عید کی کنفیوژن: 31 جولائی کو منائیں یا یکم اگست کو؟

پچھلے کچھ برسوں سے تو مولوی حضرات آپس میں چاند نظر آنے یا نہ آنے کے معاملے پر اختلافات کا شکار ہو کر دو دو عیدیں منانے پر مجبور ہو جاتے تھے لیکن اس برس تو حکومت اور رویت ہلال کمیٹی کے بڑوں کا ہی میچ پڑ گیا ہے جس کے بعد پاکستانی عوام کنفیوژن کا شکار ہیں کہ عید قربان 31 جولائی کو منایئں یا یکم اگست کو؟
آج کل ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر چاند کا تذکرہ عروج پر ہے، کوئی اسے پہلے روز کا چاند قرار دے رہا ہے تو کوئی اسے دوسرے دن کا چاند قرار دے کر رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین مفتی منیب الرحمان کو ہدف تنقید بنا رہا ہے۔ تاہم عوام پریشانی کا شکار ہیں کہ وہ عید 31 جولائی کو کریں گے یا یکم اگست کو۔۔۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری کے دعوے کے برعکس رویت ہلال کمیٹی کی طرف سے 22 جولائی کو ذوالحج کے چاند کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر بحث جاری ہے کہ پاکستانی عید وزارت سائنس کے دعوے کے مطابق منائیں گے یا رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق کریں گے۔ تاہم فواد چودھری نے واضح کیا ہے کہ سائنسی اعتبار سے 21 جولائی کو چاند کی رویت ہو چکی ہے تاہم پاکستانی عید رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق یکم اگست کو منائیں گے۔
جب سے فواد چودھری نے سائنسی بنیادوں پر قمری کیلنڈر جاری کرواتے ہوئے چاند کی تاریخوں کے لیے ویب سائٹ متعارف کرائی ہے تب سے رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان اور ان کی آپس میں بیان بازی ہوتی رہتی ہے۔ عیدالفطر کے موقع پر بھی چاند دیکھنے کے معاملے پر مفتی منیب اور فواد چوہدری کے درمیان لفظی جنگ چھڑ گئی اور سوشل میڈیا صارفین اس بحث میں اپنا حصہ ڈالتے نظر آئے تھے۔
اس بار بھی ذوالحج کے چاند پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے، فواد چوہدری نے 22 جولائی کو اپنی ایک ٹویٹ میں ذوالحج کے چاند کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘کیا یہ پہلی کا چاند ہے؟ کیا سورج کے غروب ہونے کے بعد اتنی دیر چاند سر آسماں رہتا ہے؟ عوام خود فیصلہ کر لیں۔ فواد چودھری کی ٹوئٹ کے بعد ذوالحج کے چاند کے حوالے سے ایک بار پھر بحث کا آغاز ہو گیا۔ سوشل میڈیا صارفین میں سے کچھ فواد چوہدری کی بات کی تائید کر رہے ہیں تو کچھ چاند کی ہیئت سے متعلق مختلف معلومات شیئر کر رہے ہیں۔
ٹوئٹر صارف شفقت بلوچ نے لکھا کہ ‘ایسا لگتا ہے کہ فواد چوہدری ٹھیک تھے اور وہ دوبارہ جیت گئے۔
ہاشم سندھو نے لکھا کہ ‘فواد چوہدری نے رات 8 بجے تصویر لی، چاند کی ہیئت اور عمر سے ظاہر ہوتا ہے کہ مفتی منیب الرحمان جنگ ہار گئے ہیں۔’
ایک اور صارف فرح نور نے چاند کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ‘ایک بار پھر فواد چوہدری نے خود کو درست ثابت کر دیا۔ یہ دوسرے دن کا چاند ہے۔’
سینیئر صحافی کامران خان نے اپنے ایک پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ‘بدھ کی شب سوا آٹھ بجے کراچی میں دیکھا جانے والا ذوالحج کا یہ توانا تگڑا چاند خود کہہ رہا ہے کہ وہ پہلی تاریخ کا نہیں دوسری ذوالحج کا چاند ہے، گویا منگل کی شب ہمارے پروگرام میں فواد چوہدری کا سائنسی بنیاد پر دعویٰ درست تھا، گویا پاکستانیوں کے ساتھ رویت ہلال کمیٹی کے ہاتھوں زیادتی ہو گئی۔’
