عورت مارچ ضرور ہونا چاہیے،شہباز شریف اسی مہینے واپس آجائیں گے

مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ عورت مارچ ضرور ہونا چاہیئے اور عورت کو اس کے مکمل حقوق ملنے چاہیئں لیکن میرا جسم میری مرضی کے نعرے کی درست تشریح نہیں کی جا رہی۔
منشیات برآمدگی کیس میں مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدررانا ثناء اللہ پر فرد جرم آج بھی عائد نہ کی جاسکی۔ لاہور کی انسداد منشیات کی عدالت میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ کے خلاف منشیات برآمدگی کیس کی سماعت ہوئی جس میں ملزم نے گواہوں کے بیانات کی کاپی فراہم کرنے کی درخواست دائر کی۔ دوران سماعت عدالت میں رانا ثناء اللہ کے شریک ملزم عثمان فاروق نے نئے وکیل کا وکالت نامہ جمع کرایا۔اس موقع پراے این ایف کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ فرد جرم عائد ہو اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو لیکن ملزمان کے وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں تمام کیس پڑھنا ہے اس کے بعد فردجرم عائد کی جائے۔ تمام دلائل سننے کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت 28 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے فرد جرم عائد کرنے کے معاملے پر دونوں فریقین کے وکلا کو بحث کے لیے طلب کرلیا ہے۔
لاہور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عورت مارچ ہونا چاہیے اور خواتین کو ان کے مکمل حقوق ملنے چاہیئں، اسلام نے ہی عورت کو تمام حقوق دیئے لیکن میرا جسم میری مرضی کے نعرے کا تشریح درست نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو زندگی کے ہر شعبے میں مساوی حقوق ملنے چاہیئں، ہم ان کے ساتھ ہیں، عورت مارچ کا ایک نعرہ متازع بنا دیا گیا ہے، عورت مارچ ضرورہونا چاہیے ، خواتین کو ان کا حق بھی ملنا چاہیے۔رہنما (ن) لیگ کا کہنا تھا کہ آٹا و چینی چوروں نے ملک میں بے پناہ مہنگائی کر دی ہے. ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ملکی معاشی صورتحال میں حکومت کو مہنگائی اور کاروبار ختم ہونے کی کوئی فکر نہیں، انہیں صرف نواز شریف کی صحت کی فکر ہے کہ وہ کہیں صحت مند نہ ہو جائیں ، اگر یہ حکومت مزید کچھ عرصہ رہی تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے. انھوں نے مزید کہا کہ تمام اپوزیشن نے مشترکہ طور پر 2020 کو مڈٹرم انتخابات کا سال قرار دیا ہے۔نواز شریف اور شہباز شریف کی واپسی سے متعلق رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مارچ میں نواز شریف کا علاج ہوجائے گا، شہباز شریف مارچ کے آخر تک وطن واپس آئیں گے اور وہ وطن واپس آکر اپنا کردار اداکریں گے۔ بھرپور کوشش ہے اس سال مڈ ٹرم الیکشن ہوں۔
منشیات برآمدگی کیس پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مجھے گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا گیا، اس کے بعد اے این ایف کا تھانہ ٹارچر سیل بنا رہا، فیصل آباد کے سینکڑوں منشیات فروشوں کو میرے خلاف گواہی کے لئے بلوایا گیا لیکن وہ بیانات اے این ایف کے کسی کام کے نہیں نکلے، کاغذات میں کسی گواہ کا بیان شامل نہیں، ہمارے وکلا نے ان گواہوں کے ریکارڈ کئے گئے بیانات کی نقول مانگی ہیں۔
دوسری جانب لاہور کی انسداد منشیات عدالت میں راناثنااللہ کے اثاثے منجمد کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے اثاثے منجمد کرنے کے حوالے سے ریکارڈ راناثنااللہ کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
یاد رہے کہ انسداد منشیات فورس اے این ایف نے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناءاللہ کو یکم جولائی کو منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار کیا تھا۔ راناثنا کا موقف ہے کہ ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا جبکہ منشیات برآمدگی کے ثبوت بھی عدالت میں پیش نہیں کیے گئے۔ اے این ایف حکام کے مطابق رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے منشیات کی بھاری مقدار برآمد ہوئی اور ان کے خلاف نارکوٹکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انسداد منشیات فورس کے ذرائع کے مطابق منشیات کے اسمگلر نے تفتیش میں ن لیگی رہنما کا نام لیا تھا۔ انسداد منشیات فورس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے ضمنی چالان کے مطابق رانا ثنااللہ کے خلاف سی این ایس اے 1997ء کی دفعات 9 سی، 15 اور 17 کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button