عمران کے خلاف سائفر کیس ٹرائل جیل میں کرنے کا فیصلہ کیوں ہوا؟

لگ بھگ چار ماہ سے قید تحریک انصاف کے چیرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جیل سے باہر کی دنیا دیکھنے کی امیدیں دم توڑ. گئیں سائفر کیس میں عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے سے اڈیالہ جیل حکام نے سیکیورٹی خدشات کے سبب معذرت کرلی، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا ہے کہ کیس کی آئندہ سماعت جیل میں ہی ہوگی ٹرائل اوپن کورٹ میں ہو گا ، میڈیا اور پبلک کو بھی شرکت کی اجازت ہوگی، پہلے کی طرح 5، 5 فیملی ممبران کو بھی اجازت ہوگی، سماعت جمعہ (یکم دسمبر) تک ملتوی کی گئی ہے ۔ اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت ہوئی۔جج ابو الحسنات ذولقرنین نے کیس کی سماعت کی، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر، ایف آئی اے پراسیکیوٹر شاہ خاور اور ذوالفقار عباس نقوی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ ۔دوران سماعت اڈیالہ جیل حکام نے عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی کی پیشی سے متعلق رپورٹ پیش کردی، جج ابولحسنات ذوالقرنین رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد ریمارکس دیے کہ جیل حکام کا کہنا ہے پیش نہیں کرسکتے۔ اڈیالہ جیل حکام کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے ساتھ اسلام آباد پولیس کی رپورٹ بھی منسلک کی گئی، رپورٹ میں کہا گیا کہ حساس اداروں اور پولیس رپورٹ کے مطابق چئیرمین پی ٹی آئی کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں، سلمان صفدر نے کہا کہ ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرنا جیل حکام کی ذمہ داری ہے، جیل حکام ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرنا نظر انداز نہیں کر سکتے، جیل سماعت کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے کلعدم قرار دے دیا ہے۔ دوران سماعت سلمان صفدر نے سائفر کیس کا گزشتہ سماعت کا حکمنامہ پڑھ کر سنایا، انہوں نے کہا کہ ہم کہتے رہے کہ ان حالات میں ٹرائل نہ کریں، ہم یہ استدعا کرتے رہے کہ پہلے ٹرائل کہاں کرنا اس کو طے کر لیں، سلمان صفدر نے مزید کہا کہ یہ جیسے بھی کریں انکو آج چیرمین پی ٹی آئی کو پیش کرنا ہوگا، کس انٹیلیجنس ایجنسی کی بنا پر یہ کہ رہے کہ انکی جان کو خطرہ ہے، جب ہم کہتے تھے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے تو کہتے تھے کہ جیسے بھی ہو پہنچیں، جیل سے عدالت تک کے سفر میں کوئی رکاوٹ ہے تو وہ بتا دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج اسپیشل کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، رپورٹ میں کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے لیٹر لکھ کر آگاہ کیا کہ چیرمین پی ٹی آئی کو سیکورٹی خطرات ہیں، یہ لیٹر چیرمین پی ٹی آئی کی حد تک ہے، شاہ محمود قریشی کی حد تک نہیں ہے، شاہ محمود قریشی کو اب تک نہیں پیش کیا گیا۔ سلمان صفدر نے استدعا کی کہ اگر سکیورٹی تھریٹ ہیں تو اس کیس پر سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی جائے، جیل میں کیس نہیں چل سکتا تو یہاں بھی یہ چلانا نہیں چاہ رہے تو ملزمان کو ضمانت دے دی جائے دریں اثنا شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے اپنے دلائل کا آغاز کیا، انہوں نے کہا کہ جیل سپرینڈنٹ کا لیٹر ایف آئی اے پراسیکوٹر شاہ خاور نے خود پڑھا ہے، شاہ محمود قریشی کو کیوں ابھی تک پیش نہیں کیا گیا؟
علی بخاری نے شاہ محمود قریشی کو عدالت میں پیش کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اوپن ٹرائل ہے ملزم کو عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے، ملزم کو عدالت میں پیش کرنا قانونی ذمہ داری ہے، ملزمان کی پروڈکشن کروانا عدالت کی ذمہ داری ہے، اگر عدالتی احکامات نہیں مانےجاتے تو سرکاری ملازم کو جیل میں بھیجنے کا اختیار آپ کے پاس ہے۔
ایف آئی اے پراسکیوٹر نے کہا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے جیل میں ٹرائل کیا جاسکتا ہے، عدالت میں جیل حکام دستاویزی شواہد کے ساتھ بتایا کہ سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر پیش نہیں کرسکتے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس عدالت کی کارروائی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا، عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ جیل میں ٹرائل ہوگا یہاں پر، آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ جیل ٹرائل کی صورت میں کتنے لوگ عدالت میں آسکتے ہیں۔
جج ابولحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو فرق نہیں پڑتا کہاں ٹرائل ہوگا، عدالت چاہتی ہے کہ جو ٹرائل کو دیکھنا چاہے اس کے لیے کیا کریں گے، سیکشن 352 کا اطلاق کرنا ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
بعدازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوگی، جیل حکام اور سیکیورٹی اداروں نے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا، آئندہ سماعت جیل میں ہی ہوگی جوکہ اوپن کورٹ ہوگی، میڈیا اور پبلک کو بھی شرکت کی اجازت ہوگی، پہلے کی طرح 5، 5 فیملی ممبران کو بھی اجازت ہوگی، آئندہ سماعت جمعہ (یکم دسمبر) کو ہوگی۔ جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ سپرنڈنٹ اڈیالہ جیل کی سیکیورٹی رپورٹ کی روشنی میں جیل میں ٹرائل ہوگا، سائفرکیس کی سماعت سننے کے خواہشمند کو روکا نہیں جائےگا، صحافیوں کو بھی سائفرکیس کی سماعت سننے کی اجازت ہوگی، 5، 5 اہل خانہ کو سائفرکیس کی سماعت سننے کی اجازت ہوگی۔ واضح رہے کہ 21 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں جاری جیل ٹرائل کے خلاف چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی انٹراکورٹ اپیل کو منظور کرتے ہوئے جیل ٹرائل کا 29 اگست کا نوٹی فکیشن غیرقانونی قرار دے دیا تھا۔عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کی انٹراکورٹ اپیل کو منظور کرلیا تھا، عدالت نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کی تعیناتی درست قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ 15 نومبر کے وزارت قانون کے جیل ٹرائل نوٹی فکیشن کا ماضی سے اطلاق نہیں ہو گا۔بعدازاں 23 نومبر کو سائفر کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 28 نومبر کو اسلام آباد کے فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس (ایف جے سی) میں پیش کرنے کی ہدایت کردی تھی۔ یاد رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے 30 ستمبر کو عدالت میں چالان جمع کرایا تھا جس میں مبینہ طور پر عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشنز 5 اور 9 کے تحت سائفر کا خفیہ متن افشا کرنے اور سائفر کھو دینے کے کیس میں مرکزی ملزم قرار دیا تھا۔ اس کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی جوڈیشل ریمانڈ پر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، کیس کی ابتدائی سماعت اٹک جیل میں ہوئی تھی جس کے بعد انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا۔سائفر کیس سفارتی دستاویز سے متعلق ہے جو مبینہ طور پر عمران خان کے قبضے سے غائب ہو گئی تھی۔
