عمران ہارس ٹریڈنگ کرتے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے


سابق وزیراعظم عمران خان کی ایک اور لیک آڈیو سامنے آنے کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ پی ڈی ایم کی جانب سے دائر کردہ تحریک عدم اعتماد کو کاؤنٹر کرنے کے لئے انہوں نے بذات خود ممبران قومی اسمبلی خریدنے کی کوشش کی جبکہ ہارس ٹریڈنگ کا الزام وہ اپوزیشن پر لگاتے رہے۔ لیک ہونے والی آڈیو میں عمران خان یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ میں نے پانچ اراکین قومی اسمبلی کو خرید لیا ہے جبکہ ہمیں دس اراکین کا بندوبست کرنا ہے۔ یاد رہے کہ اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد عمران نے اپوزیشن پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ سیاسی وفاداری بدلنا اور بدلوانا بھی شرک کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن یاد رہے کہ عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد ان کے اتحادیوں کا ساتھ چھوڑنے کی وجہ سے کامیاب ہوئی تھی اور حزب اختلاف نے پی ٹی آئی کے ایک بھی ایم این اے کا ووٹ نہیں لیا تھا۔

7 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر لیک ہونے والی آڈیو میں عمران خان تحریک عدم اعتماد سے چند دن پہلے پانچ ایم این ایز خریدنے کا بتا رہے ہیں۔ ’انڈی بیل’ Indibell نامی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے لیک کی گئی آڈیو میں عمران خان کی گفتگو کے اردو سب ٹائٹل بھی دیے گئے ہیں۔ لیکن فواد چوہدری نے آڈیو لیک پر نہایت بھونڈا موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک کٹ اینڈ پیسٹ والی آڈیو ہے اور حکومتی میڈیا سیل کو ایسے بچگانہ کام پر لات مار کر نکال دینا چاہیے۔ فواد نے کہا ’تم سے نہ ہو پائے گا پانڈے جی۔‘ پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے بھی آڈیو لیک بارے کہا کہ یہ کئی ٹکرے جوڑ کر بنائی گئی ہے۔ لیکن فواد چوہدری اور اسد عمر دونوں نے اس بات کی تردید نہیں کی کہ آڈیو میں سنائی دینے والی آواز عمران کی ہے اور وہ خود ہارس ٹریڈنگ کا اعتراف کر رہے ہیں۔

آڈیو میں عمران کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ’انہیں بڑی غلط فہمی ہو گئی ہے کہ جناب ان کی نمبر گیم پوری ہو چکی ہے۔ ایسا نہیں ہے اور نہ ہی ایسا سوچیں کہ گیم ختم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سے لے کر 48 گھنٹے بہت لمبا عرصہ ہے جس دوران بہت کچھ ہونا ہے۔ میں کئی چالیں چل رہا ہوں جو ہم پبلک نہیں کر سکتے۔ پانچ ایم این ایز تو میں خرید رہا ہوں، یعنی پانچ میرے پاس ہیں۔ میسج دے دیا ہے کہ جو پانچ ہیں وہ بڑے اہم ہیں۔ اسکے بعد عمران کہتے ہیں کہ اسے کہیں کہ وہ ہمیں پانچ ایم این ایز اور لے دے نا، اگر دس ہو جائیں تو گیم ہمارے ہاتھ میں ہے۔ لیک ہونے والی آڈیو میں عمران مزید کہتے ہیں کہ ’اس وقت قوم چوکنی ہو چکی ہے اور ہر طبقے کے لوگ چاہتے ہیں کہ کسی طرح ہم جیت جائیں۔ اس لیے کوئی فکر نہ کریں کہ یہ ٹھیک ہے یا غلط ہے، کوئی بھی حربہ ہو۔ اگر ایک، ایک ایم این اے بھی توڑا جاتا ہے تو اس سے بڑا فرق پڑے گا۔‘

دوسری جانب فواد چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ آڈیوز جہاں بن رہی ہیں اور جیسے بن رہی ہیں، سب کو اس کا علم ہے۔ لیکن فواد شاید بھول گئے کہ آڈیو لیکس کا کھیل خود انکی جماعت نے شروع کیا تھا جب ‘انڈی شیل’ کے نام سے بنائے ایک ٹوئیٹر اکاؤنٹ سے 25 ستمبر کو شہباز شریف کی وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگز لیک کی تھیں۔ ان ریکارڈنگز میں سنا گیا تھا کہ شہباز شریف اپنے پرنسپل سیکرٹری کیساتھ ایک توانائی منصوبے کیلئے بھارت سے مشینری درآمد کرنے کی بات کر رہے تھے جو انکی بھتیجی مریم نواز کے داماد منگوانا چاہتے تھے۔ لیکن شہباز شریف اپنے پرنسپل سیکرٹری توقیر شاہ کو کہتے ہیں کہ انہیں سمجھا دیں اور ایسا کرنے سے منع کردیں۔

‘انڈی شیل’ نامی اکاؤنٹ کی اس واردات کے ردعمل میں ‘انڈی بیل’ Indibell کے نام سے ایک ٹوئیٹر اکاؤنٹ وجود میں آگیا جس نے 28 ستمبر کو عمران خان کی ایک آڈیو لیک کر دی۔ اس میں عمران اپنے سابقہ پرنسپل سیکریٹری اعظم خان، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر سے امریکی سائفر بارے گفتگو کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ ہم نے سائفر کے ساتھ کیسے کھیلنا ہے اور اس کو امریکی سازش کا رنگ کس طرح دینا ہے۔ عمران انہیں یہ ہدایات بھی دے رہے ہیں کہ کسی صورت بھی الزام لگاتے ہوئے ہم نے امریکہ کا نام نہیں لینا۔ اس کے بعد 30 ستمبر کو ایک اور آڈیو لیک ہو گئی جس میں عمران سائفر بارے اپنے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان سے بات کرتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔ اب 7 اکتوبرکو عمران خان کی ایک اور آڈیو لیک ہو گئی ہے جس میں وہ ہارس ٹریڈنگ کرتے سنائی دیتے ہیں۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ ان آڈیو لیکس کا سلسلہ کہاں جا کر رہے گا۔

Back to top button