کیا اب کپتان اور شیخ چلی استعفیٰ دیں گے؟

رحیم یار خان کے قریب تیز گام ایکسپریس کے حادثے میں درجنوں انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد وزیراعظم عمران خان اور شیخ رشید سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اخلاقی جرات اور غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہوں۔ عمران خان ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ کسی بھی ملک میں قومی سانحہ پیش آئے تو وزیراعظم اس کا ذمہ دار ہوتا ہے، چونکہ اب ریلوے میں حادثات انتہا کو پہنچ گئے ہیں ضروری ہے کہ وزیراعظم عمران خان استعفی دے کر مثال قائم کریں اور ان کی پیروی میں شیخ رشید بھی مستعفی ہو کر سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیں۔
31اکتوبر جمعرات کی صبح رحیم یارخان کے قریب تیز گام ایکسپریس کو پیش آنے والے حادثے نے وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید اور ریلوے انتظامیہ کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وزیراعظم عمران خان کے ماضی کے بیانات کے ویڈیو کلپ شیئر کرکے صارفین مطالبہ کر رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان بطور اپوزیشن رہنما کہا کرتے تھے تھے کہ جنوبی کوریا میں کشتی کو حادثہ پیش آیا تو وہاں کی صدر نے استعفی دے دیا، ہمارے حکمران ایسا کیوں نہیں کرتے۔ اسی طرح ماضی میں ایک ریلوے حادثے پر عمران خان نے کہا تھا کہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا اب وزیراعظم اور وزیر ریلوے استعفی دیں گے۔ شیخ رشید احمد گزشتہ سوا سال سے ریلوے کے معاملات دیکھ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے شیخ رشید کے دور میں پاکستان میں ٹرین حادثات کا ایک نیا ریکارڈ قائم ہو چکا ہے۔ شیخ رشید احمد جو ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنانے اور ٹرینوں کو حادثات سے بچانے کا اصل کام کرنے کی بجائے سیاسی مخبری کرنے اور اپوزیشن کو لتاڑنے کا کام کرتے ہیں۔ پے در پے حادثات نے ریلوے کی وزارت میں شیخ رشید کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ دوسروں کو اخلاقی جرات اور غیرت کا درس دینے والے شیخ رشید احمد اور وزیراعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مستعفی ہوتے ہیں یا اقتدار سے یوں ہی چمٹے رہتے ہیں۔
