غیرجماعتی انتخابات نے پاکستانی سیاست کو کیسے بدلا؟

1985 میں ہونے والے غیرجماعتی الیکشن نے پاکستانی سیاست کی کایا ہی پلٹ کر رکھ دی تھی، ہمارے ہاں پارلیمانی نظام ہے اور آئین کے مطابق سیاسی جماعت بنانا اور اس میں شمولیت اختیار کرنا ہر شہری کا حق ہے، 85 میں اس وقت کی سپریم کورٹ نے جنرل ضیا الحق کو آئین میں ترامیم کا اختیار دے دیا تھا، اس لیے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے 100 کے قریب شقیں شامل کر کے ضیا الحق آئین کو بہت حد تک صدارتی بنا چکے تھے۔1984 کا دور تھا اور ملک پر جنرل ضیا الحق کی آمریت کا راج تھا جس وزیراعظم نے ضیا الحق کو آرمی چیف بنایا تھا اسے ہی تختہ دار تک پہنچا کر اور سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کرنے کے باوجود انہیں چین میسر نہ تھا، اس کی وجہ اپوزیشن جماعتوں جن میں پیپلزپارٹی سمیت دوسری پارٹیاں شامل تھیں، نے فوجی حکومت کیخلاف موومنٹ فار دی ریسٹوریشن آف ڈیمو کریسی (ایم آر ڈی) کے نام سے تحریک شروع کر رکھی تھی۔ اس تحریک کا زور صرف بڑے شہروں تک تھا، 1983 میں غلام مصطفیٰ جتوئی نے ایم آر ڈی کے تحت عوامی تحریک چلانے کی کوشش کی لیکن اس کا زور صرف سندھ کے دیہات و قصبات تک ہی محدود تھا، سینکڑوں لوگ تاریک راہوں میں مارے گئے، ہزاروں گرفتار ہوئے اور کئی ایک جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے، اس کشیدہ ماحول میں جنرل ضیا الحق نے انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہوا تھا اور وہ اس حوالے سے پریشان تھے، لیکن تب انہوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے پاکستان کی انتخابی اور آئینی سیاست کی حرکیات ہی بدل ڈالیں اور جس کا خمیازہ آج بھی یہ ملک بھگت رہا ہے۔اس فیصلے کے ایک کردار سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے اس حوالے سے مظفر محمد علی کی کتاب ’پاکستان کے رازداں صحافی، صفدر میر سے حامد میر تک‘ میں اپنے انٹرویو میں بتایا کہ ’جب 1979 کے الیکشن ملتوی ہوئے تو میرا جنرل ضیا سے جھگڑا ہو گیا تھا۔ اس کے بعد میں ان سے اس وقت تک نہیں ملا جب تک انتخابات کا اعلان نہیں ہوا، چار پانچ سال تک میری ان سے ملاقات نہیں رہی، پھر جب ہماری ملاقات شروع ہوئی تو اس وقت ایم آر ڈی کی تحریک چل رہی تھی اور وہ الیکشن شیڈول کا اعلان کر چکے تھے۔مجیب الرحمان شامی کے مطابق ’وہ (جنرل ضیا الحق) اس وقت بڑے پریشان تھے اور میں نے کبھی انہیں اتنا پریشان نہیں دیکھا۔ انہوں نے مجھے تفصیل سے بتایا کہ امریکہ ان کے خلاف ہو گیا ہے۔ وہ اس وقت خاصے مضطرب تھے، امریکہ اور غیرملکی طاقتوں نے میرے خلاف فیصلہ کر لیا ہے، پھر وہ مجھے کہنے لگے کہ آپ کا خیال ہے کہ ایم آر ڈی کی تحریک کا کیا نتیجہ نکلے گا، میں نے کہا کہ فیل ہو جائے گی وہ بڑے حیران ہوئے کہ کیسے؟ مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ ’میں نے کہا کہ میرے پاس ایک ہی دلیل ہے کہ ایم آر ڈی گرفتاریوں کا اعلان کر رہی ہے، گرفتاریاں لاہور میں ہوتی ہیں چنانچہ میں نے کہا کہ پنجاب میں کوئی تحریک کی طرف متوجہ نہیں ہے یہ ختم ہو جائے گی۔ میں نے اپنا پورا تجزیہ تفصیل سے بیان کیا تو ان کے چہرے پر رونق آگئی، خیر وہ خوش ہوئے، 1977 کے انتخابات دھاندلی زدہ تھے جس کے بعد مارشل لا آگیا۔ سینئر صحافی نے کہا کہ ’اس کے نتیجے میں اسمبلی میں وہ لوگ پہنچے جو پیپلزپارٹی سے تعلق نہیں رکھتے تھے یا آزاد تھے پھر انہی آزاد ارکان کی مدد سے جماعت بنی اور محمد خان جونیجو کا بطور وزیراعظم انتخاب ہوا، تجزیہ کار وجاہت مسعود نے کہا کہ ’1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ ہمارے ہاں پارلیمانی نظام ہے اور آئین کے مطابق سیاسی جماعت بنانا اور اس میں شمولیت اختیار کرنا ہر شہری کا حق ہے۔85 میں اس وقت کی سپریم کورٹ نے جنرل ضیا الحق کو آئین میں ترامیم کا اختیار دے دیا تھا۔ اس لیے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے 100 کے قریب شقیں شامل کر کے ضیا الحق آئین کو بہت حد تک صدارتی بنا چکے تھے۔ایوب خان نے 58 میں سیاست دانوں کو گالی دینے کے جس عمل کا آغاز کیا تھا وہ 85 کے غیر جماعتی انتخابات میں عملی شکل بن گیا، ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کیے گئے حالانکہ ان کا کام قانون سازی ہے نہ کے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام کرانا، یہ بلدیاتی نمائندوں کا کام ہے۔ ان انتخابات کے ذریعے جنرل ضیا الحق نے عوامی نمائندوں کو اقتدار میں شریک کیا تھا انہیں منتقل نہیں کیا تھا لیکن وہ یہ کمزور اسمبلی بھی برداشت نہ کر پائے اور انہوں نے 29 مئی 1988 کو اسمبلیاں توڑ دیں اور اپنے ہی منتخب کردہ وزیراعظم محمد خان جونیجو کو گھر بھیج دیا، کئی دہائیوں سے پاکستانی سیاست کے نشیب و فرار دیکھنے والے سینئر صحافی نصرت جاوید نے ’’اردو نیوز‘‘ کو بتایا کہ ’ضیاالحق کو کوئی اسمبلی نہیں بلکہ ایک مجلس شوریٰ چاہئے تھی، ان کا خیال تھا کہ سیاسی جماعتیں نہیں ہیں تو کنٹرول کرنا آسان ہوگا لیکن بات غلط ہی نکلی اور ان کیلئے چیزیں کنٹرول کرنا مشکل ہو گئیں تبھی تو محمد خان جونیجو کو گھر بھیجنا پڑا۔