آصف علی کے نام سے ٹوئٹر ہینڈل نے فقرہ کسا کہ ‘مفتی منیب صاحب آپ کی دُوربین سلو ہے۔’ تاہم سوشل میڈیا پر کچھ صارفین رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کا دفاع کرتے نظر آئے، ٹوئٹر صارف کامران نے لکھا کہ ’29 کے بعد نظر آنے والے چاند کی عمر کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ کمزور نظر آتا ہے اور جلد غروب ہو جاتا ہے جبکہ 30 کے بعد نظر آنے والے چاند کی عمر زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے چاند بڑا نظر آتا ہے اور 29 کے مقابلے میں دیر سے غروب ہوتا ہے۔’
صحافی وجیہ ثانی نے لکھا کہ ‘ہمیں مفتی منیب پر پورا اعتماد ہے۔ ایسےوقت میں جب بہت سےدوست چاند پر کنفیوژڈ ہیں اوراپنی رائےدے رہے ہیں سوچا اپنی رائےبھی پیش کی جائے۔ چاند کی پیدائش اور رویت دو الگ چیزیں ہیں۔ اور رویت کے فیصلے میں ہمیں مفتی منیب اوررویت ہلال کمیٹی پرمکمل بھروسہ ہے۔ باقی لوگ چاہیں توایک دن پہلےعید کر لیں۔’
تاہم اب وفاقی وزیر فواد چوہدری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ذی الحج کے چاند کی رویت کے حوالے سے تحفظات ضرور ہیں لیکن عید کی تاریخ کا اعلان کرنے کا اختیار رویت ہلال کمیٹی کے پاس ہی ہے قانونی طور پر عید الاضحیٰ رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق یکم اگست کوہی ہوگی، تاہم 22 جولائی کی شام جس نے بھی ذی الحج کا چاند دیکھا، اس نے یہی کہا کہ یہ دوسرے دن کا چاند ہے۔ فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ چاند 21 جولائی کو آسمان پر موجود تھا، رویت ہلال کمیٹی نے خود ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے چاند دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ جب دیگر معاملات کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا سکتا ہے، تو پھر چاند دیکھنے کیلئے بھی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جانا چاہیئے۔
دوسری طرف چئیرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے چاند کے سائز بارے فواد چودھری کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ 22 جولائی کو نظر آنے والا چاند سائنسی اور مذہبی اعتبار سے پہلی کا ہی چاند تھا،سائز کے اعتبار سے چاند کا تعین کس کتاب میں لکھا ہے۔ جس شخص کو سائنس کا کچھ نہیں پتہ وہ خودکو سائنس کا امام سمجھتا ہے۔ فواد صاحب یہ سائنس اور مذہب دونوں اعتبار سے پہلی کا چاند تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ قمری ماہ کی 29 تاریخ کو اگر چاند غروب آفتاب کے بعد موجود ہو لیکن نظر نہ آئے تو مہینہ 30 کا قرار پائے گا مگر اگلی شام تک اس کی عمر 24 گھنٹے بڑھ جائے گی۔ اس لیے نسبتا بڑا نظر آئے گا۔ وفاقی وزیر کی جہالت ہے جو اپنے آپ کو سائنس کا امام سمجھتے ہیں۔
یاد رہے کہ فواد چوہدری نے سائنسی بنیاد پر 21 جولائی کو ذوالحجہ چاند نظر آنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان کی زیر صدارت اجلاس میں منگل کو چاند نظر نہ آنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
