عمران کے الزامات کا مرکز ‘ڈرٹی ہیری’ اصل میں کون ہے؟


تحریر: عامر میر
اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے کرسی کی خاطر سڑکوں پر مارے مارے پھرنے والے سابق وزیراعظم عمران خان اپنی تقریروں میں جن دو خفیہ شخصیات کو مسٹر ایکس اور مسٹر وائی کے نام سے پکارتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے اب انہوں نے لانگ مارچ کے پہلے ہی دن ان کے نام ظاہر کر دیے ہیں۔ ان شخصیات میں سے ایک تو آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کاوئنٹر انٹیلی جنس میجر جنرل فیصل نصیر ہیں جبکہ دوسرے آئی ایس آئی اسلام آباد کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر فہیم ہیں۔ تاہم عمران جس جرنیل کو ‘ڈرٹی ہیری’ کے نام سے مخاطب کرتے ہیں وہ ڈی جی "سی” میجر جنرل فیصل نصیر ہیں جنہیں فوج حلقوں میں "سپر سپائی” کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فیصل نصیر اب عمران کی چھیڑ بن چکے ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ خوف ہے کہ ایک دن ان کی اپنی باری بھی آنی ہے۔ میجر جنرل فیصل نصیر کو حال ہی میں بریگیڈیئر سے ترقی دے کر میں جنرل بنایا گیا تھا اور میجر جنرل کاشف ظفر کی جگہ آئی ایس آئی میں ڈی جی کاؤنٹر انٹیلی جنس لگایا گیا تھا۔ ان سے پہلے اس عہدے پر موجود کاشف ظفر سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے زمانے سے یہاں تعینات تھے اور ان کے کافی قریب خیال کیے جاتے تھے. میجر جنرل کاشف ظفر کو اب ڈی جی ‘P’ لگا دیا گیا یے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں بریگیڈئیر سے ترقی پانے والے میجر جنرل فہیم عرف کمانڈر فہیم کو آئی ایس آئی میں ڈی جی ‘F’ لگایا گیا تھا اور اسلام آباد کا سیکٹر کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔ اسی طرح بریگیڈئیر سے ترقی پانے والے میجر جنرل عدیل کو آئی ایس آئی میں ڈی جی ‘T’ لگایا گیا جبکہ میجر جنرل شہباز تبسم کو ڈی جی ‘X’ لگا دیا گیا۔

جہاں تک میجر جنرل فیصل نصیر کا تعلق ہے تو وہ آئی ایس آئی سے پہلے ملٹری انٹیلی جنس میں بھی تعینات رہے ہیں۔ بارعب آواز اور بھاری بھرکم شخصیت کے مالک میجر جنرل فیصل نصیر کو دھڑے باز اور سخت گیر شخصیت قرار دیا جاتا ہے۔ انہیں انسداد دہشت گردی کے لیے بہادری کا مظاہرہ کرنے پر اس سال ہلال شجاعت سے نوازا گیا تھا۔ فیصل نصیر اس سے پہلے دو مرتبہ تمغہ بسالت اور ایک مرتبہ امتیازی سند بھی حاصل کر چکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے ڈی جی کاؤنٹر انٹیلی جنس کو ڈرٹی ہیری قرار دینا کوئی نئی بات نہیں کیونکہ اس عہدے پر فائز رہنے والا ہر افسر متنازعہ ہی قرار پاتا ہے جسکی بنیادی وجہ اسکے فرائض کی نوعیت ہے۔ ماضی میں بھی ڈی جی سی کے عہدے پر رہنے والے آفیسرز سیاسی حلقوں کی طرف سے الزامات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر فیض حمید اور عرفان ملک بھی ماضی میں ڈی جی سی رہے ہیں اور دونوں کو متنازع قرار دیا جاتا تھا جس کی بنیادی وجہ انکا سیاسی انجینئیرنگ میں ملوث ہونا تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈی جی سی سیاسی جماعتوں اور سیاسی امور کو دیکھتے ہیں اس لئے وہ ڈی جی آئی ایس آئی سے زیادہ آرمی چیف کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ موجودہ ڈی جی سی میجر جنرل فیصل ہے آرمی حلقوں میں سپر سپائی کے نام سے اس لیے جانے جاتے ہیں کیوں کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں انہوں نے بڑا مؤثر کردار ادا کیا تھا۔ عمران خان کی جانب سے فوج کو دوبارہ سیاست میں گھسیٹنے کی کوششیں ناکام بنانے والے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی طرح میجر جنرل فیصل نصیر بھی اپنے ادارے کو غیر سیاسی رکھنے کے لیے پرعزم ہیں لہذا انہیں بدزبان خان کی جانب سے ڈرٹی ہیری قرار دیا جا رہا ہے۔

