عمران کے خالق جنرل باجوہ مکافات عمل کا شکار کیسے ہوئے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ جنرل قمر باجوہ کی زیر قیادت فوج اور آئی ایس آئی کے ہاتھوں حکمران بننے والے عمران خان اقتدار سے نکلنے کے بعد نہ صرف اسی فوج اور آئی ایس آئی کیلئے مصیبت بن چکے ہیں بلکہ جنرل باجوہ کو بھی تختہ مشق بنائے ہوئے ہیں۔ آج جب جنرل باجوہ ریٹائرڈ ہو چکے ہیں تو عمران خان اپنے اسی محسن کو ڈبل گیم کھیلنے والا دھوکے باز، میرجعفر اور میرصادق قرار دے رہے ہیں۔ اسے مکافات عمل بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ ماضی میں کچھ ایسی احسان فراموشی جنرل باجوہ نے خود کو آرمی چیف بنانے والے وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ بھی کی تھی۔

 

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ کاش عمران بارے میری پیشں گوئیاں غلط ثابت ہوتیں، تو جنرل باجوہ اور پاکستان کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ انکا کہنا ہے کہ 2010 میں طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کے غبارے میں ہوا بھرنے کا جو عمل شروع کیا تھا وہ جنرل راحیل شریف کے دور میں آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل(ر) ظہیر الاسلام کے ہاتھوں انتہا تک پہنچا اور اسلام آباد میں 2014 میں دھرنا دیا گیا۔ لیکن پروجیکٹ عمران کی تکمیل جنرل باجوہ کے دور میں فیض حمید کی زیر نگرانی ہوئی جب نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے بعد نااہل قرار دلوایا گیا اور 2018 کے الیکشن میں اپوزیشن کو دھاندلی سے عمران خان کو وزیراعظم بنوایا گیا۔ تاہم اقتدار میں آتے ہی عمران اور ان کے وزرا آپے سے باہر ہو کر دوسروں کی عزتوں کے درپے ہو گئے۔ لیکن اب اپنے محسن اعظم جنرل قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے فورا ًبعد جس طرح عمران نے ان پر الزامات کی بوچھاڑ کی تو مجھ جیسا انسان بھی دم بخود رہ گیا۔ میں اس محسن کشی کو کوئی نام دے سکتا ہوں اور نہ اپنا تاثر الفاظ میں بیان کر سکتا ہوں۔ دوسری جانب جنرل باجوہ نے عمران خان کو وزیراعظم بنوانے اور پھر ان کی حکومت کو چلانے کیلئے جو کچھ کیا، اس کا بھی الفاظ میں احاطہ نہیں کر سکتا۔

 

سلیم صافی کہتے ہیں کہ جب بھی موقع ملا جنرل باجوہ نے مجھے قائل کرنے کی کوشش کی کہ میں عمران خان کے ساتھ تعاون کروں، لیکن افسوس کہ اپنی احسان فراموشی اور ابن الوقتی سے عمران نے آج جنرل باجوہ کو ہم جیسے نقادوں کے سامنے بھی شرمندہ کر دیا ہے۔خلوتوں کی باتیں تو امانت ہیں اور امانت ہی رہیں گی لیکن جلوت کے ایک واقعے کا ذکر اب چل پڑا ہے تو تفصیل بیان کرنے چلا ہوں۔ 2018 کے الیکشن سے چند روز قبل مجھے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ایک سٹاف ممبر کی کال آئی کہ شام کو چیف صاحب نے گھر پر گپ شپ کیلئے بلایا ہے۔ میں آرمی ہائوس پہنچا تو دیکھا کہ حامد میر بھی وہاں بیٹھے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ارشاد بھٹی بھی تشریف لے آئے۔

سیاست اور انتخابات پر بات ہونے لگی تو میں نے ان کے سامنے آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آر کی سیاست میں مداخلت کی شکایت کی۔

