عمران کے لانگ مارچ کا مقصد فساد فی سبیل اللہ کیوں ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے حقیقی آزدی مارچ کے نام پر اپنے کارکنان سے ریاست کے خلاف بغاوت کے لیے حلف لینے کا بنیادی مقصد صرف اور صرف فساد فی الارض ہے کیونکہ موصوف کی سیاست کا حاصل کلام لاقانونیت ہے۔لیکن خاطر جمع رکھیں کہ عمران خان کے پاس شارٹ مارچ، لانگ مارچ، اور دھرنے کیلئے مطلوبہ نمبرز نہیں ہیں چنانچہ انہوں نے سوچا ہو گا کہ فساد فی الارض کیلئے تو چند ہزار لوگ ہی کافی ہوں گے چنانچہ انہیں تو حلف لے کر پابند کیا جائے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ کارکنان سے لیا جانے والا حلف جہاد کے لیے نہیں بلکہ ’’فی سبیل اللّہ فساد‘‘ کے لیے ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ عمران کا اپنے کارکنان سے حلف لینا ظاہر کرتا ہے کہ انکو اعتماد نہیں کہ ان کے ساتھی لانگ مارچ کی کال پر سڑکوں پر نکلیں گے۔ نیازی کہتے ہیں کہ میں اپنے ماضی کے حوالے سے قوم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں کیونکہ میں نے اپنی جوانی اسلامی جمعیت طلبا کی نذر کی اور اسے تن من دھن کے ساتھ اوڑھنا بچھونا بنایا۔ میرے نزدیک بائیں بازو کا خاتمہ اصل جہاد تھا اور میں سمجھتا تھا کہ ترقی پسند سوچ رکھنے والے ملحد ہیں۔ تب میرے روحانی اور سیاسی قائد مولانا سید مودودی ہوتے تھے۔ اس زمانے میں جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلباء تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس یونین کا الیکشن آسانی سے جیت جایا کرتی تھی۔ میری اتھری جوانی تھی اور پھر میانوالی کے نیازی قبیلے کا تڑکہ بھی لگا ہوا تھا اس لیے ہر لحظہ جان ہتھیلی پر رکھے میں ہر لمحہ مرنے اور مارنے پر تیار رہتا تھا۔
حفیظ اللہ نیازی بتاتے ہیں کہ بھٹو صاحب کے خلاف پی این اے کی تحریک نظام مصطفیٰ زوروں پر تھی۔ جمعیت سے باہر دائیں بازو کے کچھ ساتھی ذہنی اور نظریاتی طور پر ہم آہنگ ڈیڑھ درجن طلبہ اکٹھے ہوئے اور بھٹو حکومت کیخلاف متشددانہ تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی۔ اس گروپ کے چند لوگ قومی سطح پر آج بھی موجود ہیں۔ میں نے دیکھا کہ یکدم ہمارے گروپ کے پاس ایک نئی گاڑی، ہینڈ گرنیڈ، بندوقیں اور ایسا سب کچھ آ گیا جو ’’فساد‘‘ فی سبیل اللّہ کے لیے کافی تھا۔ لیکن اللّہ کا مجھ پر خصوصی احسان ہوا کہ مجھے نہ تو گرنیڈ چلانے کو ملا اور نہ ہی بندوق ہتھے آئی البتہ کبھی کبھار چلانے کو گاڑی مل جاتی چونکہ ہمارے تخریبی گروپ کے لیڈر کو ڈرائیونگ نہیں آتی تھی۔ لیکن ہم لوگوں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ یہ سب کچھ ہمیں کون دے رہا ہے اور ہم سے کیا چاہتا ہے۔ اس سوال میں نہ تو ہماری دلچسپی تھی اور نہ ہی جستجو تھی۔ہمارا مقصد ایک ہی تھا کہ اگر ہمارا آپریشن کامیاب رہا تو بھٹو حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائیگا۔ لیکن حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ آج میں شرمندہ ہوں اور اپنی کم عقلی اور کج فہمی پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ آج میں نے یہ اعتراف کر کے اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کر ڈالا، میں نے اپنے حصے کا سچ بول دیا۔ میں 1977ء کی بھٹو مخالف تحریک کو حق اور باطل کی جنگ سمجھ بیٹھا تھا۔ اور مت بھولیں کہ ہم جمعیت والے سمجھتے تھے کہ ہم راسخ العقیدہ اور با عمل مسلمان ہیں۔ لیکن اگر آج کی بات کی جائے تو عمران خان کا ٹولہ تو دین سے بیزار اور اسلام سے دور بھاگنے والا ہے۔عمرانڈوز اور یوتھیوں کی بڑی تعداد امر بالمعروف سے تہی دامن اور کثیر تعداد منکرات سے آراستہ پیراستہ ہے۔ ایسی بے ہنگم فوج ظفر موج سے عمران کا باقاعدہ جہاد کیلئے بیعت لینا وطن عزیز کے اندر کشت و خون کی کوشش کے علاوہ کچھ نہیں۔
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان 6 ماہ پہلے ہی اپنے ماننے اور چاہنے والوں کو ٹکراؤ اور تصادم پر اکسانے کی ٹھان چکا تھا۔ ملک میں انارکی اور انتشار کو فروغ دینا اور پروان چڑھانا ہی اس کا آخری ہدف تھا۔ پشاور اورلاہور میں اٹھائے جانیوالے جہاد کے حلف کی تفصیل اور الفاظ پر ذرا غور فرمائیں، خان صاحب کے حلف کے مطابق ’’ہم پاکستان کے آئین کی پاسداری کریں گے اور اسکی حفاظت کریں گے اور یہ کہ ہم حقیقی آزادی تحریک کو ’’جہاد‘‘ سمجھ کر اس میں حصہ لیں گے، اس دوران ہم ہر قسم کی جانی و مالی قربانی دیں گے، اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین‘‘۔ لیکن حفیظ نیازی کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی واضح اکثریت حق سے کوسوں دور اور باطل کے چنگل میں ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ عمران نے پچھلے 22 سال کلمے کا ورد کیوں نہیں کیا اور جلسوں میں مذہبی ٹچ کیوں نہیں دیا؟ کیا تب اسلام رخصت پر تھا؟ آج جہاد پر حلف کا مقصد صرف اور صرف فساد فی الارض اور اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل ہی تو ہے۔ میں یہ بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ آج عمران خان کس آئین و قانون کی حفاظت کی بات کر رہے ہیں۔ اس آئین کی جسکی دھجیاں قاسم سوری نے پارلیمان میں اُڑائیں؟ عمران کی سیاسی زندگی کا حاصل کلام لاقانونیت ہے۔جس اسمبلی نے عمران کو وزیر اعظم منتخب کیا اسی اسمبلی نے شہباز شریف کو اسی طریقہ اور عین آئین کے مطابق منتخب کیا، لہٰذا شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کے لیے عمران نے بذریعہ حلف ریاست کے خلاف بغاوت کا جو اعلان کیا ہے وہ آئین کی صریحاً نفی ہے۔ یہ حلف جہاد کے لیے نہیں بلکہ ’’فی سبیل االلہ فساد‘‘ مچانے کے لیے ہے۔
