عمران کے کن غلط فیصلوں نے PTI کو سیاسی طور پر تباہ کر دیا؟

تحریک انصاف کی جانب سے مقبولیت کے بلند وبانگ دعوؤں کے باوجود زمینی حقیقت یہی ہے کہ پی ٹی آئی صرف خیبر پختونخوا جیسے دیوالیہ صوبے میں بر سر اقتدار ہے اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کی دعویدار عمرانڈو قیادت صرف فوج سے ہی مذاکرات کیلئے ترلے کر رہی ہے تاہم دوسری جانب سے اسٹیبلشمنٹ نے تمام تر مطالبات اور منتوں ترلوں کے باوجود تحریک انصاف سے بات چیت سے صاف انکار کر دیا ہے اور 9 مئی کو شرپسندی کرنے والے ٹولے کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کر دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان کی الزام تراشیوں، غلط فیصلوں اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے پی ٹی آئی کی سیاست مکمل وڑھ گئی ہے۔

وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی نے عدم اعتماد کے بعد سیاسی ٹمپریچر کو بوائلنگ پوائنٹ پر ہی رکھا۔ کبھی امریکی سازش کا بیانیہ گھڑا، کبھی آئی ایم ایف کو خط لکھا، کبھی میر جعفر اور میر صادق کے استعارے استعمال کیے۔ اسمبلیاں توڑیں اپنی حکومتیں چھوڑیں اور مسلسل سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ کپتان کی گرفتاری پر احتجاج کیا تو عسکری املاک پر ہی دھاوا بول دیا۔ فوجی تنصیبات کو نہ صرف نذر آتش کیا بلکہ توڑ پھوڑ کھ علاوہ لوٹ مار بھی کی۔ تاہم کپتان کو تب جسٹس عمر عطا بندیال کی گڈ ٹو سی یو اپروچ کی وجہ سے رہائی بھی مل گئی تھی لیکن دوبارہ گرفتاری ہوئی اور تب سے قیدی نمبر 804 اندر ہے اور اس کے وکیل اسمبلی پہنچ چکے ہیں۔

مبصرین کے مطابق پنڈی نے 9 مئی کو بھلایا نہیں ہے اور نہ ہی اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے موقف میں کوئی تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو جس طرح انتشار اور جھوٹ پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے اور معافی مانگنے، محاذ آرائی ترک کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے، اس سے بیک ڈور مذاکرات کے لیے کسی نرمی کا اشارہ نہیں ملتا۔اس سے تو یہی لگتا ہے کہ بات بڑھ گئی ہے۔ فوجی ترجمان نے تحریک انصاف کے 9 مئی کے واقعات پر تحقیقاتی کمیشن بنانے کے مطالبے کا جواب یہ دیا ہے کہ کمیشن کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر بنانا ہے تو پھر وہ 2014 کے دھرنوں کی بھی تحقیق کرے۔ تب ٹی وی اسٹیشن اور سرکاری تنصیبات پر ہوئے حملوں کو بھی دیکھے۔ خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے سرکاری وسائل میں ہونے والے احتجاج اور دھرنوں کی بھی تحقیقات کرے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف نے 9 مئی کے ملزمان کو سزا نہ ملنے اور سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے پر قانون سازی نہ ہونے کی بھی بات کی ۔ یہ بنیادی طور پر فوجی قیادت کا عدلیہ اور پارلیمنٹ سے بھی ایک گلہ ہے ۔ امریکا میں ٹرمپ کے حامیوں کو احتجاج اور توڑ پھوڑ پر ملی سزاؤں کا موازنہ 9 مئی کے ملزمان سے کیا گیا ہے۔

وی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پنڈی کا مؤقف تو سامنے آ گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پی ٹی آئی کی بڑی مخالف سیاسی جماعتیں ہیں۔ عدم اعتماد کے بعد ان کے اتحاد ’پی ڈی ایم‘ نے ہی حکومت بنائی۔ 9 مئی کا واقعہ بھی انہی کے دور حکومت میں ہوا۔ دونوں بڑی جماعتیں 9 مئی کے واقعات پر ڈھیلے ڈھالے بیانات دے کر لمبی چپ تان لیتی ہیں۔ایک طرف پنڈی سے بہت واضح مؤقف سامنے آیا ہے تو دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کی زبانی دوسرے رخ کا اظہار ہوتا ہے۔ 9 مئی کے ملزمان کو سزا نہ ملنا، سوشل میڈیا پر جھوٹ کے خلاف قانون سازی نہ ہونے کی بات پر غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ ’پنڈی‘ اور پی ٹی آئی آپس میں ہی الجھے ہوئے ہیں، باقی سب سائڈ پر ہی بیٹھے ہیں۔

9 مئی کی برسی اس حال میں آئی ہے کہ پاکستان میں سیاست اور معیشت مستحکم ہوتی ہوئی لگ رہی ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام کی آخری قسط بغیر کسی رولے کے جاری ہو چکی ہے۔ سعودی انویسٹر پاکستان آ رہے ہیں۔سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کی تیاریاں جاری ہیں جبکہ وزیر اعظم کے دورہ چین کے لیے بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ تاہم دوسری جانب پی ٹی آئی کے پاس اپنے پاور بیس خیبر پختونخواہ میں ایک دیوالیہ حکومت ہے ۔ جس کا وزیر اعلیٰ ایسا ہے کہ جسے لڑنا تو آتا ہے تاہن کام کے حوالے سے وہ ’کام جوان دی موت ہے‘ والی سائنس پر ہی یقین کرتا دکھائی دیتا ہے۔

9 مئی کے جتنے فریق ہیں چاہے وہ پی ٹی آئی ہو، اسٹیبلشمنٹ ہو، سیاسی جماعتیں ہوں، بینچ یا بار ہو، سیاست ہو یا سفارت ہو، کسی ایک کی پوزیشن دوسرے سے نہیں ملتی۔اس سیاسی خلیج کو کم کرنے کیلئے سانحہ 9 مئی کے اصل ملزمان کو جہاں قرار واقعی سزا دینا ناگزیر ہے وہیں ناحق قید افراد کی فوری رہائی بھی ضروری ہے۔تاکہ عوام میں قانون اور ریاست کی بالادستی کی سوچ کو پروان چڑھایا جا سکے۔

Back to top button