عمران خان کی جانب سے بار بار ڈرٹی ہیری کے ذکر کے بعد سے یہ کردار سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔ پشاور میں وکلا کنونشن سے خطاب میں عمران نے کہا تھا کہ اسلام آباد میں ایک ‘ڈرٹی ہیری’ آ گیا ہے جس کا مشغلہ ہے کہ وہ لوگوں کو گھروں سے اُٹھاتا ہے اور ان پر تشدد کرتا ہے۔ اس سے قبل سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری اور اُنہیں مبینہ طور پر برہنہ کر کے تشدد کرنے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے بھی عمران نے ‘ڈرٹی ہیری’ کا نام لیا تھا۔لیکن نہ تو عمران نے واضح کیا کہ وہ ڈرٹی ہیری کس کو کہہ رہے ہیں اور نہ ہی ان کے ان الزامات کی تصدیق ہو پائی۔ اس سے پہلے انہوں نے شہباز گل کے حوالے سے بھی ایسے ہی الزامات عائد کیے تھے لیکن کسی میڈیکل رپورٹ میں ان کی تصدیق نہیں ہو پائی۔

اب سوال یہ ہے کہ عمران خان نے میجر جنرل فیصل نصیر کے لیے ڈرٹی ہیری کا لفظ کیوں چنا۔ ہالی وڈ فلموں کا شغف رکھنے والے جانتے ہیں کہ ڈرٹی ہیری کون تھا، البتہ وہ لوگ جو فلمیں نہیں دیکھتے، اس کردار سے ناآشنا ہیں۔ دراصل ڈرٹی ہیری کا کردار 1971 میں اسی نام سے ریلیز ہونے والی ہالی وڈ فلم میں مشہور اداکار کلنٹ ایسٹ وڈ نے ادا کیا تھا۔ کلنٹ ایک ایسے دبنگ پولیس والے کے روپ میں نظر آئے جو کہ خطرناک مجرموں کو گرفتار کر کے جیل بھیجنے کی بجائے انہیں سڑکوں پر گولیاں مار کر موقع پر انصاف کرنے کا قائل تھا۔ حقیقی زندگی میں اس پولیس والے کا اصل نام ہیری کیلاہین تھا لیکن اسے فلم میں ‘ڈرٹی ہیری’ کے نام سے دکھایا گیا جس نے امریکہ بھر میں مقبولیت حاصل کی۔

اس فلم کے دوران جب ہیری کیلاہین سے اس کے ساتھی نے ‘ڈرٹی’ کہلانے کی وجہ دریافت کی تو اس نے کہا تھا کہ اسے یہ خطاب اس لیے دیا گیا کیوں کہ وہ تمام ایسے کام کرتا ہے جو دیگر پولیس والے نہیں کرتے، یعنی وہ معاشرے کا گند صاف کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ ڈرٹی ہیری کا کردار بنیادی طور پر ایک اینٹی ہیرو پولیس والے کا تھا جو فلم کے دوران ایک سین میں شہر کے میئر سے کہتا ہے کہ اگر وہ کہیں جرم ہوتا دیکھے گا تو اس کو روکنے کی کوشش کرے گا، نہ کہ قانون کا انتظار کرے گا۔ کلنٹ ایسٹ وڈ نے اس کردار کو بطور ‘ڈرٹی ہیری’ بخوبی ادا کیا لہٰذا اس کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے فلم کے چار عدد سیکول اور بھی بنائے گے۔ ان میں 1970 کی دہائی میں ریلیز ہونے والی فلم ‘میگنم فورس’ اور ‘دی اینفورسر’ اور 1980 کی دہائی میں ریلیز ہونے والے ‘سڈن امپیکٹ’ اور ‘دی ڈیڈ پول’ شامل ہیں۔دو امریکی مصنفین ہیری جولین فنک اور ان کی اہلیہ ریٹا فنک نے ڈرٹی ہیری کا کردار 1960 کی دہائی میں لکھا تھا جو کہ فلم میں ایک سیریل کلر کو ختم کرنے کے لیے قانون توڑتا ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ حقیقی زندگی میں کھلم کھلا قانون توڑنے اور آئین شکنی کرنے والے عمران خان کی جیت ہوتی ہے یا ڈرٹی ہیری کی؟

Back to top button