عمران کی سپیکر کوعدم اعتماد پر ووٹنگ لٹکانے کی ہدایت


وزیراعظم عمران خان نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو ہدایت کی ہے کہ کسی طرح تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا عمل اپریل کے دوسرے ہفتے تک لٹکایا جائے اور28 مارچ کو ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس بغیر کسی کارروائی کے صوابدیدی اختیارات کے تحت ملتوی کر دیا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تجویز کا بنیادی مقصد اپوزیشن کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور کرنا ہے تاکہ معاملہ لٹک جائے اور حکومت کو اپنے ناراض اتحادیوں اور باغی اراکین اسمبلی کو منانے کے لیے مزید وقت مل جائے۔
اسمبلی قواعد کے مطابق 28 مارچ کو اگر قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے تو اس کے بعد تین سے سات روز کے اندر سپیکر پر ووٹنگ کروانا لازم ہو گا۔ یوں اگر وہ ساتویں روز بھی ووٹنگ کروائیں تو 3 یا 4 اپریل سے آگے نہیں جا سکتے۔ تاہم سپیکر کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ 28 مارچ کو اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت نہ دیں اور اجلاس کو چند روز کے لیے ملتوی کر دیں۔ ایسے میں اگر اپوزیشن جماعتیں سپیکر کا فیصلہ عدالت میں چیلنج کرتی ہیں تو حکومت کا مقصد پورا ہو جائے گا اور معاملہ مزید تاخیر کا شکار ہو جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ کو بجٹ تک لٹکانا چاہتے ہیں، تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی وزیر اعظم کی خواہش پر عمل کرتے ہیں یا نہیں؟
یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں کارروائی اور طریقہ کار کے قواعد کی شق 37 کے مطابق عدم اعتماد کی قرارداد پیش ہونے کے تین سے سات دن کے اندر ووٹنگ کرانا لازم ہے۔
قومی اسمبلی کے 25 مارچ کو ہونے والے اجلاس میں اسد قیصر نے مرحومین كے لیے دعائے مغفرت کروانے کے فوراً بعد اجلاس ملتوی كرنے کا  اعلان كر دیا تھا۔ تاہم ساتھ میں انہوں نے یہ ضرور کہا کہ وزیر اعظم كے خلاف پیش كی گئی تحریک عدم اعتماد كو آئین اور قواعد كے مطابق ہینڈل كیا جائے گا۔ اسد قیصر اس سے قبل اپنی ایک ٹویٹ میں بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ قومی اسمبلی کا اجلاس آئین کے آرٹیکل 95 اور قومی اسمبلی کے رولز آف پروسیجر کی شق 37 کے مطابق چلائیں گے۔ قومی اسمبلی میں کارروائی اور طریقہ کار کے قواعد کی شق 37 کے مطابق عدم اعتماد کی قرارداد پیش ہونے کے تین سے سات دن کے اندر ووٹنگ کرانا لازم ہے۔ تاہم یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ایجنڈے پر قرارداد آنے کے بعد اس کا اطلاق ہو جاتا ہے؟
اس حوالے سے ایڈووکیٹ احمد پنسوتہ کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی قرارداد یا بل کا لسٹ ہونا علیحدہ چیز ہے اور سپیکر کا پیش کرنا علیحدہ۔‘ احمد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے عدالت میں کسی کیس کا لسٹ ہونا اور اس کا ٹیک اپ ہونا علیحدہ علیحدہ معاملے ہیں۔ ایڈووکیٹ احمد پنسوتہ کو قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کی شق 37 کے نمبر 4 کا حوالہ دے کر پوچھا گیا کہ اگر عدم اعتماد کی قرارداد سے پہلے ایوان میں بدنظمی ہو جائے تو کیا سپیکر ایک بار پھر اجلاس ملتوی کر سکتے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ’سپیکر کے پاس یہ جنرل اختیار ہے کہ وہ ہاؤس ان آرڈر رکھنے کے لیے اجلاس کو ملتوی کر دیں، اور ایسا وہ قرارداد کو ٹیک اپ کرنے کے بعد بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں کہا کہ 25 مارچ کو ہونے والا اجلاس ایک روایت کے تحت ملتوی کیا گیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کو بجٹ تک طول دیا جا سکتا ہے؟ اس پر آئینی ماہرین کا کہنا یے کہ ’یہ سیاسی حکمت عملی ہے اور ایسا ممکن بھی ہو سکتا ہے۔ راجہ عامر خان ایڈووکیٹ کے مطابق سپیکر اپنا اختیار  استعمال کرتے ہوئے یہ معاملہ بجٹ تک بھی لٹکا سکتے ہیں مگر پھر یہ سوال کھڑا ہو جائے گا کہ کیا اسکے پیچھے بدنیتی موجود ہے کہ نہیں۔ راجہ عامر کے مطابق اگر حکومت تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کو بجٹ تک کھینچ جاتی ہے تو پھر لازمی بات ہے کہ بجٹ تقاریر شروع ہو جائیں گی۔ انکا کہنا تھا کہ سپیکر  قومی اسمبلی کے فیصلے کو کسی بھی عدالتی مداخلت کے خلاف آئینی تحفظ حاصل ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ اپوزیشن کی جانب سے عدالت کو اپروچ کیا جائے تو وہ کوئی ایکشن ہی نہ کے، مگر سپیکر کے فیصلوں کو آئینی تحفظ ضرور حاصل ہے۔
واضع رہے کہ شاہ محمود قریشی نے جنوبی پنجاب کے لیے سپیکر قومی اسمبلی کو ایک ترمیمی بل بھی پیش کر دیا ہے جس کو 28 مارچ کے قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اگر اس بل کو سپیکر پہلے پیش کرتے ہیں اور اس پر بحث اور بد نظمی ہوتی ہے تو دیکھنا ہو گا کہ آیا سپیکر اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے کیا ایک بار پھر اجلاس کو ملتوی کریں گے یا نہیں؟

Back to top button