انہوں نے جواب میں کہا کہ نواز شریف سے میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں لیکن وہ میری فوج کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ جب مجھے محسوس ہوا کہ وہ اور ان کے پولیٹکل منیجر ہر قیمت پر عمران کو وزیراعظم بنوانے پر مصر ہیں تو میں نے ان سے عرض کیا کہ سر: اگر زیادہ مجبوری ہے تو زرداری صاحب کو وزیر اعظم بنوا دیں لیکن عمران خان کو بنوانے کی غلطی نہ کریں۔ اس پر جنرل صاحب نے مجھ سے کہا کہ صافی! آپ اچھے بھلے صحافی ہو لیکن جب عمران کا ذکر آتا ہے تو بغض عمران میں بالکل پاگل ہوجاتے ہو۔ میں نے جواباً عرض کیا کہ سر میں پاگل ہوں یا نہیں لیکن آپ لوگ عمران کی محبت میں حد سے زیادہ پاگل ہو رہے ہیں۔ اس دوران گفتگو تلخ ہو گئی۔ جنرل صاحب کے غصہ کی وجہ یہ تھی کہ وہ صدق دل سے عمران کو مسیحا سمجھ رہے تھے جبکہ میں صدق دل سے انہیں مصیبت سمجھ رہا تھا۔ ڈھائی گھنٹے کی اس مغز کھپائی کے دوران مجھے یقین ہوگیا کہ کچھ بھی ہو جائے میں جنرل صاحب کو قائل نہیں کر سکتا۔ دوسرا وہ بھی جان چکے کہ یہ شخص عمران کے بارے میں رائے تبدیل کرنے کو تیار نہیں۔ نوبت یہاں تک آ گئی کہ میں نے عرض کیا باجوہ صاحب؛ میں پاکستان چھوڑ دوں گا لیکن اپنے ضمیر کے خلاف عمران خان کو وزیراعظم بنوانے کی اس گیم کا حصہ نہیں بن سکتا۔ بہر حال ان کا بڑا پن تھا کہ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں تو آپ کے ساتھ صرف ڈسکشن کررہا تھا۔ آپ پر کوئی جبر نہیں۔ میری طرف سے آپ کو اجازت ہے کہ جس کو چاہیں سپورٹ کریں، اگرچہ بعد میں ان کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے میرا جینا حرام کئے رکھا۔

 

سلیم صافی کہ بقول جب ملاقات ختم ہوگئی اور اجازت لینے کا وقت آیا تو میں نے ان سے عرض کیا کہ جنرل صاحب ! اب جب آپ لوگوں نے فیصلہ کرہی لیا ہے اور جس طریقے سے آپ کی آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آر متحرک ہیں تو سلیم صافی کیا، اگر پورا میڈیا بھی چاہے تو عمران خان کے وزیراعظم بننے کا راستہ نہیں روک سکتا، لیکن میں چند باتوں کو ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں تاکہ میری حد تک فرض پورا ہوجائے۔ پہلی بات یہ کہ عمران خان کی سوچ ذات سے شروع ہوتی اور ذات پر ختم ہوتی ہے، دوسرا وہ ہر کسی کو معاف کر دیتا ہے لیکن اپنے محسن کو معاف نہیں کرتا۔ تیسری بات یہ کہ آپ لاکھ مدد کریں یہ شخص چین اور سعودی عرب جیسے دوست ممالک کے ساتھ نہیں چل سکے گا، آخری بات یہ کہ اس وقت آپ لوگ پختون پشتون اور بلوچ قوم پرستوں سے پریشان ہیں لیکن آگے آپکے لیے ایک اور مشکل تب کھڑی ہو گی جب عمران کی خاطر دیگر جماعتوں کو ٹھکانے لگائے جانے کے نتیجے میں پنجاب میں بھی پی ٹی ایم بن جائے گی۔ یہ تین باتیں گوش گزار کرنے کے بعد ہم تینوں جنرل صاحب سے اجازت لے کر رخصت ہوگئے۔

 

سلیم صافی کہتے ہیں کہ اس کے بعد عمران خان وزیراعظم مقرر کر دیے گئے۔ خان کی حکومت بنوانے کے بعد اسے چلوانے کیلئے بھی جنرل قمر باجوہ سے جو کچھ ہو سکتا تھا، انہوں نے کر ڈالا لیکن بدقسمتی سے میری سب پیشں گوئیاں درست ثابت ہوئیں اور اقتدار سے نکلنے کے بعد عمران خان نہ صرف اسی فوج اور آئی ایس آئی کیلئے مصیبت بن چکے ہیں بلکہ جنرل باجوہ کو بھی تختہ مشق بنائے ہوئے ہیں۔ شاید اسی کو مکافات عمل کہتے ہیں۔

Back to top button