انصاف کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے خلاف منی لانڈرنگ اور فراڈ کے مقدمات درج کر لیے ہیں، اور ان کے چھتیس بنک اکاونٹ بھی منجمد کر دیے گئے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین اور علی ترین گنے کے کاروبار میں حاصل ہونے والے چار ارب روپے سے زیادہ رقم کی منی ٹریل فراہم نہیں کر سکے، اور اس بارے میں تسلی بخش جواب نہیں دے سکے ہیں۔ یاد رہے کہ ایک زمانے میں عمران خان کے دست راست رہنے والے جہانگیر ترین کو 2017 میں سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت سیاست میں حصہ لینے سے تاحیات نااہل قرار دیا تھا، جب کہ کچھ عرصہ قبل منظر عام پر آنے والی شوگر کمیشن رپورٹ میں بھی جہانگیر خان ترین کا نام بطور۔ملزم شامل ہے۔

دوسری طرف ترین مخالف وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ صرف جہانگیر ترین کی شوگر مل کو نوٹس نہیں جاری ہوئے بلکہ 17 شوگر ملوں کے خلاف اسی طرح کی کارروائی شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے انتقامی کارروائی کے تاثر کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر جہانگیر ترین کو کوئی تشویش ہے تو وہ وزیر اعظم عمران خان سے ملیں۔ ’مجھے یقین ہے کہ عمران خان خندہ پیشانی سے جہانگیر ترین کی بات سنیں گے۔۔

دوسری جانب 19 اپریل کو جہانگیر خان ترین کے پاور شو میں 29 اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی شرکت کو حکومت کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم سینئیر صحافی سہیل وڑائچ کی رائے میں جہانگیر ترین اکیلے حکومت کو مشکل میں نہیں ڈال سکتے اس لئے وہ بھی ابھی یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان اور اُن کے درمیان کوئی صلح کا راستہ نکل آئے. تاہم دوسری طرف سینئیر تجزیہ کار حامد میر کا موقف ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں جہانگیر ترین کچھ نہیں کر رہے۔ اُن کے ساتھ جو کر رہے ہیں عمران کر رہے ہیں جبکہ عمران ابھی فوری طور پر جہانگیر ترین کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے.

جہانگیر ترین کے عشائیے میں شرکت کرنے والے رکنِ قومی اسمبلی راجہ ریاض کے مطابق ڈنر میں شامل تمام اراکین نے ترین کے معاملے پر وزیرِِ اعظم سے ملاقات کے لیے درخواست کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد ملاقات کے لیے اراکین اسمبلی کے دستخطوں سے ایک درخواست وزیرِِ اعظم کو ارسال کر دی گئی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ وہ اور دیگر اراکین اسمبلی وزیرِ اعظم کو حقائق سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔ خیال رہے کہ پی ٹی آئی حکومت بننے سے قبل ترین، عمران خان کے مشیرِ خاص تھے اور پارٹی کے تمام فیصلے ان کی مشاورت سے کیے جاتے تھے۔ پی ٹی آئی کی حکومت بننے کے بعد بھی ترین کو وہی مقام حاصل رہا۔ وہ کابینہ کے اجلاسوں میں بھی شرکت کرتے اور وزرا ان کو اپنے محکموں کی کارکردگی کے بارے میں بتایا کرتے تھے لیکن پھر شوگر سکینڈل سامنے آنے کے بعد عمران خان اور ترین میں دوریاں اور فاصلے پیدا ہوگئے جن میں اب تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ترین کا عشائیہ ایک کامیاب سیاسی شو تھا جس سے حکومتی حلقوں میں قدرے تشویش پائی جاتی ہے۔ ترین کے عشائیے میں شریک اراکین قومی و صوبائی اسمبلی میں صوبہ پنجاب کے دو وزرا، پانچ مشیر اور معاونین وزیرِ اعلیٰ پنجاب بھی شامل تھے۔ ڈنر میں شرکت کرنے والے اراکین قومی اسمبلی میں راجہ ریاض، خواجہ شیراز، ریاض مزاری، سمیع گیلانی، جاوید وڑائچ، مبین عالم، غلام لالی اور غلام بی بی بھروانہ شریک ہوئے۔ عشائیے میں اراکین پنجاب اسمبلی اجمل چیمہ، نعمان لغاری، امیر محمد کان، فیصل جبوانہ، عبدالحئی دستی اور رفاقت علی خان بھی شریک تھے۔ انکے علاوہ عشائیے میں عون چوہدری، نذیر چوہان، سجاد وڑائچ، امین چوہدری، خرم لغاری، مہر اسلم بھروانہ، آفتاب ڈھلوں، عمر آفتاب ڈھلوں، آصف مجید، طاہر رندھاوا، بلال وڑائچ، زوار وڑائچ، نذیر بلوچ، امین چوہدری، افتخار گوندل، ثمن نعیم اور غلام رسول بھی شامل تھے۔

سینئر صحافی سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ترین اس پاور شو سے ترین اپنی طاقت دکھانا چاہ رہے ہیں کہ وہ بھی پی ٹی آئی میں ایک حیثیت رکھتے ہیں اور اگر اُنہیں تنگ کیا جائے گا تو وہ جماعت کے اندر ایک علیحدہ گروپ بنا سکتے ہیں۔ اسے پی ٹی آئی کا فارورڈ بلاک یا ترین گروپ بھی کہا جا سکتا ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق ترین کو اپنا علیحدہ سیاسی گروہ بنانے کی ضرورت اِس لیے محسوس ہوئی کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اُن کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترین سمجھتے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے آرکیٹیکٹ یعنی اسے بنانے والے ہیں۔ سہیل وڑائچ کے بقول ترین ابھی بھی یہ چاہتے ہیں کہ عمران اور اُن کے درمیان کوئی صلح صفائی یا کوئی درمیانی راستہ نکل آئے۔ اِس لیے انہوں نے پی ٹی آئی کے اندر ہی ایک الگ گروپ بنایا ہے جس کو بہت زیادہ پروان بھی نہیں چڑھایا۔ لیکن اگر ان کے خلاف کارروائی نہ روکی گئی تو پھر وہ اس گروپ کو متحرک کر کے عمران حکومت کیلئے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button