عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا مستقبل کیا ہے؟


اپوزیشن اتحاد کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف اعلان کردہ تحریک عدم اعتماد دس مارچ سے پہلے داخل کئے جانے کا امکان ہے۔
اپوزیشن ذرائع کے مطابق 10 مارچ کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے خلاف ایف آئی اے کےمنی لانڈرنگ کیس میں فرد جرم عائد ہونے کا امکان ہے جس کے بعد ان کی گرفتاری کا بھی امکان ہے۔ اسکے علاوہ اپوزیشن کو وزیراعظم کی جانب سے اسمبلیاں تحلیل کئے جانے کا خدشہ بھی ہے چنانچہ ممکنہ طور پر 10 مارچ سے پہلے تحریک عدم اعتماد دائر کر دی جائے گی۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد فروری کے آخری ہفتے میں دائر ہو جانا تھی لیکن تحریک انصاف کے ناراض دھڑے کے قائد جہانگیر ترین کی علاج کی غرض سے لندن روانگی اور حکومت کی کلیدی اتحادی جماعت مسلم لیگ قاف کے کرتا دھرتا پرویزالٰہی کی جانب سے سے بظاہر کھیلیں جانے والی ڈبل گیم کی وجہ سے معاملہ تاخیر کا شکار ہو گیا۔ واضح رہے کہ ق لیگ نے مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کاساتھ چھوڑنے کے عوض پنجاب کی وزارت اعلیٰ مانگی ہے لیکن ساتھ ہی حکومتی وفود کو بھی تعاون کی یقین دھانی کروا رہے ہیں جس وجہ سے نواز شریف ق لیگ کی مدد لینے اور مستقبل میں پرویز الٰہی کو تخت لاہور پر بٹھانے کے حوالے سے فیصلہ نہیں کر رہے حالانکہ آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن نوازشریف کو پرویز الہی کی سفارش کر چکے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کھل کر حکومت یا اپوزیشن کا ساتھ نہ دینے کی وجہ سے بے یقینی کی فضا بن چکی ہے جس کا زیادہ نقصان اپوزیشن کو ہوتا نظر آتا ہے۔ خیال رہے کہ عمران خان کی دو بڑی اتحادی جماعتیں قاف لیگ اور ایم کیو ایم ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر چلتی ہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک انہیں کوئی واضح اشارہ نہیں ملا۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان بھی اپنی حکومت بچانے کے لئے سرگرم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے ناراض رفیق جہانگیر ترین سے فون پر بات کی ہے ان کی طبیعت دریافت کی ہے۔ اس کے علاوہ وہ گجرات کے چوہدریوں کا منت ترلہ بھی کر رہے ہیں اور ایم کیو ایم سے بھی رابطے میں آچکے ہیں۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت کے بقول انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے ساتھ حال میں ہونے والی ملاقات میں تین سوالات رکھے تھے جن کے جوابات کے وہ اب تک منتظر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سوالوں کی جواب ملنے پر ہی وہ اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے کوئی فیصلہ کر پائیں گے۔ خیال رہے کہ پرویز الٰہی کو وزیراعلی پنجاب بنانے کی تجویز نواز شریف کو فضل الرحمان اور آصف زرداری نے دی تھی لیکن چوہدریوں کی جانب سے بار بار موقف بدلنے کی وجہ سے اپوزیشن اتحاد وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل کرنے کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہے۔ اسکے علاوہ اپوزیشن اتحاد کو تحریک انصاف میں ایک فارورڈ بلاک کے سامنے آنے کا انتظار بھی ہے لیکن تحریک عدم اعتماد 10 مارچ تک داخل کر دی جائے گی۔
تحریک عدم اعتماد پر ڈیڈ لاک بارے مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف کے درمیان ایک بار پھر ٹیلفونک رابطہ ہوا ہے۔ مولانا نے عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے شرائط نہ رکھنے پر زور دیا جبکہ نواز شریف نے تحریک کی کامیابی کیلئے ن لیگ کے موقف سے آگاہ کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر ڈیڈ لاک کی وجہ سے پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی میں بات چیت رک گئی تھی لیکن ایک بار پھر پی ڈی ایم اور ن لیگی سربراہوں نے بات چیت کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف نے پہلے خود دوبارہ مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ حکومتی اراکین کی حمایت کی صورتِ میں عدم اعتماد کی کیا حیثیت ہوگی۔ لہذا اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں نے اپنے آئینی اور قانونی ماہرین سے تجاویز مانگ لی ہیں۔ ادھر تحریک عدم اعتماد کیلئے اپوزیشن نے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی حکمت عملی طے کر لی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی سے اجلاس فوری طور پر بلانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اس حوالے سے اپوزیشن کی 9 رکنی کمیٹی نے مشاورت اور اتفاق رائے سے طے کیا ہے کہ اجلاس بلانے کی ریکوزیشن مرکزی قیادت سے مشاورت کے بعد دی جائیگی۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کا ہال اگر کسی وجہ سے دستیاب نہ ہوس تو بھی سینیٹ ہال میں اجلاس کا انعقاد ہو سکتا ہے۔ اگر قومی اسمبلی یا سینیٹ دونوں ہال دستیاب نہ بھی ہوں تو کنونشن سینٹر سمیت دیگر کئی مقامات پر قومی اسمبلی اجلاس بلایا جا سکتا ہے۔ ذرائع حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی ریکوزیشن کے بعد سات روز کے اندر سپیکر پر اجلاس بلانا لازم ہے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو عدم اعتماد کی تحریک خود بخود کامیاب تصور کی جائے گی۔

Back to top button