عورت مارچ کوئی نہیں روک سکتا،مخالفت کرنے والوں‌کا دور گزر گیا

پاکستان پیپلز پارٹی کے چيئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جو جماعت ماضی میں بے نظیر بھٹو کی مخالف تھی اب وہ بھی کہتی ہے عورت کے پاس قیادت ہونی چاہیئے. جو لوگ کہتے ہیں کہ عورت مارچ نہیں کرسکتی وہ پرانی دنیا میں رہتے ہیں ان کا دور گزر چکا ہے۔ورت مارچ کوئی نہیں روک سکتا
ایوانِ اقبال لاہور میں خواتین کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عورت مارچ کوئی نہیں روک سکتا، کسی کویہ اجازت نہیں دیں گے کہ اس ملک کی عورتوں کو بتائیں کہ سیاست کیسے کرنی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آج کے پاکستان میں عورت مارچ بھی کرے گی، ڈاکٹر اور وکیل بھی بنے گی، وزیراعظم بھی بنے گی،کوئی سیاستدان، مولانا اور ٹی وی پر بیٹھا اینکر ان کا راستہ نہیں روک سکتا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت تاریخ بناتی ہے، عورتوں کے حقوق میں اس کا کردار سب سے زیادہ ہے ، جو جماعت ماضی میں بے نظیر بھٹو کی مخالف تھی اب وہ بھی کہتی ہے عورت کے پاس قیادت ہونی چاہیے۔
بلاول بھٹوکاکہنا تھا کہ نواز شریف اور عمران خان نے یہ نہیں سوچا کہ وہ اپنے عوامی منصوبے لائیں بلکہ انہوں نے اپنی توجہ بے نظیر کی تصویر ہٹانے پر مرکوز رکھی، مسلم لیگ ن نے وسیلہ صحت کو وزیراعظم پروگرام کا نام دیا اور تحریک انصاف نے وسیلہ صحت کو صحت انصاف کارڈ کا نام دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان پاکستان کے لیے نوجوان قیادت کی ضرورت ہے، ہم نے موجودہ حکومت کو بھگانا ہے، پیپلزپارٹی نے پہلے آمروں کو بھی بھگایا اور ان کا مقابلہ کیا ہے اب اس کٹھ پتلی کا بھی مقابلہ کرے گی.
ان کا کہنا تھا کہ عورت مارچ کی مخالفت کرنے والوں کی سوچ پرانی ہے، ہم کسی کواجازت نہیں دیں گے کہ وہ عورتوں کو سیاست اور احتجاج کرنے کا طریقہ بتائیں، عورت مارچ کی مخالفت کرنےوالوں کو کہتا ہوں آج پاکستان کی ہرعورت مارچ کرے گی، ہمارا مطالبہ ہے خواتین کو شعبوں میں50 فیصد نمائندگی دی جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عورتوں کے حقوق کی بات ہوتو بے نظیر کا نام لیا جاتا ہے۔پاکستان میں خواتین کو برابری کے حقوق ملنے چاہئیں۔ ہم نے خواتین کیلئے قوانین بنائے اور جدوجہد بھی کی۔انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا۔ ہم نے مسلم دنیا کی پہلی خاتون کو وزیراعظم منتخب کیا، پیپلزپارٹی کے دور میں پہلی مسلم خاتون وزیراعظم محترمہ شہید بےنظیر بھٹو بنی، پہلی جج ہمارے دور میں بنیں، لیڈی ہیلتھ ورکر کوہمارے دور میں روزگار دیا گیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر تنخواہ میں اضافہ ہوا تو پیپلزپارٹی کے دورمیں ہوا۔ اس ملک کی عورت کو پتا ہے کہ معاشی صورتحال کیا ہے۔ اس ملک کی ہر عورت کو یہ بھی پتا ہے بزرگوں کا علاج کرانا کتنا مشکل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی جماعت اس ملک کے مستقبل کیلئے کام کرتی ہے تو وہ صرف پیپلزپارٹی ہے۔ اگرترقی ہوئی ہے تو وہ بھی پیپلزپارٹی کے دورمیں ہوئی۔ ہم نے جدوجہد کرکے ان کٹھ پتلیوں اورسلیکٹڈ کو بھگانا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کی باقی جماعتیں چاہتی ہی نہیں ہیں کہ عوام کا پیسا غریبوں پر خرچ ہو، اس لیے شروع دن سے ہی اس کیخلاف سازشیں کی گئیں۔
بلاول بھٹو نے خواتین کو ہرشعبے میں50 فیصد نمائندگی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آج لوگ کہتے ہیں عورت مارچ نہیں کرسکتی۔ لیکن میں ان کو کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کی سوچ پرانی ہے۔ آج پاکستان کی ہرعورت مارچ کرے گی۔ ہم عورتوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ خواتین کو تحفظ فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی سے بھیک نہیں مانگ رہے بلکہ آئین کے تحت عورت کو حقوق دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button