عمران کو نئے الیکشن چاہئیں تو اپنی اسمبلیاں کیوں نہیں توڑتے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ عمران خان اگر واقعی اپنے نام نہاد حقیقی آزادی کے خواب کو عملی جامہ پہنانے میں سنجیدہ ہیں اور نئے الیکشن کروانا چاہتے ہیں تو اس کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ وہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں توڑ کر وفاقی حکومت کو الیکشن پر مجبور کر دیں۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ عمران خان اگر واقعی نئے الیکشن کروانے میں سنجیدہ ہیں تو اس تالے کی چابی بھی انکے پاس موجود یے۔ انہیں چاہئیے کہ تالے کو چابی لگائیں اور پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی حکومتوں کے مزے لوٹنے کی بجائے انہیں توڑ دیں تاکہ وفاق کے پاس اگست 2023 میں آئینی مدت پوری ہونے پر الیکشن کروانے کا بہانہ ختم ہو جائے۔

جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ ہم تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں‘ ملکی معیشت زمین بوس ہو چکی ہے‘ مہنگائی‘ بے روزگاری اور کساد بازاری انتہا کو چھو رہی ہے‘ ملک سیاسی افراتفری کا شکار بھی ہو چکا ہے‘ حکومت اپنا سیاسی مستقبل بچانے میں مصروف ہے۔ دوسری جانب عمران خان ’’میں یا پھر کوئی بھی نہیں‘‘ کے عمل سے گزر رہے ہیں اور فوری الیکشن کروانے کا مطالبہ لے کر نکلے ہوئے ہیں۔ موصوف نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی حتمی کال دینے کا اعلان کیا ہے اور شہر شہر جاکر اپنے کارکنان سے حقیقی آزادی کے لیے شروع کیے گئے جہاد میں حصہ لینے کا حلف لے رہے ہیں۔ لہٰذا ملک اس وقت اللہ کے آسرے پر ہے‘ یہ چلتا ہے یا نہیں چلتا اس وقت کسی کو اس کی کوئی پروا نہیں‘ کاش اس وقت چند صحیح الدماغ لوگ اکٹھے ہو جائیں‘ یہ سب کو اکٹھا بٹھائیں‘ رولز آف گیم طے کریں اور ملک کو راہ راست پر لے آئیں‘ ہم زیادہ نہ کریں تو کم از کم ملک کے بنیادی مسئلے ہی طے کر کے ان سے متعلق ادارے بنا دیں اور ان اداروں کو ہر قسم کی سیاسی مداخلت سے بالاتر کر دیں۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہمیں احتجاج کے رولز بھی طے کرنا ہوں گے‘ کسی کو سڑک‘ شہر اور پل بند کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور جو یہ کرے اسے بھاری جرمانہ بھی کیا جائے اور اس کی سیاست اور کاروبار پر بھی پابندی لگا دی جائے‘ یہ ملک پھر چل سکے گا ورنہ آپ یقین کریں ہم 2023 میں بیٹھ کر 2022 کو یاد کیا کریں گے اور کہا کریں گے واہ وہ بھی کیا زمانہ تھا‘ چیزیں مہنگی تھیں لیکن دستیاب تھیں مگر اب پٹرول ہے۔

گیس ہے‘ بجلی ہے اور نہ ہی خوراک ہے۔ اگر موجود ہیں تو صرف عمران خان اور مریم نواز کی تقریریں ہیں‘ ہم اگر ایسے زمانے میں جانا چاہتے ہیں تو سو بسم اللہ، لیکن اگر ہم یہ ملک چلانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں عقل سے کام لینا پڑے گا‘ یہ یاد رکھیں زندہ رہنا‘ ترقی کرنا اور مطمئن زندگی گزارنا عقل کے بغیر ممکن نہیں اور ہم عقل سے مکمل طور پر عاری ہو چکے ہیں۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ جانور‘ پرندے اور مچھلیاں بھی موسم‘ خوراک اور سیکیورٹی کے لیے باقاعدہ پلاننگ کرتی ہیں‘ یہ زندگی کے چیلنجز کے مطابق اپنے اور اپنے بچوں کو ٹرینڈ کرتی یا کرتے ہیں‘ یہ موسم بدلنے سے پہلے نقل مکانی کرتے ہیں اور وہاں جاتے ہیں جہاں ان کی ضرورت کے مطابق خوراک ہوتی ہے‘ یہ وہاں انڈے اور بچے دیتے ہیں جہاں انھیں خطرہ نہیں ہوتا مگر ہم شاید من حیث القوم جانوروں سے بھی گئے گزرے ہیں‘ ہم موسم کی منصوبہ بندی کرتے ہیں‘ خوراک کی اور نہ ہی اپنی سیکیورٹی کی‘ ہمیں 75 برس ہو چکے ہیں مگر ہم نے ان 75 برسوں میں کسی بھی شعبے کے لیے پلاننگ نہیں کی‘ ہم میں اگرپلاننگ کی اہلیت ہوتی تو کیا آج ہماری یہ پوزیشن ہوتی؟ کیا ہمیں آج یوں در در بھیک مانگنی پڑتی؟

