‘غیر قانونی چیمبرز’ مسمار کرنے پر وکلا کا احتجاج، اسلام آباد ہائی کورٹ پر دھاوا

اسلام آباد کچہری میں قائم ‘غیر قانونی چیمبرز’ گرانے پر مشتعل وکلا نے احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ پر دھاوا بول دیا اور توڑ پھوڑ کی۔
وکلا نے اسلام آباد کی ضلع کچہری میں تمام عدالتیں بند کرادیں جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی تمام عدالتوں میں مقدمات کی کارروائی روک دی گئی۔ کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے رات گئے ایف 8 میں انسداد تجاوزات مہم کے تحت ضلع کچہری کے پارکنگ ایریا اور فٹ ہاتھ پر بنے مبینہ غیر قانونی چیمبرز مسمار کیے تھے۔ جس پر وکلا نے آج صبح احتجاج کرتے ہوئے پہلے سیشن کورٹ میں توڑ پھوڑ کی اور اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ پر دھاوا بولا۔ بڑی تعداد میں مشتعل وکلا اسلام آباد ہائی کورٹ میں نعرے بازی کرتے ہوئے داخل ہوئے اور چیف جسٹس بلاک میں موجود کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے۔ اس موقع پر وکلا کی جانب سے چیف جسٹس کے چیمبر کے باہر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی۔ جس وقت وکلا چیف جسٹس بلاک میں داخل ہوئے وہاں اسپیشل سکیورٹی پولیس موجود نہیں تھی تاہم احتجاج کے کافی دیر بعد پولیس، انسداد دہشت گردی فورس کی بھاری نفری کے علاوہ رینجرز بھی عدالت پہنچ گئی۔ احتجاج اور اشتعال انگیزی کے باعث چیف جسٹس اطہر من اللہ اپنے چیمبر میں محصور ہو کر رہ گئے تھے تاہم چیف جسٹس بلاک سے تمام خواتین ملازمین کو باہر نکال دیا گیا۔ اس کے علاوہ وکلا کی جانب سے صحافیوں کے ساتھ بھی بدتمیزی کی گئی اور ویڈیو بنانے پر ان سے الجھ پڑے اور موبائل فون چھین لیے۔ احتجاج کے باعث اسلام آباد ہائی کورٹ میں تمام سائلین کا داخلہ بھی بند ہوگیا اور عدالت کے سروس روڈ کو بھی ٹریفک کےلیے بند کردیا گیا۔ وکلا نے اسلام آباد کی ضلع کچہری میں تمام عدالتیں بند کرادیں جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی تمام عدالتوں میں مقدمات کی کارروائی روک دی گئی۔ وکلا سے مذاکرات کےلیے چیف کمشنر اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، حمزہ شفقات، سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کے علاوہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد قاضی جمیل الرحمٰن اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے۔ جسٹس محسن اختر کیانی احتجاج کرنے والے وکلا سے گفتگو کےلیے باہر لان میں آئے اور وکلا کو بیٹھ کر بات چیت کرنے کی پیشکش کی، بعدازاں جسٹس محسن اختر کیانی وکلا رہنماؤں کو لے کر بار روم چلے گئے۔ مذاکرات کے دوران احتجاج کرنے والے وکلا نے دعویٰ کیا کہ ہمارے وکلا کو گرفتار کیا گیا ہے، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ گرفتار کیے گئے وکلا کے نام لکھ کر دیں، ایس پی کو ابھی آرڈر کرتا ہوں، آپ لوگ جب تک اپنا مؤقف ہمارے سامنے نہیں رکھیں گے ہم مسئلہ حل نہیں کر سکتے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ تُک نہیں بنتی تھی آپ لوگوں نے اندر آکر تھوڑ پھوڑ شروع کر دی، جس پر وکلا نے دوبارہ مطالبہ کیا کہ جو لوگ اغوا ہوئے انہیں بازیاب کروایا جائے، ہمارے گرفتار وکلا کو تھانہ سیکریٹریٹ میں بند کیا گیا ہے۔ بعدازاں جسٹس محسن اختر کیانی نے ایس ایس پی سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے تمام وکلا اور پرائیویٹ گرفتار لوگوں کو رہا کرنے کا حکم دیے دیا۔ اس موقع پر صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار چوہدری حسیب نے وکلا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کا جو آج نقصان ہوا ہے یہ میرا نقصان ہے، آپ لوگ اپنے مطالبات لکھ کر دیں میں ان کو حل کرواؤں گا لیکن اگر آپ اس طرح ہی شور کریں گے تو گلہ نہ کرنا کہ ہمارا صدر ہمارے ساتھ نہیں ہے۔ اس پر احتجاجی وکلا نے نعرے لگائے اور کہا کہ یہ سب ڈی سی حمزہ شفقات کا کام ہے، اسے یہاں بلایا جائے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے قائد اعظم ہال میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کے چار سے پانچ چیمبرز کا مسئلہ تھا جو بیٹھ کر حل ہو سکتا تھا، پہلے بھی کہا تھا کہ چیئرمین سی ڈی اے کے ساتھ مل بیٹھ کر مسئلہ حل کریں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جو چیمبرز کچہری کے اندر ہیں ان کو گرانا صرف بار کے صدر اور سیکریٹری کا کام ہے، جو چیمبرز عدالتوں کے پاس بنے ہیں میں ان کے حوالے سے نہیں کہہ رہا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے وکلا سے سوال کیا کہ چیف جسٹس اطہر من اللہ کے چیمبر کو کیوں توڑا گیا، آپ نے ڈپٹی کمشنر کا دفتر یا تھانہ تو نہیں توڑا، آپ نے مجھے دوہری مشکل میں ڈال دیا، پہلے وکلا کا نقصان ہوا پھر آپ نے چیف جسٹس کا چیمبر توڑ کر اپنا مزید نقصان کر لیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ وکلا نے اپنے گھر کے سربراہ کو ناراض کر دیا ہے، اب مجھے ان کو بھی راضی کرنا ہوگا، آپ نے چیف جسٹس کو بتانا تھا لیکن اگر ایسے توڑ پھوڑ کرکے بتائیں گے تو مسئلہ کیسے حل ہو گا، چیف جسٹس آپ کی طاقت ہیں آپ نے ان کے کمرے میں جا کر جو کیا اس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر کو بلا کر پوچھوں گا کہ جو چیمبر غلط طور پر گرائے گئے وہ کس کے حکم پر گرائے گئے، آپ آ کر ہمیں بتاتے تو سہی کہ آپ کے ساتھ ہوا کیا ہے، آپ نے اپنے ہی چیف جسٹس کا چیمبر توڑ دیا اور انہیں گالیاں دیں، یہ باتیں اچھی نہیں ہیں اور ان کے نتائج آئیں گے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ عدالتوں کے سامنے نہیں بنانے چاہئیں، میں انتظامیہ کے اس عمل کا دفاع نہیں کر رہا لیکن عدالتوں کے سامنے غیرقانونی چیمبرز نہیں بنانے چاہیے تھے، یہ عمل وکلا کی ہی نہیں میری بھی توہین ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ضلعی انتظامیہ اور سی ڈی کی جانب سے چیمبرز مسمار کرنے پر ہڑتال کا اعلان کردیا۔ ایسوسی ایشن کے سیکریٹری سہیل اکبر چودھری کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ وکلا کے نقصانات کا فوری طور پر ازالہ کیا جائے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے کسی بھی بینچ میں کوئی بھی وکیل پیش نہیں ہوگا، پیش ہونے والے وکیل کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button