عمران کی چھٹی سے پہلے بزدار کے خلاف عدم اعتماد کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے والی اپوزیشن جماعتوں نے کپتان کی چھٹی کروانے سے پہلے ان کے وسیم اکرم پلس وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا دھڑن تختہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وزیراعظم کی فراغت کے فورا بعد وزیر اعلیٰ کی جانب سے پنجاب اسمبلی کی ممکنہ تحلیل کو روکا جا سکے۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اپنی فراغت یقینی نظر آنے کے بعد عمران خود تو قومی اسمبلی توڑنے کے اختیار سے محروم ہو چکے ہیں لیکن وہ اپنے وزیر اعلی کے ذریعے پنجاب اسمبلی برخواست کروا سکتے ہیں۔ لہذا پنجاب اسمبلی کی ممکنہ تحلیل کو روکنے اور پنجاب کا نیا وزیر اعلی لانے کے لیے عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اپوزیشن کے منصوبے کے مطابق عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر عمل درآمد وزیراعظم کے مستقبل کے فیصلے پہلے کروالیا جائے گا جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پرویز الہی بطور سپیکر اسد قیصر کی طرح تحریک عدم اعتماد کا معاملہ لٹکانے کی بجائے اس کو تیزی سے آگے بڑھائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کا پرویز الہی کو وزیر اعلی بنانے پر اتفاق ہوچکا ہے جس کا جلد اعلان کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ پرویز الہی کے صاحبزادے مونس الہی کی اچانک لندن روانگی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اپوزیشن ذرائع کے مطابق وزیراعلی پنجاب کے خلاف سو سے زائد اراکین اسمبلی کے دستخطوں سے تحریک عدم اعتماد کسی بھی وقت جمع کروائی جا سکتی ہے تاکہ اپنی فراغت کی صورت میں عمران خان اپوزیشن کے لیے صورتحال پیچیدہ بنانے کے لیے بزدار سے پنجاب اسمبلی نہ تڑوا سکیں۔
یاد رہے کہ اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد کوئی بھی وزیراعلی صوبائی اسمبلی توڑنے کی پوزیشن میں نہیں رہتا۔ کچھ یہی صورت حال وزیراعظم عمران خان کے ساتھ بھی ہے جو اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد قومی اسمبلی توڑنے کا آئینی اختیار کھو چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب اگر عمران چوہدری پرویز الہی کو وزارت اعلیٰ کی پیشکش کر بھی دیں تو وہ اسے قبول نہیں کریں گے کیونکہ وزیر اعظم کا اپنا اقتدار ختم ہونے جا رہا ہے اور چوہدری برادران ڈوبتی کشتی کے کبھی سوار نہیں بنتے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپنے 24 ممبران قومی اسمبلی کی جانب سے کھلی بغاوت کے بعد اب وزیراعظم کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کو ہے اور موجودہ صورتحال کا اثر پنجاب میں بھی پڑے گا جہاں بڑے پیمانے پر پی ٹی آئی کے اندر بغاوت ہونے کا امکان ہے۔
صورتحال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنا اقتدار بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دیے ہیں اور پچھلے ایک ہفتے میں 170 حکعمتی اراکین صوبائی اسمبلی میں سے 155 کے ساتھ ملاقاتیں کر ڈالی ہیں جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔ یاد رہے کہ پنجاب میں حکومتی جماعت تین دھڑوں میں بٹ چکی ہے جس میں بزدار، ترین اور علیم دھڑے شامل ہیں۔ دوسری طرف عثمان بزدار کی ایم پی اے حضرات سے سے ملاقاتوں کا اثر یہ ہوا ہے کہ پنجاب سول سیکرٹریٹ میں مختلف اضلاع میں سینکڑوں تقرر اور تبادلوں کے لیے اراکین اسمبلی کی سفارشات موصول ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ پچھلے چند روز میں 700 سے زائد ایسی سفارشات آئی ہیں جن میں نہ صرف پٹواریوں کے تبادلے بلکہ مختلف تھانوں میں پولیس افسران، ڈاکٹروں، اساتذہ اور دیگر محکموں کے افسران کے تبادلوں کی بھی سفارشات شامل ہیں۔ یہ سفارشات اراکین پنجاب اسمبلی کی طرف سے سے اپنے اپنے علاقوں میں اپنی پسند کے سول اور پولیس افسران کی تعیناتی سے متعلق ہیں۔بتایا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ ہاؤس نے چیف سیکریٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو یہ احکامات جاری کر دیے ہیں کہ ماضی کے برعکس کسی بھی ایم پی اے کا کوئی بھی کام نہ روکا جائے اور نہ ہی کسی کی فائل روکی جائے۔
یاد رہے کہ 2018 میں پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد سے اراکین پنجاب اور قومی اسمبلی کو ہمیشہ اس بات کی شکایت رہی ہے کہ بیوروکریسی انکے کاموں کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور وہ نہ صرف اراکین اسمبلی کے کام نہیں کرتی بلکہ وہ وزرا کے کام بھی نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مرتبہ پنجاب بھر کی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ بھی کی گئی اور چیف سیکرٹری بھی بدلے گئے، تاہم اب اپنا اقتدار خطرے میں دیکھ کر عثمان بزدار نے بھی ان حکومتی اراکین پنجاب اسمبلی سے خود ملاقاتیں شروع کر دی ہیں جن کو وہ پچھلے ساڑھے تین برس سے منہ لگانے کو تیار نہیں تھے۔
