عمران کی ہوشرُبا غیر اخلاقی ویڈیوز کون لیک کرنے والا ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کی امریکی سازش کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹنے کے بعد ہائبرڈ نظام سے اٹھنے والا سیاسی تعفن بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے، آڈیو لیکس کیا سامنے آئیں، عمران خان کے گمراہ کن بیانیے سے ہوا نکل گئی۔ لیکن اب عوام کو ”ریاست مدینہ“ کے دعویدار کی ہوش ربا غیر اخلاقی ویڈیوز لیک ہونے کا انتظار ہے تاکہ اس کا اخلاقی جنازہ بھی اٹھایا جا سکے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ فقط عوام کے حق جان کاری کے لیے کہ کیسے تماشبین اپنا اپنا جادو جگانے کے لیے معصوم مداحین کو کیسے کیسے منتروں سے گمراہ کرتے ہیں۔ عمران خان کی حال ہی میں ریلیز ہونے والی آڈیو لیکس نے ثابت کیا ہے کہ جس سازشی بیانیے پر تعریفی ڈونگرے برسائے جا رہے تھے، وہ ایک بیہودہ جعل سازی تھی جو مکمل طور پر بے نقاب ہو چکی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب لاڈلے کے تن پہ ستر چھپانے کو کوئی چیتھڑا بھی نہیں بچا۔ البتہ اس بات پر سر پیٹا جانا چاہئیے کہ وزیر اعظم ہاؤس یا پی ایم آفس کی جاسوسی کا قومی فریضہ کونسا قومی ادارہ انجام دے رہا تھا؟ جانے سب ”اندر کی خبر“ لانے والوں کو چپ کا روزہ کس نے رکھوایا ہے یا یہ محض عادتاً سیلف سنسر شپ کا مظہر ہے؟
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس کی جاسوسی کرنے والوں کا سراغ لگانے کا جائز مطالبہ کیا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ شاید بھول گئے کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم خود حکومت کی جاسوسی کو ہر اعتبار سے جائز قرار دیا تھا۔ اب اگر دو متحارب اطراف سائفر بارے تحقیقات پر مصر ہیں تو اس میں دیر کیسی۔ اگر وزیراعظم کا دفتر محفوظ نہیں تو پھر اس ملک میں کیا محفوظ ہے؟ سوقل یہ ہے کہ جس بھی ایجنسی کا یہ سب کیا دھر اہے، اسکا اصل مینڈیٹ کیا ہے؟ وہ کس کو جوابدہ ہے؟ وہ ایجنسی ریاست کے اندر ریاست کیوں بنی ہوئی ہے اور اسے احتساب اور نگرانی کے کسی آئینی و پارلیمانی دائرے میں کیسے لایا جائے؟
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ ملک کا منظر یکا یک بدل رہا ہے اور ایسا ان بے آس آنکھوں نے کئی بار دیکھا ہے۔ کس طرح ایک انتہائی پاپولر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ایک اتحاد بنوایا گیا اور انہیں عدالتی اعانت سے تختہ دار پہ لٹکادیا گیا۔ کس طرح جمہوریت کو پٹری سے اتارنے کے لیے نظریہ ضرورت کے تحت غیر سیاسی انتخابات میں جنرل ضیا الحق نے اپنی مسلم لیگ بنائی جس طرح ایوب خان نے بنائی تھی۔ اور پھر کس طرح چار منتخب حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ کی گئی۔
دو بار کی منتخب وزیراعظم بینظیر بھٹو کو سرعام قتل کروادیا گیا اور دوسرے وزیراعظم نواز شریف کو پہلے گرفتار اور پھر سپریم کورٹ کے ذریعے نا اہل کروا دیا گیا۔ جو دو بڑی جماعتیں میدان میں تھیں، ان پر گند اچھال کر ایک لاڈلے کھلاڑی کو آسمان پہ چڑھایا گیا، جس کا انجام اور نواز شریف کی واپسی کے امکانات اب ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ اس ساری شعبدہ بازی میں جنازہ نکلا بھی ہے تو آمرانہ مقتدرہ مخالف جمہوری بیانیے کا۔ سویلین بالادستی کا خواب خواب ہی رہا۔ وہ پی ڈی ایم کا 26 نکاتی ایجنڈا بھی لگتا ہے سائفر کی طرح چوری ہوگیا ہے۔ گم گشتہ میثاق جمہوریت تو کہیں تاریخ کے صفحات میں گم ہوگیا۔ اب جو اینٹی شریف کلائمیکس کا اینٹی کلائمیکس ہوا ہے، وہ محض مکافات عمل نہیں وہی پرانا ہائبرڈ کھیل ہے جس کے کھلاڑی بدلتے رہتے ہیں، ایمپائر وہی رہتے ہیں۔
بہر کیف نواز شریف اور ان کی بہادر بیٹی مریم نواز کے ساتھ جو ظلم کیا گیا وہ انصاف کے کٹہرے میں کھڑا نہ رہ پایا۔ اب توپوں کا رخ لاڈلے کی جانب ہے جس کی قلابازیاں اس کے لیے کافی ہوں گی۔ قومی سلامتی اور قومی آزادی کو بچاتے بچاتے اس نے ملک کو ذاتی آمریت کی بھینٹ چڑھانے میں کوئی کیا کسر تھی جو نہ چھوڑی۔ اصل سوال ہے کہ اس جعلی سیاسی ہائبرڈ نظام سے ہم کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اس کے باعث نہ کوئی مستقل آئینی بندوبست چل پارہا ہے، نہ ادارے اپنے آئینی فرائض پورے کررہے ہیں اور نہ عوامی نمائندگی کا کوئی جاندار نظام پنپ رہا ہے۔ ناکام ریاست اسی کا نام ہے۔
