عوام کا عدالتی نظام سے اعتماد ختم ہورہا ہے

اسلام آباد سپریم کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے اخلاقی اقدار پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے قانونی نظام کے اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے اور عدالتوں سے متعلقہ تمام معاملات پر اعتماد کھو دیا ہے۔ وکلاء کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو عوامی اعتماد کو مجروح کریں کیونکہ غلطیاں انہیں اپنے فرائض کو صحیح طریقے سے انجام دینے سے روک سکتی ہیں۔ عدالت اور سوزاک کے وکیل شامل نہیں ہیں کیونکہ کمرے میں نیا وکیل نہ صرف وکیل رکھتا ہے بلکہ اسے اخلاقیات بھی سیکھنا پڑتی ہیں۔ ہم گھر ، عدالت اور عدالت میں کام کرنا سیکھتے ہیں۔ وکلاء عدالت میں وقت ضائع نہیں کرتے کیونکہ وہ انصاف کے منتظر لوگوں کو ادائیگی کرتے ہیں تاکہ وہ ضائع ہونے سے بچ سکیں اور اپنی قانونی فیس عوام کے پیسے میں ادا کریں۔ میڈیا میں تبصرہ کرتے وقت وکلاء کو بہت محتاط رہنا چاہیے اور فیصلہ نہیں کرنا چاہیے یا کوئی ایسی بات نہیں کہنی چاہیے جو توہین عدالت سمجھی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button