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہمیں ماننا ہوگا کہ ہم بحیثیت قوم فیل ہو چکے ہیں‘ ہم خود کو دنیا کی عقل مند ترین قوم کہتے اور سمجھتے ہیں لیکن ہم میں سیلاب کی منصوبہ بندی کی بھی اہلیت نہیں ہے‘ہمیں ان سردیوں میں کتنی بجلی اور کتنی گیس درکار ہوگی‘ کیا ہمارے پاس اگلے سال کے لیے گندم‘ دالیں‘ چاول اور چینی موجود ہو گی اور ہمیں اگلے مہینے کتنی پیناڈول چاہیے ہوگی ہمیں یہ تک معلوم نہیں ہوتا‘ جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ مجھے پچھلے دو ماہ میں ملک کی اہم شخصیات سے ملاقات کا موقع ملا‘ میری پچھلے ہفتے لندن میں نواز شریف اور اسحاق ڈار سے بھی دوسری ملاقات ہوئی‘ وہ بھی ملک کے بارے میں متفکر تھے‘ مجھے یہ فکر شہباز شریف‘ عمران خان‘ آصف زرداری‘ چوہدری شجاعت اور فوج کے اعلیٰ قائدین میں بھی دکھائی دی ہے لیکن ملک کو چلانا کیسے ہے، اس بارے کسی کے پاس کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں ہے‘ ہم نیچے سے لے کر اوپر تک کنفیوژ ہو چکے ہیں‘آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ ملک کے طاقتور ترین شخص سے دو سوال پوچھ لیں‘ پہلا یہ کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے اور دوسرا یہ کہ آگے کا راستہ کیا ہے؟ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں ان کے پاس بھی ان دونوں سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہو گا؟ اسٹیبلشمنٹ ملک کا مضبوط ترین ستون ہے‘ لیکن اس کے پاس بھی ان دونوں سوالوں کا کوئی جواب نہیں۔

ہم عمران سے اسٹارٹ کر لیتے ہیں‘ وہ نئے الیکشن چاہتے ہیں‘ سوال یہ ہے ان کے پاس کے پی اور پنجاب دو صوبوں میں حکومت ہے‘ یہ آج دونوں حکومتیں اور اسمبلیاں توڑ دیں‘ ملک میں نئے الیکشن ہو جائیں گے‘ یہ سیدھا راستہ اختیار کیوں نہیں کرتے؟دوسرا ملک کا ایک تہائی حصہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے‘ ہم فرض کر لیتے ہیں وفاقی حکومت یا اسٹیبلشمنٹ عمران کا مطالبہ مان لیتی ہے اور حکومت توڑ دی جاتی ہے تو سیلاب زدہ علاقوں میں فوری الیکشن کیسے ہوں گے اور اگر سال یا چھ مہینے تک یہ علاقے الیکشن کے قابل نہیں ہوتے تو اس دوران ملک کون چلائے گا؟ کیا ہم ایک طویل کیئر ٹیکر حکومت بنائیں گے اگر ہاں تو پھر آئی ایم ایف کے پیکیج کا کیا بنے گا؟

یہ فوراً معطل ہو جائے گا چناں چہ ملکی معیشت مزید ڈاؤن ہوجائے گی اور ڈیفالٹ کر جائے گا‘ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا عمران موجودہ الیکشن کمیشن کے ذریعے الیکشن قبول کر لیں گے؟ اگر نہیں تو نیا الیکشن کمیشن کیسے بنے گا؟ اور اگر یہ سب کچھ بھی ہو جائے‘ الیکشن بھی ہو جائیں اور عمران دوبارہ اقتدار میں بھی آ جائیں تو بھی وہ اتنی بڑی اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ سے شدید اختلافات کے ساتھ ملک کیسے چلائیں گے؟ کیا عمران خان کے پاس ان سوالوں کے جواب ہیں؟ چنانچہ ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن ہم سب بری طرح پھنس چکے ہیں کیوں کہ ہم نہ تو آگے بڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔

Back to top button