عمران کے پاس وصولی کے درجن بھر ویڈیوز موجود ہیں


سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے انکشاف کیا ہے کہ 2018 کے سینیٹ الیکشن سے پہلے خیبر پختونخوا اسمبلی سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی اراکین کی رشوت وصولی کی درجن بھر ویڈیوز عمران خان کے پاس موجود تھیں جن میں سے اب چند ایک کو ایڈٹ کر کے لیک کر دیا گیا ہے۔ اپنے تازہ تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ ایک طرف سینیٹ الیکشن کی منڈی لگی ہے اور دوسری جانب سپریم کورٹ کو دباو میں لانے کے لئے حکومت نے گزشتہ انتخابات میں خیبرپختونخوا کے ممبران کی خریداری کی ویڈیو لیک کٹ دی ہے۔ اس ویڈیو کو اس دلیل کے طور پر پیش کیا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی اس عمل کو ختم کرنے کے لئے سینیٹ کے انتخاب کا طریقہ تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ تین سال بعد اس معاملے کی تحقیقات کرنے کے لئے حکومت نے کمیٹی بنا دی ہے لیکن اس نے اپنا کام شروع کرنے سے پہلے ہی اعلان کر دیا ہے کہ انکوائری کا مقصد ان لوگوں کا پتہ کرنا ہے جو پیسے دے کر سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔ تاہم اپوزیشن کی جانب سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ جب رشوت دینے والوں اور لینے والوں کا تعلق پی ٹی آئی سے تھا اور رقم کی تقسیم بھی تب کے وزیراعلی پرویز خٹک اور سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر کی موجودگی میں کی گئی تو پھر فواد چوہدری نے یہ کیسے کہہ دیا کہ ان دونوں اشخاص سے کوئی انکوائری نہیں ہوگی۔ اگر حکومت نے پیسے دے کر سینٹ کی سیٹ جیتنے والوں کا پتہ ہی لگوانا ہے تو تب بھی یہی وہ دو لوگ تھے جن کی زیر نگرانی پیسے تقسیم ہوئے لہذا ان سے تحقیقات کیوں نہ کی جائیں؟
سلیم صافی کہتے ہیں کہ اب اس خفیہ ویڈیو کے بارے میں لا علمی کا اظہار کرنے والے عمران خان ماضی میں خود بتا چکے ہیں کہ یہ ویڈیو 2018 میں بھی انکے پاس تھی۔ صافی کہتے ہیں کہ انکے پاس صرف یہ ایک وڈیو نہیں ہے بلکہ میری معلومات کے مطابق ایسی ایک درجن سے زائد ویڈیوز عمران خان کو فراہم کی گئی تھیں جن میں سے صرف چند حصے ایڈٹ کرکے لیک کئے گئے ہیں.
سلیم صافی کہتے ہیں کہ اگر عمران خان کا مقصد لوٹا کریسی کا خاتمہ تھا تو پھر سوال یہ ہے کہ اس وڈیو میں نظر آنے والے سلطان محمود کو رشوت خوری کے باوجود ٹکٹ کیوں دیا گیا اور پھر انہیں وزیر قانون کیوں بنایا گیا؟ یوں ضرورت اس امر کی ہے کہ ذرا ان حقائق کا پھر سے جائزہ لیا جائے جو 2018کے انتخابات سے متعلق ہیں۔ 2018 کے انتخابات میں جب یہ اندازہ ہوا کہ پی ٹی آئی کے ممبران بھی درجنوں کی تعداد میں بکیں گے تو خود پی ٹی آئی نے امیر لوگوں کو ٹکٹ دے کر اپنے ایم پی ایز سے کہا کہ وہ دوسروں کے ہاں نہ بکیں کیونکہ ان کو اپنے امیدوار بھی پیسے دیں گے۔ یوں یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ پی ٹی آئی کے ممبران، جنہوں نے خود اپنے امیدواروں کو ٹکٹ دئیے، ان کو بھی پیسے دیے گئے۔ صسفی کہتے کین کہ میں الیکشن سے قبل خبردار کر چکا تھا کہ یہ کام ہونے جارہا ہے اور میں نے معاملے کی سنگینی کو واضح کرنے کے لئے تب ہارس ٹریڈنگ کی بجائے ڈنکی ٹریڈنگ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے ضمیر فروشوں کو گدھوں سے تشبیہ دی تھی۔ لیکن افسوس کہ خریداری کا میچ زوروں پر رہا۔ الیکشن میں بڑے پیمانے پر خرید و فروخت ہوئی اور نئے پاکستان کے علمبرداروں نے یہ نئی روایت بھی ڈال دی کہ خود اپنی پارٹی کے کھرب پتی امیدواروں نے اپنے ایم پی ایز کی خریداری کی ۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ اس خریدوفروخت کے حوالے سے انہوں نے تب ہی انکشاف کر دیا تھا اور یہ تفصیل بھی دی تھی کہ پی ٹی آئی کے کتنے لوگ بکے ہیں؟ تب تبدیلی کی علمبردار تحریک انصاف کے دو درجن سے زائد اراکین صوبائی اور وزراء فروخت ہوئے۔ حالانکہ اپنی پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دینے کی صورت میں ان کو اپنی حکومت کی طرف سے دیگر مراعات کے ساتھ ساتھ رقم بھی مل رہی تھی، لیکن جانب سے ملنے والی رقم چونکہ بہت زیادہ تھی، اس لئے یہ بے شرم نوٹوں کے آگے ڈھیر ہوگئے۔ بعض ایسے تھے جنہوں نے اپنی حکومت سے رقم لینے کے باوجود بھی ووٹ فروخت کیا جبکہ بعض لوگ ایسے تھے جنہوں نے رقم لے کر بھی ووٹ متعلقہ امیدوار کو نہیں ڈالا۔
سلیم صافی سوال کرتے ہیں کہ ان سب لوگوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی جنہوں نے ووٹ فروخت کئے۔ سوال یہ بھی ہے کہ عمران اگر سینیٹ انتخابات میں پیسے کے کھیل کو ختم کرنا چاہتے تھے تو پھر انہوں نے پارٹی کے لوگوں کی بجائے نووارد ارب پتیوں کو ٹکٹ کیوں دیے؟ اور بعض ایسے ممبران کو کیوں بچایا جو ضمیر فروشی کے مرتکب ہوئے تھے؟ خان صاحب نے جن لوگوں کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کیا ان میں تین ایم پی ایز بابر نسیم ، معراج ہمایوں اور امجد آفریدی کا پی ٹی آئی سے تعلق بھی نہیں تھا۔ اسی طرح ان نکالے جانے والوں میں ایک نام عارف یوسفزئی کا بھی تھا جنہوں نے خان صاحب کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کیا تھا۔ چنانچہ ان کو منانے کے لئے نہ صرف پارٹی رہنمائوں کوان کے گھر بھیجا گیا بلکہ اب ان کو پارٹی عہدہ بھی دیا گیاہے ۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے یہ ممبران پیپلز پارٹی نے توڑے تھے لیکن صرف ایک ہفتہ بعد عمران خان نے اپنے چیئرمین سینیٹ کے لئے پیپلز پارٹی کے ان سینیٹروں سے ووٹ مانگا بلکہ اپنے سینیٹروں کا ووٹ بھی پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈوی والا کے حق میں استعمال کیا۔ اب اگر وہ واقعی اس گند کو صاف کرنا چاہتے ہیں تو کیا نئے انتخابات کا طریقہ کاربدلنے سے قبل یہ ضروری نہیں کہ کہ وہ سپریم کورٹ کے ججز پر مشتمل کمیشن بنا کر گزشتہ سینیٹ انتخابات میں ہونے والی خرید و فروخت اور چیئرمین سینیٹ کے عدم اعتماد کے معاملے کی انکوائری کروائیں اور جو لوگ ہارس ٹریڈنگ کے مرتکب پائے جائیں ، پہلے ان پر سینیٹ کے دروازے بند کئے جائیں نہیں تو اپوزیشن کے اس دعوے کو درست سمجھا جائے گا کہ مقصد سینیٹ کے انتخابی عمل کو شفاف بنانا نہیں بلکہ اپنے چہیتوں اور چند مزید ارب پتیوں کو منتخب کرواناہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button