غیر قانونی افغانوں کی شناخت DNA ٹیسٹ کے ذریعے ھو گی

حکومت کی جانب سے غیر قانونی افغان آبادکاروں کے 5 مراحل میں اگست 2024تک مکمل انخلاء کو یقینی بنانے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا جس کے تحت جن افغانوں نے پیسے کی لالچ دے کر کسی پاکستانی فیملی میں شامل ہوکر پاکستانی والدین بنارکھے ہیں ان کے ڈی این اے (DNA) سیمپل لیکر انکی جانچ پڑتال رواں ماہ ہی کی جائے گی DNA کے نمونے میچ نہ ہونے کی صورت میں پاکستانی خاندانوں کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا ۔ غیر قانونی عمل کے ذریعے افغانوں کو جعلی شناختی کارڈ بنانے کے جرم کے مرتکب افراد کو تین سال کی سزا ہو سکتی ہے جبکہ افغانوں کو جعلسازی کے جرم میں چھ ماہ کی قید کے بعد ملک سے نکال دیا جائے گا۔
سینئر صحافی شکیل انجم اپنی ایک تحریر میں بتاتے ہیں کہ ابتدائی مرحلے میں کسی قانونی سفری یا رہائشی دستاویزات کے بغیر پاکستان میں داخل ہونے اور سکونت اختیار کرنے والے افغانوں کو واپس بھیجا جائے گا۔ اگلے مرحلے میں "تذکرہ” رکھنے والے افغانیوں کو روانہ کیا جائے گا۔ اس کے بعد نادرا (NADRA) اور نارا (NARA) سے جاری شدہ افغان رجسٹریشن کارڈ رکھنے والے افغان باشندوں کو واپس روانہ کیا جائے گا۔ اس سے اگلا مرحلہ مشکوک غیر قانونی افغان باشندوں کی ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے تصدیق کا ھو گا ۔پانچویں مرحلے میں ایسے افغانی جو کسی بھی عرصہ میں پاکستان آئے ہوں اور انہوں نے نادرہ کیساتھ مل کرجعلسازی کے ذریعے پاکستانی شناختی کارڈ بنا رکھے ہوں ان کے نادرا کارڈ منسوخ کرکے ان افغانوں کو واپس افغانستان بھیج دیا جائے گا۔ رپورٹ ہے کہ چوتھے اور پانچویں مرحلے میں شامل تمام افغانوں کا ڈیٹا اکٹھا کرلیا گیا ہے جس پر اسی ماہ عمل درآمد ہونامتوقع ہے۔غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء کے حوالے سے مرتب کی جانے حکمت عملی ،اس کی افادیت اور اس پر عمل درآمد پر سوالات اٹھ سکتے ہیں کیونکہ شائد ہی کوئی ایسی فیملی ہو جس نے معاوضہ یا کسی لالچ کے تحت کسی افغانی کو اپنی "Family Tree” میں شامل کیا ہو۔کیونکہ تحقیقات کے نتیجے میں بات سامنے آئی ہے کہ جعلسازی کا یہ عمل افغانوں اور نادرا کی ملی بھگت سے ہوا جس میں کوئی تیسرا فریق اس قومی خیانت میں شامل نہیں۔
شکیل انجم کے مطابق ایسے ممالک جو مہاجرین اور غیر قانونی آبادکاری کے حوالے سے واضح موقف اور پالیسی رکھتے ہیں اور اپنے اپنے امیگریشن قوانین پرکسی دوسرے ملک کی مداخلت یا دباؤ قبول کئے بغیر اس پر سختی سے عمل درآمد کرنے پر یقین رکھتے ہیں ۔ یہی ملک یا انسانی حقوق کے عالمی ادارے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کوطے شدہ عالمی اصولوں کے مطابق سسٹم میں لانے کی پاکستان کی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ان ملکوں کا دہرا معیار یہیں سے ظاہر ہوتا ہے۔ کسی ملک یا ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کسی دوسرے ملک کی امیگریشن پالیسی میں مداخلت کرے۔عالمی سطح پر تسلیم شدہ قوانین اور قواعد وضوابط کے تحت غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے کسی غیر ملکی شخص کو اس ملک میں عارضی سکونت اختیار کرنے کے قانونی اجازت نامہ کی مدت ختم ہونے پر اس کی تجدید یا دیگر قانونی دستاویزات کے بغیر ایک مخصوص مدت کے بعد اس ملک میں سکونت اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تاوقتیکہ وہ اپنےملک واپس جاکر اس ملک کا ویزا دوبارہ حاصل کرکے قانونی طور اس ملک میں داخل نہیں ہوتا۔۔ حکومت پاکستان نے جب سے غیر قانونی طور پر رہائش پذیر غیر ملکیوں خصوصاً افغانوں کی جانب مسائل پیدا کرنے کی وجہ سے انہیں قانون کے دھارے میں لانے کے لئے پالیسی مرتب کی ہے، پاکستان میں 40برسوں سے زائد عرصہ سے غیر قانونی طور رہائش پذیر افغانوں کے ایک مخصوص طبقے نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کے ساتھ دھمکیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
شکیل انجم کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے پاکستان میں رہائش کے دوران جرائم، بدامنی، دہشتگردی، کلاشنکوف اور ہیروئین کلچر متعارف کرانے کے علاوہ معاشرے میں لاقانونیت کا زہر پھیلانے کے علاوہ معیشت کو تباہی کے دہانے تک پہنچانے میں بھرپور کردار ادا کیا ۔ اب ان کی طبع پر گراں یہ بھی گزرتا ہے کہ انہیں دستاویزی ثبوت پیش کرنے کو کیوں کہا جارہا ہے، حالانکہ حکومت پاکستان نے ان کے لئے مستقل یا عارضی طور پر پاکستان میں سکونت اختیار کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا تھا لیکن یہ انہیں منظور نہیں کیا کہ وہ قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے پاکستانی نظام کو بہتر کرنےمیں مددگار ہوں۔تاہم اتنا ضرور ہوا کہ غیرقانونی طور پر آباد غیرملکیوں کے لئے نافذ کی کئی امیگریشن پالیسی کے بعد ملک بھر میں جرائم کی شرح میں 36 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے

Back to top button