عون چودھری کو کابینہ میں مشیر بنانے کی کیا وجہ ہے؟

پاکستان میں ہر نئی حکومت میں کچھ ایسے پرانے چہرے ضرور شامل ہوتے ہیں جن کا کلہ ہمیشہ مضبوط ہوتا ہے۔ اس مرتبہ بھی نئی حکومت میں بہت سے پرانے چہرے نظر آ رہے ہیں، ایسے چہروں میں ایک عون چودھری بھی ہیں جو ماضی میں عمران خان کے قریبی ساتھی اور رازدان تھے اور اب وزیراعظم شہباز شریف کےمشیر برائے امور نوجوانان مقرر ہوئے ہیں۔
حکومتی حلقوں میں افواہیں گرم ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے بھی قریب سمجھے جانے والے عون چودھری کو کابینہ میں شامل کیے جانے کا مقصد تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ حوصلے اور اعتماد کے ساتھ کپتان کا اصل چہرہ بے نقاب کر سکیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان جلد ہی نئی احتسابی شکنجے میں آنے والے ہیں اورعون چوہدری اس حوالے سے اہم ترین دستاویزات، بشمول آڈیوز اور ویڈیوز مہیا کر سکتے ہیں، لہذا ضروری تھا کہ انہیں حکومت کا حصہ بناکر تحفظ فراہم کیا جاتا۔
یاد رہے کہ ماضی میں عون چوہدری اور انکی اہلیہ سابقہ فلم سٹار نور بخاری، سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشری بی بی دونوں کے کافی قریب رہ چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عون چوہدری نے نور بخاری کو طلاق دینے کے بعد ان سے دوبارہ شادی بھی بشریٰ بی بی کے مشورے پر کی تھی۔ تاہم بعد ازاں عمران نے جہانگیر ترین کی چھٹی کرواتے وقت عون چودھری کو بھی فارغ کر دیا تھا۔ عون چوہدری اب جہانگیر ترین گروپ کے ایک فعال لیڈر ہیں اور انہیں وفاق میں مشیر بھی ترین گروپ کے کھاتے میں بنایا گیا ہے۔
عون چوہدری کا سیاسی سفر خاصا دلچسپ اور کئی طرح کی ڈرامائی صورت حال سے دوچار رہا ہے، ایک وقت تھا جب 2013 کے عام انتخابات کے بعد وزیراعظم عمران خان اپنی سیاسی جدوجہد کے فیصلہ کن موڑ میں داخل ہوئے تو اس سے پہلے اور بعد میں عون وہ شخصیت تھے جو ان کے انتہائی قریب تھے۔
عمران کے نجی اور سیاسی معاملات میں عون چوہدری ان کے سب سے قابل اعتماد ساتھی رہے۔ اس کا عملی ثبوت عمران خان کی دوسری اور تیسری شادیاں بھی ہیں جن میں عون چودھری کا مرکزی کردار رہا۔ جب عمران کی خاتون صحافی ریحام خان سے شادی کی خبریں باہر آئیں تو پہلے تردید اور پھر تصدیق کے لیے عون چوہدری ہی میدان میں پائے گئے۔ اسی طرح جب جنوری 2018 میں عمران کی بشریٰ بی بی سے تیسری شادی کی تصاویر منظر عام پر آئیں تو ان میں بھی عون چوہدری موجود تھے، لہذا انہیں عمران خان کا دست راست سمجھا جاتا تھا۔
لیکن سال 2018 میں جب عمران خان وزیراعظم بنے تو صورت حال یکسر بدل گئی۔ایک طرف عمران نے بطور وزیراعظم حلف اٹھایا تو دوسری طرف کئی نیوز چینلز نے یہ خبر نشر کی کہ کپتان کے معتمد خاص عون پر بنی گالہ کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں، عمران کے وزیراعظم بننے کے بعد عون چوہدری کی ان سے پہکے والی قربت تو نہیں رہی تاہم انہیں پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت بننے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کا مشیر بنا دیا گیا۔ لیکن صرف ایک سال بعد 2019 میں انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا، اس دوران ان کی وزیر اعظم عمران خان سے صرف ایک ملاقات ہو پائی جس کی تصاویر انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بھی جاری کیں۔
دسمبر 2020 میں عون چوہدری کو وزیر اعلی بزدار کا سیاسی معاملات پر رابطہ کار مقرر کیا گیا، جب 2021 میں تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے خلاف ان کی اپنی حکومت نے مقدمات درج کیے تو عون چوہدری نے کھل کر جہانگیر ترین کی سپورٹ کی اور کوارڈینیٹر کے عہدے سے استعفے دیتے ہوئے پارٹی سے ناراضی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد سے عون چوہدری جہانگیر ترین کے معتمد خاص سمجھے جا رہے ہیں، حال ہی میں عمران اور عثمان بزدار کے خلاف تحاریک عدم اعتماد رکوانے کے لیے تحریک انصاف کے راہنماؤں نے جہانگیر ترین سے عون چوہدری کے ذریعے ہی رابطہ کیا تھا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
عون چوہدری ایک اور حوالے سے بھی خبروں کی زینت بنے رہے اور وہ ان کا اداکاہ نور بخاری سے شادی اور طلاق کے بعد دوبارہ شادی کرنا ہے، نور اپنے انسٹا پیج پر عون چوہدری اور اپنی بیٹی کی تصاویر اکثر شیئر کرتی رہتی ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق عون چوہدری کو شہباز شریف کا ایڈوائزر مقرر کیا جانا سابق وزیراعظم کے لیے ایک پیغام ہو سکتا ہے، اسی طرح ترین گروپ کو بھی ایک پیغام دیا گیا کہ مخلوط وفاقی حکومت میں بھی اس گروپ کا باقاعدہ نمائندہ موجود ہے۔ عون چوہدری بنیادی طور پر لاہور کے علاقے جیون ہانہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے ایک بھائی امین چوہدری نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر 2018 میں لاہور سے ایم پی اے کا الیکشن لڑا اور جیت اپنے نام کی، تاہم اب ان کا شمار بھی تحریک انصاف کے ان منحرف اراکین میں ہوتا ہے جنہوں نے حمزہ شہباز کی وزیراعلیٰ بننے میں مدد فراہم کی اور ووٹ دیا۔
