عمران کے امریکہ مخالف بیانیے سے فوج مخالف ٹرینڈ کیسے بنا؟


ایف آئی اے حکام نے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر حال ہی میں چلنے والے فوجی قیادت مخالف ٹرینڈ کے پیچھے مرکزی کردار سابقہ حکومت کی مشینری کا تھا اور اس ٹرینڈ کا آغاز سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ایک مبینہ دھمکی آمیز خط لہرانے اور امریکہ مخالف بیانیہ اپنانے کے بعد ہوا تھا۔ یاد رہے کہ عمران حکومت برخاست ہونے کے بعد اس ٹرینڈ میں تیزی آگئی تھی اور جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو باقاعدہ ٹارگٹ کر لیا گیا تھا۔
یہ ٹرینڈ ابھی ختم تو نہیں ہوا لیکن کافی نیچے آگیا ہے جس کی بنیادی وجہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے شروع کیا جانے والا کریک ڈاؤن تھا جس کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ ایف آئی اے حکام نے اپنی ایک رپورٹ میں وفاقی حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ امپورٹڈ حکومت نامنظور سے شروع ہونے والا سوشل میڈیا ٹرینڈ جلد ہی ‘سرنڈر باجوہ’ اور ‘باجوہ ٹریٹر’ جیسی خطرناک حدود میں داخل ہو گیا تھا جس کے بعد ملک بھر میں اس ٹرینڈ کے پیچھے موجود لوگوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ تحریک عدم اعتمادکے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر یعنی فوجی ترجمان کے آفیشل اکائونٹ سے میزائل کے تجربے کا ٹویٹ کیا گیا تو چند منٹ میں ہی فوج مخالف کمنٹس اور پیغامات کا انبار لگ گیا۔ یہ سب خود فوجی قیادت کے لیے بھی غیر متوقع تھا۔ مگر فوج مخالف یہ ٹرینڈز رکے، نہ ان سے جڑے سوالات۔ عمران خان کی احتجاج کی اپیل پر سڑکوں پر آنے والے عوامی اجتماعات میں ‘اتنے ویگو ڈالے کہاں سے لاؤ گے؟’ کے علاوہ ‘چوکیدار چور ہے’ کے قابل اعتراض نعرے بھی نظر آنا شروع ہو گئے تھے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران حکومت کا خاتمہ تو پارلیمان میں ایک مکمل طور پر آئینی طریقے سے ہوا۔ خود عمران خان اور ان کی پارٹی کی قیادت اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار فوجی قیادت کو نہیں، بلکہ امریکی سازش اور اپوزیشن کے گٹھ جوڑ کو قرار دیتے ہے لہٰذا سوال یہ ہے کہ پھر اس سب میں فوج یا آرمی چیف کا ذکر کہاں سے اور کیوں آیا؟
ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق یہ ٹرینڈ بنانے میں تحریک انصاف کے حامیوں اور سابقہ حکومتی مشینری کا مرکزی کردار تھا۔ اس ٹرینڈ کو روکنا تب ممکن ہوا جب فوجی قیادت نے اسکا نوٹس لیا اور خفیہ ایجنسیوں کی زیرقیادت ایف آئی اے نے گرفتاریوں کا آغاز کیا۔
یاد رہے کہ فوج کی فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں بھی کہا گیا تھا کہ ایسے ملک دشمن ٹرینڈز کا سخت نوٹس لیا گیا ہے، انھیں فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی مہم اور پراپیگنڈہ قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ یہ مہم عوام اور فوج کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ تعمیری تنقید تو برداشت کی جائے گی مگر ‘بے بنیاد کردارکشی قابل قبول نہیں ہے۔ یہ غیر قانونی، غیر اخلاقی اور ملکی مفاد کے خلاف ہے۔’ انھوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان اور آرمی چیف کے درمیان اب بھی ایک اچھا ذاتی تعلق ہے اور ان کے درمیان کوئی مسائل نہیں۔
دوسری جانب ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ اب تک سولہ ایف آئی آرز درج ہو چکی ہیں جبکہ سولہ افراد کو ہی گرفتار کیا گیا ہے جو جوڈیشل ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔ ان کے مطابق یہ تمام افراد تحریک عدم اعتماد کے دوران فوج اور عدلیہ کے خلاف پراپیگنڈہ میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ان میں پنجاب اور اسلام آباد سے چھ، چھ افراد، خیبر پختونخوا سے تین جبکہ کراچی سے ایک آدمی گرفتار کیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اسی حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی اور عدالت نے ایف آئی اے کو حکم دیا کہ وہ پی ٹی آئی کے ایکٹویسٹس کو ہراساں نہ کرے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے عہدیدار یا حمایتی کسی فوج مخالف، منظم مہم کا حصہ ہیں نہ ہی اس کی حمایت کرتے ہیں۔
اگرچہ پی ٹی آئی کے لیڈران نے خود کو اس مہم سے دور رکھا مگر پی ٹی آئی ہی کے آفیشل ہینڈل سے کہا گیا کہ وہ پی ٹی آئی ایکٹویسٹ جو سمجھتے ہیں کہ انھیں ان کے سیاسی نظریات کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے یا انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں وہ فورا ًانھیں مطلع کریں۔ لیکن ایف آئی اے اور خفیہ ایجنسیوں کی تحقیقات کے مطابق فوج مخالف بیانیہ چلانے والے پی ٹی آئی کے ہی سپورٹرز تھے جو باقاعدہ فوجی قیادت کا نام لے رہے تھے حالانکہ عمران نے کسی بھی موقع پر براہ راست فوج کو اپنے فراغت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا؟
خیال رہے کہ ان تمام ٹرینڈز اور عوامی اجتماعات میں صرف فوجی قیادت کو ہی نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے ججز کو بھی نشانہ بنایا گیا اور خاص طور پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی تصاویر شیئر کی جاتی رہیں۔
بنیادی وجہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے 7 اپریل کے روز ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کو غیر آئینی قرار دیا تھا اور قومی اسمبلی بھی بحال کر دی تھی۔ چنانچہ انہیں بھی تحریک انصاف کے حمایتیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ یہ فیصلہ سنانے والے پانچ ججوں میں وہ بھی شامل تھے جنہوں نے نواز شریف کو پانامہ کیس میں نا اہل کیا اور عمران خان کو صادق اور امین قرار دیا۔
لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا سے شروع ہونے والا یہ بیانیہ کیا عوامی سطح پر تحریک انصاف کو کامیاب کرے گا اور کیا فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایک عوامی بیانیہ کھڑا کرنا اقتدار میں واپسی کی کشتیاں جلانے کے مترادف ہے؟ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کا فوج مخالف بیانیہ ایک وقتی بیانیہ ہے جس کا بنیادی مقصد نئے الیکشن کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔ اگر تحریک انصاف کا یہ مطالبہ مان لیا جاتا ہے تو اسکے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ میں نرمی پیدا ہو سکتی ہے، لیکن اگر یہ مطالبہ پورا نہ ہوا اور عمران خان نے کھل کر فوج مخالف بیانیہ اپنانے کی کوشش کی تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اور کپتان کرسی سے مزید دور ہونے کے علاوہ جیل بھی جا سکتے ہیں۔

Back to top button