فائز عیسی کے فیصلوں نے پاکستانی سیاست کا دھارا کیسے بدلا ؟

پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت قرار پانے والے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے اپنے آئین اور قانون کی بالادستی اور فوری انصاف کی فراہمی کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے چوتھی سماعت پر ہی آرٹیکل 63 اے بارے فیصلہ سنا کر جسٹس عمر عطا بندیال کی طرف سے دیا گیا فیصلہ اٹھا کر باہر پھینک دیا ہے۔ عمرانڈو ججز اور وکلاء کے دباو، احتجاج، دھمکیوں اور سوشل میڈیا ٹارگٹڈ کمپین کے باوجود جسٹس فائز عیسی نے آرٹیکل 63 اے بارے خلاف آئین دیا گیا بندیالی فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ جس کے بعد اب پارلیمانی لیڈر کی ہدایات کے خلاف ووٹ دینے والے رکن اسمبلی کا ووٹ تو شمار ہو گا لیکن وہ نااہل قرار پائے گا۔ اس فیصلے سے جہاں حکومت آزاد اراکین کے ووٹوں سے آئینی ترمیم کروانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے بلکہ پہلی وفاقی آئینی عدالت کے پہلے سربراہ کی حیثیت سے جسٹس قاضی فائز عیسی کی مدت ملازمت میں توسیع بھی یقینی ہو گئی ہے۔
تاہم یہ پہلا موقع نہیں کی چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے سخت دباو میں ایسا فیصلہ دیا ہو بلکہ 17 ستمبر 2023 کو چیف جسٹس کا منصب سنبھالنے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کئی ایسے فیصلے دیے جنہوں نے ملکی سیاست کا رخ ہی بدل ڈالا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے منصب سنبھالنے سے اب تک پاکستان تحریک انصاف ان کی سربراہی میں مقدمات کے ہونے والے بیشتر فیصلوں سے ناخوش نظر آئی خواہ وہ نیب ترامیم کیس ہو یا آرٹیکل 63 اے کا فیصلہ۔ لیکن اس ناراضی میں زیادہ شدت 13 جنوری 2024 کے اس فیصلے سے آئی جس کی رو سے سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کو اس کے انتخابی نشان بلے سے محروم کر دیا۔
اسی طرح 6 ستمبر 2024 کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سماعت کرنے والے 5 رکنی بینچ نے پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کو منظور کر لیا۔ اس سے پہلے سابقہ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سماعت کرنے والے بینچ نے 15 ستمبر 2023 کو یہ ترامیم کالعدم قرار دے دی تھیں جس پر وفاقی حکومت نے بعد میں نظر ثانی اپیلیں دائر کی تھیں۔
اسی طرح9 جولائی 2024 کو ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس پر چیف جسٹس، جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سماعت کرنے والے 9 رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلے میں اپنی رائے دیتے ہوئے کہا تھا کہ سابق وزیراعظم کے مقدمے میں آئینی و قانونی ضابطے پورے نہیں کیے گئے نہ ہی ذوالفقار علی بھٹو کو فیئر ٹرائل کا حق دیا گیا اور مارشل لا ادوار میں عدالتیں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر پاتیں۔
قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ نے عام انتخابات سے قبل 13 جنوری 2024 کو 12،13 گھنٹے کی سماعت کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو اس کے انتخابی نشان بلے سے اس بنا پر محروم کر دیا تھا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کرانے کا کوئی ثبوت عدالت میں جمع نہیں کرا سکی تھی۔ طویل سماعت کے دوران پی ٹی آئی کو متعدد مواقع فراہم کیے گئے کہ وہ انٹراپارٹی انتخابات کے حوالے سے کوئی ثبوت عدالت میں جمع کرائے لیکن وہ ایسا نہ کر سکی جس کے بعد مذکورہ فیصلہ سنا دیا گیا جس کے بعد سپریم کورٹ اور خاص طور پر چیف جسٹس کو پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے شدید ترین تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
22 اگست 2024 کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بینچ نے توہین مذہب کے الزام میں انڈر ٹرائل ملزم مبارک ثانی کے فیصلے میں ترمیم کی۔ 6 فروری کو مبارک ثانی کی درخواست ضمانت کے فیصلے کی وجہ سے ملک کی مذہبی جماعتوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی۔ جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کے خلاف متعدد احتجاج بھی ہوئے۔ اس مقدمے کے نظرثانی فیصلے کے خلاف بھی بہت سے احتجاج ہوئے یہاں تک کہ 22 اگست کو سپریم کورٹ نے اپنے نظر ثانی شدہ فیصلے میں بھی ترمیم کر دی۔
10 اپریل 2022 کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے قبل از وقت صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد عام انتخابات کا انعقاد خاصا مشکل نظر آتا تھا۔ یہاں تک کہ سابق چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سماعت کرنے والے بینچ کے اپریل 2023 اور بعد ازاں 14 مئی 2023 کے احکامات کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس وقت سپریم کورٹ آف پاکستان کو بتایا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس نہ تو مالی وسائل ہیں اور نہ ہی سیکورٹی کے انتظامات کیے جا سکتے ہیں۔لیکن چیف جسٹس کا منصب سنبھالتے ہی جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے الیکشن کمیشن کو احکامات جاری کیے کہ ہر صورت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جائے۔ جس کے بعد الیکشن کمیشن نے ابتدائی طور پر 12 فروری جبکہ صدر مملکت عارف علوی سے مشاورت کے بعد 8 فروری کو عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ چیف جسٹس، جسٹس قاضی فائز عیسٰی اکثر جمہوریت کے بارے میں بات کرتے ہوئے یہ ریمارکس دیتے ہیں کہ ہم نے تو 12 دنوں میں انتخابات کرائے تھے۔ عمران خان کی نیب ترامیم مقدمے میں آن لائن پیشی کے موقع پر بھی چیف جسٹس نے ان کے سامنے اس بات کا ذکر کیا۔
قاضی فائز عیسیٰ نے عمر عطا بندیال کا غلط فیصلہ درست کیسے کیا؟
12 اکتوبر 2023 کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سماعت کرنے والی فل کورٹ نے پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو منظور کر لیا۔ جبکہ اس سے قبل جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں ایک بینچ نے اس ایکٹ پر حکم امتناع جاری کر دیا تھا۔اس ایکٹ میں دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ اہم چیز یہ تھی کہ ازخود اختیارات اور بینچوں کی تشکیل سے متعلق معاملات کو چیف جسٹس کی بجائے 3 رکنی کمیٹی کے حوالے کیا گیا تھا۔
سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق مقدمے کی سماعت کے لئے چیف جسٹس، جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے جسٹس ریٹائرڈ سردار طارق مسعود کی سربراہی میں ایک بینچ تشکیل دیا جس نے 12 دسمبر 2023 کو سپریم کورٹ کے گزشتہ فیصلے کو معطل کرتے ہوئے 9 مئی کے سویلین ملزمان کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی اس شرط پر اجازت دی کہ ان مقدمات کے حتمی فیصلے جاری نہیں کیے جائیں گے۔ لیکن اس مقدمے کا اب تک حتمی طور پر فیصلہ نہیں ہو پایا۔
